Skip to main content

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّةٍ يَّـنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِى الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِيْهِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ

فَلَوْلَا
پھر کیوں نہ
كَانَ
تھے
مِنَ
سے
ٱلْقُرُونِ
قوموں میں سے۔ زمانوں میں سے
مِن
سے
قَبْلِكُمْ
تم سے پہلے
أُو۟لُوا۟
والے
بَقِيَّةٍ
سمجھ والے
يَنْهَوْنَ
جو روکتے
عَنِ
سے
ٱلْفَسَادِ
فساد سے
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین میں
إِلَّا
مگر
قَلِيلًا
تھوڑے
مِّمَّنْ
ان میں سے
أَنجَيْنَا
جن کونجات دی ہم نے
مِنْهُمْۗ
ان میں سے
وَٱتَّبَعَ
اور پیروی کی
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
ظَلَمُوا۟
جنہوں نے ظلم کیا ان کی
مَآ
جو
أُتْرِفُوا۟
دولت دیے گئے
فِيهِ
اس میں
وَكَانُوا۟
اور تھے
مُجْرِمِينَ
وہ مجرم

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو کیوں نہ ہوئے تم میں سے اگلی سنگتوں (قوموں) میں ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ گنہگار تھے،

احمد علی Ahmed Ali

سو ان جماعتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو تم سے پہلے تھیں جو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا اور جن لوگو ں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہیں لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں اور وہ مجرم تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خبر لوگ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی (١) ظالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وہ گنہگار تھے (٢)

١١٦۔ ١ یعنی گزشتہ امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل منکر کو شر، منکرات اور فساد سے روکتے؟ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی، لیکن بہت تھوڑے۔ جنہیں ہم نے اس وقت نجات دے دی، جب دوسروں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔
١١٦۔٢ یعنی یہ ظالم۔ اپنے ظلم پر قائم اور اپنی مد ہوشیوں میں مست رہے حتٰی کہ عذاب نے انہیں آ لیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی، ﻇالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وه گنہگار تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ان قوموں اور نسلوں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں معدودے چند افراد کے سوا جن کو ہم نے نجات دی تھی ایسے سمجھدار اور نیکوکار لوگ کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے اور ظالم لوگ تو اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھی اور یہ سب لوگ مجرم تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو تمہارے پہلے والے زمانوں اور نسلوں میں ایسے صاحبان عقل کیوں نہیں پیدا ہوئے ہیں جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے علاوہ ان چند افراد کے جنہیں ہم نے نجات دے دی اور ظالم تو اپنے عیش ہی کے پیچھے پڑے رہے اور یہ سب کے سب مجرم تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے صاحبانِ فضل و خرد کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد انگیزی سے روکتے بجز ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے جنہیں ہم نے نجات دے دی، اور ظالموں نے عیش و عشرت (کے اسی راستے) کی پیروی کی جس میں وہ پڑے ہوئے تھے اور وہ (عادی) مجرم تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ۔ یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گذشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں۔ یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا ( وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ\010\04 ) 3 ۔ آل عمران ;104) بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیے۔ الخ، ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بیخبر ی میں ان پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں۔