Skip to main content

وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَـفًا مِّنَ الَّيْلِ ۗ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ ۗ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِيْنَ ۚ

وَأَقِمِ
اور قائم کرو
ٱلصَّلَوٰةَ
نماز
طَرَفَىِ
دونوں کناروں پر
ٱلنَّهَارِ
دن کے
وَزُلَفًا
اور کچھ حصہ
مِّنَ
سے
ٱلَّيْلِۚ
رات میں سے
إِنَّ
بیشک
ٱلْحَسَنَٰتِ
نیکیاں
يُذْهِبْنَ
لے جاتی ہیں
ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ
برائیوں کو
ذَٰلِكَ
یہ
ذِكْرَىٰ
ایک نصیحت ہے
لِلذَّٰكِرِينَ
ذکر کرنے والوں کے لیے۔ یاد رکھنے والوں کے لیے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو،

احمد علی Ahmed Ali

اور دن کے دونو ں طرف اورکچھ حصہ رات کا نماز قائم کر بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی (١) یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں (٢) یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔

١١٤۔١ دونوں سروں سے مراد بعض نے صبح اور مغرب، اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت مراد لیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نما زیں ضروری تھیں، ایک طلوع شمس سے قبل اور ایک غروب سے قبل اور رات کے پچھلے پہر میں نماز تہجد۔ پھر نماز تہجد امت سے معاف کر دی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ سے بھی ساقط کر دیا گیا۔ (ابن کثیر) واللہ اعلم۔
١١٤۔٢ جس طرح کہ احادیث میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو دور کرنے والے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے، ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' بتلاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر بڑی نہر ہو، وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے بعد اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا ' نہیں' آپ نے فرمایا ' اسی طرح پانچ نمازیں ہیں، ان کے ذریعے سے اللہ تعالٰی گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیتا ہے '۔ (مسلم بخاری)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے نبی) دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کریں بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ نصیحت ہے ان لوگوں کیلئے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور پیغمبر آپ دن کے دونوں حصّو ں میں اور رات گئے نماز قائم کریں کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں اور یہ ذک» خدا کرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور آپ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجئے۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اوقات نماز کی نشاندہی
ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔ قتادہ ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز بقول مجاہد وغیرہ مغرب و عشاء کی۔ نیکیوں کو کرنا گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ سنن میں ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جس مسلمان سے کئی گناہ ہوجائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ نے فرمایا ہے جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے، جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام اگلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ مسند میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر فرمایا میرے اس وضو کی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کیا کرتے تھے۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز ادا کرے، اس کے صبح سے لے کر اب تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، پھر عصر کی نماز پڑھے، تو ظہر سے عصر تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، پھر مغرب کی نماز ادا کرے، تو عصر سے لے کر مغرب تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ پھر عشاء کی نماز سے مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ سوتا ہے لوٹ پوٹ ہوتا ہے پھر صبح اٹھ کر نماز فجر پڑھ لینے سے عشاء سے لے کر صبح کی نماز تک کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ یہی ہیں وہ بھلائیاں جو برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں، " بتلاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے مکان کے دروازے پر ہی نہر جاری ہو اور وہ اس میں ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے جسم پر ذرا سی بھی میل باقی رہ جائے گا "؟ لوگوں کے نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " بس یہی مثال ہے۔ پانچ نمازوں کی کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خطائیں اور گناہ معاف فرما دیتا ہے "۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں " پانچوں نمازیں اور جمعہ جمعہ تک اور رمضان رمضان تک کا کفارہ ہے جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے " مسند احمد میں ہے " ہر نماز اپنے سے پہلے کی خطاؤں کو مٹا دیتی ہے۔ بخاری میں ہے کہ کسی شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا پھر حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے اس گناہ کی ندامت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیت اتری اس نے کہا کیا میرے لیے ہی یہ مخصوص ہے ؟ آپ نے جواب دیا نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے یہی حکم ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے کہا میں نے باغ میں اس عورت سے سب کچھ کیا، ہاں جماع نہیں کیا اب میں حاضر ہوں جو سزا میرے لیے آپ تجویز فرمائیں میں برداشت کرلوں گا "۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چلا گیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی اگر یہ بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کرتا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برابر اسی شخص کی طرف دیکھتے رہے پھر فرمایا۔ اسے واپس بلا لاؤ۔ جب وہ آگیا تو آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس پر حضرت معاذ نے دریافت کیا کہ " کیا یہ اسی کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے۔ مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں " اللہ تعالیٰ نے جس طرح تم میں روزیاں تقسیم فرمائیں ہیں۔ اخلاق بھی تقسیم فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے۔ جس سے خوش ہو اور اسے بھی جس سے غضبناک ہو۔ لیکن دین صرف انہیں کو دیتا ہے جن سے اسے محبت ہو۔ پس جسے دین مل جائے یقینا اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور اسکی زبان مسلمان نہ ہوجائے۔ اور بندہ ایماندار نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اسکی ایذاؤں سے بےفکر نہ ہوجائیں۔ لوگوں نے پوچھا ایذائیں کیا کیا ؟ فرمایا دھوکہ اور ظلم۔ سنو جو شخص مال حرام کمائے پھر اس میں سے خرچ کرے اللہ اسے برکت سے محروم رکھتا ہے۔ اگر وہ اس میں سے صدقہ کرے تو قبول نہیں ہوتا۔ اور جتنا کچھ اپنے بعد باقی چھوڑ مرے وہ سب اس کے لیے آگ دوزخ کا توشہ بنتا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو بھلائی سے مٹاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا کہ ایک عورت سودا لینے کے لیے آتی تھی افسوس کہ میں اسے کوٹھڑی میں لے جاکر اس سے بجز جماع کے اور ہر طرح لطف اندوز ہوا۔ اب جو اللہ کا حکم ہو وہ مجھ پر جاری کیا جائے "۔ آپ نے فرمایا شاید اس کا خاوند غیر حاضر ہوگا اس نے کہا جی ہاں یہ بات تھی۔ آپ نے فرمایا تم جاؤ حضرت ابوبکر صدیق سے یہ مسئلہ پوچھو۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بھی یہی سوال کیا پس آپ نے بھی حضرت عمر کی طرف فرمایا پھر وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت بیان کی آپ نے فرمایا شاید اس کا خاوند اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہوگا ؟ پس قرآن کریم کی یہ آیت اتری تو کہنے لگا " کیا یہ خاص میرے لیے ہی ہے "؟ تو حضرت عمر نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا نہیں اس طرح صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوسکتیں بلکہ یہ سب لوگوں کے لیے عام ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمر سچے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ وہ عورت مجھ سے ایک درہم کی کھجوریں خریدنے آئی تھی تو میں نے اسے کہا کے اندر کوٹھڑی میں اس سے بہت اچھی کھجوریں ہیں وہ اندر گئی میں نے بھی اندر جا کر اسے چوم لیا۔ پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پاس گیا تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور اپنے نفس پر پردہ ڈالے رہ۔ لیکن ابو الیسر (رض) کہتے ہیں مجھ سے صبر نہ ہوسکا۔ میں نے جا کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا افسوس تو نے ایک غازی مرد کی اس غیر حاضری میں ایسی خیانت کی۔ میں نے تو یہ سن کر اپنے آپ کو جہنمی سمجھ لیا اور میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میرا اسلام اس کے بعد کا ہوتا ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذرا سی دیر اپنی گردن جھکا لی اسی وقت حضرت جبرائیل یہ آیت لے کر اترے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے آکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی اللہ کی مقرر کردہ حد مجھ پر جاری کیجئے۔ ایک دو دفعہ اس نے یہ کہا لیکن آپ نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔ پھر جب نماز کھڑی ہوئی اور آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا تو نے اچھی طرح وضو کیا ؟ اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا بس تو تو ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ خبردار اب کوئی ایسی حرکت نہ کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ حضرت ابو عثمان کا بیان ہے کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ایک درخت کی خشک شاخ پکڑ کے اسے جھنجھوڑا تو تمام خشک پتے جھڑ گئے پھر فرمایا ابو عثمان تم پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے یہ کیوں کیا ؟ میں نے کہا ہاں جناب ارشاد ہو۔ فرمایا اسی طرح میرے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا۔ پھر فرمایا جب بندہ مسلمان اچھی طرح وضو کر کے پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی چھڑ جاتے ہیں جیسے اس خشک شاخ کے پتے جھڑ گئے "۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں برائی اگر کوئی ہوجائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کرلو کہ اسے مٹا دے۔ اور لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملا کرو۔ اور حدیث میں ہے " جب تجھ سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کرلیا کر تاکہ یہ اسے مٹا دے میں نے کہا یارسول اللہ کیا لا الہ الا اللہ پڑھنا بھی نیکی ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ تو بہترین اور افضل نیکی ہے۔ ابو یعلی میں ہے۔ " دن رات کے جس وقت میں کوئی لا الہ الا اللہ پڑھے اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی جگہ ویسی ہی نیکیاں ہوجاتی ہیں۔ اس کے راوی عثمان میں ضعف ہے۔ بزار میں ہے ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے کوئی خواہش ایسی نہیں چھوڑی جسے پوری نہ کی ہو۔ آپ نے فرمایا کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ نے فرمایا بس یہ ان سب پر غالب رہے گی۔