Skip to main content

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُۗ قَالَ اَنَاۡ يُوْسُفُ وَهٰذَاۤ اَخِىْ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَاۗ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ

قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
أَءِنَّكَ
کیا بیشک تو
لَأَنتَ
التبہ تو ہی
يُوسُفُۖ
یوسف ہے
قَالَ
اس نے کہا
أَنَا۠
میں
يُوسُفُ
یوسف ہوں
وَهَٰذَآ
اور یہ
أَخِىۖ
میرا بھائی ہے
قَدْ
تحقیق
مَنَّ
احسان کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
عَلَيْنَآۖ
ہم پر
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
مَن
جو
يَتَّقِ
تقویٰ اختیار کرے
وَيَصْبِرْ
اور صبر کرے
فَإِنَّ
تو یقیناً
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يُضِيعُ
ضائع کرتا
أَجْرَ
اجر
ٱلْمُحْسِنِينَ
محسنین کا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا

احمد علی Ahmed Ali

کہا کیا تو ہی یوسف ہے کہا میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے الله نے ہم پر احسان کیابے شک جو ڈرتا ہے اور صبر کتا ہے تو الله بھی نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے (١) جواب دیا کہ ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر فضل و کرم کیا بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالٰی کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا (٢)۔

٩٠۔١ بھائیوں نے جب عزیز مصر کی زبان سے اس یوسف علیہ السلام کا تذکرہ سنا، جسے انہوں نے بچپن میں کنعان کے ایک تاریک کنویں میں پھینک دیا تھا، تو وہ حیران بھی ہوئے اور غور سے دیکھنے پر مجبور بھی کہ کہیں ہم سے ہم کلام بادشاہ، یوسف علیہ السلام ہی تو نہیں؟ ورنہ یوسف علیہ السلام کے قصے کا اسے کس طرح علم ہو سکتا ہے؟ چنانچہ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تو یوسف علیہ السلام ہی تو نہیں؟
٩٠۔٢ سوال کے جواب میں اقرار و اعتراف کے ساتھ، اللہ کا احسان کا ذکر اور صبر و تقویٰ کے نتائج حسنہ بھی بیان کر کے بتلا دیا کہ تم نے مجھے ہلاک کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ لیکن یہ اللہ تعالٰی کا فضل و احسان ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ کنوئیں سے نجات عطا فرمائی، بلکہ مصر کی فرمانروائی بھی عطا فرما دی اور یہ نتیجہ ہے اس صبر اور تقویٰ کا جس کی توفیق اللہ تعالٰی نے مجھے دی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے۔ جواب دیا کہ ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر فضل وکرم کیا، بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اس پر وہ لوگ چونکے اور کہا کیا تم یوسف ہو؟ کہا ہاں میں یوسف (ع) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان کیا بے شک جو پرہیزگاری اختیار کرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے (وہ بالآخر ضرور کامیاب ہوتا ہے کیونکہ) اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں?انہوں نے کہا کہ بیشک میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے -اللہ نے ہمارے اوپر احسان کیا ہے اور جو کوئی بھی تقوٰی اور صبر اختیار کرتاہے اللہ نیک عمل کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ بولے: کیا واقعی تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے فرمایا: (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے بیشک اﷲ نے ہم پر احسان فرمایا ہے، یقیناً جو شخص اﷲ سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو بیشک اﷲ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا،