Skip to main content

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۤٮِٕكَةِ اِنِّىْ خَالـِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ

وَإِذْ
اور جب
قَالَ
فرمایا
رَبُّكَ
تیرے رب نے
لِلْمَلَٰٓئِكَةِ
فرشتوں کو
إِنِّى
بیشک میں
خَٰلِقٌۢ
پیدا کرنے والا ہوں
بَشَرًا
ایک انسان
مِّن
سے
صَلْصَٰلٍ
کھنکتی مٹی (سے)
مِّنْ
سے
حَمَإٍ
سیارہ گارے
مَّسْنُونٍ
سڑے ہوئے سے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کےسڑے ہوئے گارے کی ہو گی پیدا کرنے والا ہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے واﻻ ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(وہ وقت یاد کرو) جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ سے کہا تھا کہ میں سیاہی مائل نرم کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ابلیس لعین کا انکار
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا، لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے واللہ اعلم۔