Skip to main content

يٰۤاَ يُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَاۤءَكُمْ وَاِخْوَانَـكُمْ اَوْلِيَاۤءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْـكُفْرَ عَلَى الْاِيْمَانِ ۗ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ

يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو !
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تَتَّخِذُوٓا۟
تم بناؤ
ءَابَآءَكُمْ
اپنے باپوں کو
وَإِخْوَٰنَكُمْ
اور اپنے بھائیوں کو
أَوْلِيَآءَ
دوست
إِنِ
اگر
ٱسْتَحَبُّوا۟
وہ ترجیح دیں۔ زیادہ محبوب رکھیں
ٱلْكُفْرَ
کفر کو
عَلَى
پر
ٱلْإِيمَٰنِۚ
ایمان (پر)
وَمَن
اور جو کوئی
يَتَوَلَّهُم
دوست بنائے گا ان کو
مِّنكُمْ
تم میں سے
فَأُو۟لَٰٓئِكَ
تو یہی لوگ ہیں
هُمُ
وہ
ٱلظَّٰلِمُونَ
جو ظالم ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں، اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں

احمد علی Ahmed Ali

اے ایمان والو! اپنے باپوں اور بھائیوں سے دوستی نہ رکھو اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کریں اور تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ کفر کو ایمان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا وہ پورا گنہگار ظالم ہے (١)۔

٢٣۔١ یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے (چونکہ اس کی اہمیت واضح ہے اس لئے) اسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے یعنی جہاد و ہجرت میں تمہارے لئے تمہارے باپوں اور بھائیوں وغیرہ کی محبت آڑے نہ آئے، کیونکہ وہ ابھی تک کافر ہیں، تو پھر وہ تمہارے دوست ہو ہی نہیں سکتے، بلکہ وہ تمہارے دشمن ہیں اگر تم ان سے محبت کا تعلق رکھو گے تو یاد رکھو تم ظالم قرار پاؤ گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وه کفر کو ایمان سے زیاده عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا وه پورا گنہگار ﻇالم ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے ایمان والو! اگر تمہارے باپ اور تمہارے بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو ترجیح دیں تو پھر ان کو اپنا رفیق و کارساز نہ بناؤ۔ اور جو کوئی ان کو رفیق و کارساز بنائے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ایمان والو خبردار اپنے باپ دادا اور بھائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو دوست رکھتے ہوں اور جو شخص بھی ایسے لوگوں کو اپنا دوست بنائے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے ایمان والو! تم اپنے باپ (دادا) اور بھائیوں کو بھی دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو محبوب رکھتے ہوں، اور تم میں سے جو شخص بھی انہیں دوست رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ترک موالات و مودت کا حکم
اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں بہت بھائی ہوں۔ بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر ترجیح دیں اور آیت میں ہے (آیت لا تجد قوما یومنوں باللہ الخ، ) اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ رسول کے دشمنوں سے دوستی کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان رکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔ بیہقی میں ہے حضرت ابو عبیدبن جراح (رض) کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع کیں آپ نے اسے ہرچند روکنا چاہا لیکن وہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ باپ بیٹوں میں جنگ شروع ہوگئی آپ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔ اس پر آیت لا تجد نازل ہوئی۔ پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر وہ رشتے دار اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہوجانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ اور رسول سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ کے عذاب کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایسے بدکاروں کو اللہ بھی راستہ نہیں دکھاتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے ساتھ جا رہے تھے حضرت عمر کا ہاتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں بجز میری اپنی جان کے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میرا نفس ہے تم میں سے کوئی مومن نہ ہوگا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ رکھے۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ کی قسم اب آپ کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ آپ نے فرمایا اے عمر ( تو مومن ہوگیا) (بخاری شریف) صحیح حدیث میں آپ کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں مسند احمد اور ابو داؤد میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم عین کی خریدو فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کرے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہوگی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔