Skip to main content

وَقَالَ لِلَّذِىْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِىْ عِنْدَ رَبِّكَۖ فَاَنْسٰٮهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِى السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ

waqāla
وَقَالَ
And he said
اور کہا
lilladhī
لِلَّذِى
to the one whom
اس کے لیے۔ اس کو
ẓanna
ظَنَّ
he thought
کہ اس نے گمان کیا تھا
annahu
أَنَّهُۥ
that he
کہ بیشک وہ
nājin
نَاجٍ
(would be) saved
نجات پانے والا ہے
min'humā
مِّنْهُمَا
of both of them
ان دونوں میں سے
udh'kur'nī
ٱذْكُرْنِى
"Mention me
ذکر کرنا میرا
ʿinda
عِندَ
to
پاس
rabbika
رَبِّكَ
your master"
اپنے آقا کے
fa-ansāhu
فَأَنسَىٰهُ
But made him forget
تو بھلا دیا اس کو
l-shayṭānu
ٱلشَّيْطَٰنُ
the Shaitaan
شیطان نے
dhik'ra
ذِكْرَ
(the) mention
ذکر کرنا
rabbihi
رَبِّهِۦ
(to) his master
اپنے آقا کو
falabitha
فَلَبِثَ
so he remained
تو ٹھہرا رہا
فِى
in
میں
l-sij'ni
ٱلسِّجْنِ
the prison
قید خانے
biḍ'ʿa
بِضْعَ
several
چند
sinīna
سِنِينَ
years
سال

طاہر القادری:

اور یوسف (علیہ السلام) نے اس شخص سے کہا جسے ان دونوں میں سے رہائی پانے والا سمجھا کہ اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کر دینا (شاید اسے یاد آجائے کہ ایک اور بے گناہ بھی قید میں ہے) مگر شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے پاس (وہ) ذکر کرنا بھلا دیا نتیجۃً یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک قید خانہ میں ٹھہرے رہے،

English Sahih:

And he said to the one whom he knew would go free, "Mention me before your master." But Satan made him forget the mention [to] his master, and he [i.e., Joseph] remained in prison several years.

1 Abul A'ala Maududi

پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسفؑ نے کہا کہ "اپنے رب (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا" مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب (شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسفؑ کئی سال قید خانے میں پڑا رہا