Skip to main content

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۤءِ الْـقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۤٮِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ

ذَٰلِكَ
یہ
مِنْ
سے
أَنۢبَآءِ
خبروں میں سے ہے
ٱلْقُرَىٰ
بستوں کی
نَقُصُّهُۥ
ہم بیان کرتے ہیں اس کو
عَلَيْكَۖ
آپ پر
مِنْهَا
ان میں سے
قَآئِمٌ
کچھ قائم ہیں۔ کچھ کھڑی ہیں
وَحَصِيدٌ
اور کچھ کٹ چکی ہیں۔ اجڑ چکی ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یہ بستیوں کی خبریں ہیں کہ ہم تمہیں سناتے ہیں ان میں کوئی کھڑی ہے اور کوئی کٹ گئی

احمد علی Ahmed Ali

یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں کہ تجھے سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک باقی ہیں اورکچھ اجڑی پڑی ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بستیوں کی یہ بعض خبریں جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں ان میں سے بعض تو موجود ہیں اور بعض (کی فصلیں) کٹ گئی ہیں (١)۔

١٠٠۔١ قائم سے مراد وہ بستیاں، جو اپنی چھتوں پر قائم ہیں اور حَصِیْد بمعنی محصود سے مراد وہ بستیاں جو کٹے ہوئے کھیتوں کی طرح نابود ہوگئیں۔ یعنی جن گزشتہ بستیوں کے واقعات ہم بیان کر رہے ہیں، ان میں سے بعض تو اب بھی موجود ہیں، جن کے آثار و کھنڈرات نشان عبرت ہیں اور بعض بالکل ہی صفہ ہستی سے معدوم ہو گیئں اور ان کا وجود صرف تاریخ کے صفحات پر باقی رہ گیا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بستیوں کی یہ بعض خبریں جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں ان میں سے بعض تو موجود ہیں اور بعض (کی فصلیں) کٹ گئی ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے رسول(ص) یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔ ان (بستیوں) میں سے کچھ تو اب تک قائم ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے (بالکل اجڑ گئی ہیں)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ چند بستیوں کی خبریں ہیں جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں -ان میں سے بعض باقی رہ گئی ہیں اور بعض کٹ پٹ کر برابر ہو گئی ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(اے رسولِ معظم!) یہ (ان) بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ برقرار ہیں اور (کچھ) نیست و نابود ہوگئیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران
نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں۔ جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کرلی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آسکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کردیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا۔