Skip to main content

وَلَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً وَّلَا يَقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ

وَلَا
اور نہیں
يُنفِقُونَ
خرچ کیا انہوں نے
نَفَقَةً
کوئی خرچ کرنا
صَغِيرَةً
چھوٹا
وَلَا
اور نہ
كَبِيرَةً
کوئی بڑا
وَلَا
اور نہیں
يَقْطَعُونَ
پار کی انہوں نے
وَادِيًا
کوئی وادی
إِلَّا
مگر
كُتِبَ
لکھا گیا
لَهُمْ
ان کے لیے
لِيَجْزِيَهُمُ
تاکہ بدلہ دے ان کو
ٱللَّهُ
اللہ
أَحْسَنَ
بہترین کا
مَا
جو
كَانُوا۟
کچھ تھے
يَعْمَلُونَ
وہ عمل کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ (راہ خدا میں) تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اٹھائیں اور (سعی جہاد میں) کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ (راہ خدا میں) تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اٹھائیں اور (سعی جہاد میں) کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں چھوٹا یا بڑا اور جو نالا طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے سب سے بہتر کاموں کا انہیں صلہ دے

احمد علی Ahmed Ali

اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ الله انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جو کچھ چھوٹا بڑا انہوں نے خرچ کیا اور جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے (١) یہ سب بھی ان کے نام لکھا گیا تاکہ اللہ تعالٰی ان کے کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔

١٢١۔١ پہاڑوں کے میدان اور پانی کی گزرگاہ کو وادی کہتے ہیں۔ مراد یہاں مطلق وادیاں اور علاقے ہیں۔ یعنی اللہ کی راہ میں تھوڑا یا زیادہ جتنا بھی خرچ کرو گے اسی طرح جتنے بھی میدان طے کرو گے، (یعنی جہاد میں تھوڑا یا زیادہ سفر کرو گے) یہ سب نیکیاں تمہارے نامہ اعمال میں درج ہونگی جن پر اللہ تعالٰی اچھا سے اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جو کچھ چھوٹا بڑا انہوں نے خرچ کیا اور جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے، یہ سب بھی ان کے نام لکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اسی طرح وہ راہِ خدا میں کوئی تھوڑا یا بہت مال خرچ نہیں کرتے اور نہ کوئی وادی (میدان) طئے کرتے ہیں مگر یہ کہ ان کے لئے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کی کار گزاریوں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ کوئی چھوٹ یا بڑا خرچ راسِ خدا میں نہیں کرتے ہیں اور نہ کسی وادی کو طے کرتے ہیں مگر یہ کہ اسے بھی ان کے حق میں لکھ دیا جاتا ہے تاکہ خدا انہیں ان کے اعمال سے بہتر جزا عطا کرسکے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور نہ یہ کہ وہ (مجاہدین) تھوڑا خرچہ کرتے ہیں اور نہ بڑا اور نہ (ہی) کسی میدان کو (راہِ خدا میں) طے کرتے ہیں مگر ان کے لئے (یہ سب صرف و سفر) لکھ دیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں (ہر اس عمل کی) بہتر جزا دے جو وہ کیا کرتے تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے
یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کرکے اجر کے بیان میں لفظ " بہ " لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیاری افعال تھے اور یہ خود ان سے صادر ہوتے ہیں۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔ اس آیت کا بہت بڑا حصہ اور اس کا کامل اجر حضرت عثمان (رض) نے سمیٹا ہے۔ غزوہ تبوک میں آپ نے دل کھول کر مال خرچ کیا۔ چناچہ مسند احمد میں ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبے میں اس سختی کے لشکر کے امداد کا ذکر فرما کر اس کی رغبت دلائی تو حضرت عثمان (رض) نے کہا کہ ایک سو اونٹ مع اپنے کجاوے پالان رسیوں وغیرہ کے میں دونگا۔ آپ نے پھر اسی کو بیان فرمایا تو پھر سے حضرت عثمان (رض) نے فرمایا ایک سو اور بھی دونگا۔ آپ ایک زینہ منبر کا اترے پھر رغبت دلائی تو حضرت عثمان (رض) نے پھر فرمایا ایک سو اور بھی آپ نے خوشی خوشی اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے فرمایا بس عثمان ! آج کے بعد کوئی عمل نہ بھی کرے تو بھی یہی کافی ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر حضرت عثمان نے آپ کے پلے میں ڈال دی۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے آج کے بعد یہ جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہ دے گا۔ بار بار یہی فرماتے رہے اس آیت کی تفسیر میں حضرت قتادہ فرماتے ہیں جس قدر انسان اپنے وطن سے اللہ کی راہ میں دور نکلتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قرب میں بڑھتا ہے۔