Skip to main content

وَاِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَۖ

وَإِذَا
اور جب
ٱنقَلَبُوٓا۟
پلٹ کے جاتے
إِلَىٰٓ
طرف
أَهْلِهِمُ
اپنے گھر والوں کے
ٱنقَلَبُوا۟
پلٹتے تھے
فَكِهِينَ
باتیں بناتے/ خوش گپیاں کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے

احمد علی Ahmed Ali

اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتے تو ہنستے ہوئے جاتے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے (١)

٣١۔١ یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا، اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے (ابن کثیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جب اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو دل لگیاں کرتے ہوئے لوٹتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جب اپنے اہل کی طرف پلٹ کر آتے تھے تو خوش وخرم ہوتے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جب اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تو (مومنوں کی تنگ دستی اور اپنی خوش حالی کا موازنہ کر کے) اِتراتے اور دل لگی کرتے ہوئے پلٹتے تھے،