Skip to main content

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْۙ قَالُـوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَۙ

وَإِذَا
اور جب
قِيلَ
کہا جاتا ہے
لَهُم
ان سے
مَّاذَآ
کیا کچھ
أَنزَلَ
اتارا
رَبُّكُمْۙ
تمہارے رب نے
قَالُوٓا۟
وہ کہتے ہیں
أَسَٰطِيرُ
کہانیاں ہیں
ٱلْأَوَّلِينَ
پہلوں کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے، تو کہتے ہیں "اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے، تو کہتے ہیں "اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب ان سے کہا جائے تمہارے رب نے کیا اتارا کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں

احمد علی Ahmed Ali

اور جب ان سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے کہتے ہیں پہلے لوگوں کے قصے ہیں تاکہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائيں اورکچھ ان کے بوجھ جنہیں بے علمی سے گمراہ کرتے ہیں خبردار برا بوجھ ہے جواٹھاتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ان سے جب دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں (١)۔

٢٤۔١ یعنی اعراض اور استہزا کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ مکذبین جواب دیتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے تو کچھ بھی نہیں اتارا، اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں جو پڑھ کر سناتا ہے، وہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو کہیں سے سن کر بیان کرتا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ان سے جب دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جب ان سے کہا (پوچھا) جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں (کچھ بھی نہیں) بس اگلے لوگوں کی (فرسودہ) داستانیں ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ سب پچھلے لوگوں کے افسانے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ (تو) وہ کہتے ہیں: اگلی قوموں کے جھوٹے قصے (اتارے ہیں)،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قرآن حکیم کے ارشادات کو دیرینہ کہنا کفر کی علامت ہے
ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہیں کہ سوائے گزرے ہوئے افسانوں کے کیا رکھا ہے ؟ وہی لکھ لئے ہیں اور صبح شام دوہرا رہے ہیں پس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر افترا باندھتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی اس کے خلاف اور کچھ کہنے لگتے ہیں۔ دراصل کسی بات پر جم ہی نہیں سکتے اور یہ بہت بری دلیل ہے ان کے تمام اقوال کے باطل ہونے کی۔ ہر ایک جو حق سے ہٹ جائے وہ یونہی مارا مارا بہکا بہکا پھرتا ہے کبھی حضور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر کہتے، کبھی شاعر، کبھی کا ھن، کبھی مجنون۔ پھر ان کے بڈھے گرو ولید بن مغیرہ مخزومی نے انہیں بڑے غور و خوض کے بعد کہا کہ سب مل کر اس کلام کو موثر جادو کہا کرو۔ ان کے اس قول کا نتیجہ بد ہوگا اور ہم نے انہیں اس راہ پر اس لئے لگا دیا ہے کہ یہ اپنے پورے گناہوں کے ساتھ ان کے بھی کچھ گناہ اپنے اوپر لادیں جو ان کے مقلد ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے ہدایت کی دعوت دینے والے کو اپنے اجر کے ساتھ اپنے متبع لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے لیکن ان کے اجر کم نہیں ہوتے اور برائی کی طرف بلانے والوں کو ان کی ماننے والوں کے گناہ بھی ملتے ہیں لیکن ماننے والوں کے گناہ کم ہو کر نہیں۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ) 29 ۔ العنکبوت ;13) یہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ہی ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے افترا کا سوال ان سے قیامت کے دن ہونا ضروری ہے۔ پس ماننے والوں کے بوجھ گو ان کی گردنوں پر ہیں لیکن وہ بھی ہلکے نہیں ہوں گے۔