Skip to main content

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَـكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا

أَمْ
یا
أَمِنتُمْ
بےخوف ہوگئے
أَن
کہ
يُعِيدَكُمْ
وہ لوٹائے تم کو
فِيهِ
اس میں
تَارَةً
مرتبہ
أُخْرَىٰ
دوسری
فَيُرْسِلَ
پھر بھیجے
عَلَيْكُمْ
تم پر
قَاصِفًا
گرجنے والی/ توڑنے والی
مِّنَ
میں سے
ٱلرِّيحِ
ہوا
فَيُغْرِقَكُم
پھر غرق کردے تم کو
بِمَا
بوجہ اس کے
كَفَرْتُمْۙ
جو ناشکری کی تم نے
ثُمَّ
پھر
لَا
نہ
تَجِدُوا۟
تم پاؤ
لَكُمْ
اپنے لئے
عَلَيْنَا
ہمارے مقابلے میں
بِهِۦ
ساتھ اس کے
تَبِيعًا
کوئی تابع/ کوئی یپیچھا کرنے والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور کیا تمہیں اِس کا کوئی اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور کیا تمہیں اِس کا کوئی اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یا اس سے نڈر ہوئے کہ تمہیں دوبارہ دریا میں لے جائے پھر تم پر جہاز توڑنے والی آندھی بھیجے تو تم کو تمہارے کفر کے سبب ڈبو دے پھر اپنے لیے کوئی ایسا نہ پاؤ کہ اس پر ہمارا پیچھا کرے

احمد علی Ahmed Ali

یا تم اس بات سے بالکل نڈر ہو گئے ہو کہ وہ دوبارہ تمہیں پھر دریا میں لوٹا لائے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے پھر تمہاری ناشکری سے تمہیں غرق کر دے پھر اپنی طرف سے ہم پر کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہ پاؤ

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالٰی پھر تمہیں دوبارہ دریا کے سفر میں لے آئے اور تم پر تیز و تند ہواؤں کے جھونکے بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعث تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اپنے لئے ہم پر اس کا (پیچھا) کرنے والا کسی کو نہ پاؤ گے (١)۔

٦٩۔١ قَاصِف ایسی تند تیز سمندری ہوا جو کشتیوں کو توڑ دے اور انہیں ڈوب دے تَبِیْعًا انتقام لینے والا، پیچھا کرنے والا، یعنی تمہارے ڈوب جانے کے بعد ہم سے پوچھے کہ تو نے ہمارے بندوں کو کیوں ڈبویا؟ مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ سمندر سے بخریت نکلنے کے بعد، کیا تمہیں دوبارہ سمندر میں جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی؟ اور وہاں وہ تمہیں بھنور میں نہیں پھنسا سکتا؟۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یا (اس سے) بےخوف ہو کر تم دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا نہ پاؤ

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ پھر تمہیں دوباره دریا کے سفر میں لے آئے اور تم پر تیز وتند ہواؤں کے جھونکے بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعﺚ تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اپنے لئے ہم پر اس کا دعویٰ (پیچھا) کرنے واﻻ کسی کو نہ پاؤ گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا تم اس بات سے بے فکر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اسی (سمندر) میں پہنچائے اور پھر تم پر طوفانی ہوا چلا کر تمہیں ناشکرے پن کی پاداش میں غرق کر دے۔ پھر تم اس کی ہم سے بازپرس کرنے والا کوئی نہیں پاؤگے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یا اس بات سے محفوظ ہوگئے ہو کہ وہ دوبارہ تمہیں سمندر میں لے جائے اور پھر تیز آندھیوں کو بھیج کر تمہارے کفر کی بنا پر تمہیں غرق کردے اور اس کے بعد کوئی ایسا نہ پاؤ جو ہمارے حکم کا پیچھا کرسکے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

یا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اس (سمندر) میں پلٹا کر لے جائے اور تم پر کشتیاں توڑ دینے والی آندھی بھیج دے پھر تمہیں اس کفر کے باعث جو تم کرتے تھے (سمندر میں) غرق کر دے پھر تم اپنے لئے اس (ڈبونے) پر ہم سے مؤاخذہ کرنے والا کوئی نہیں پاؤ گے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

سمندر ہو یا صحرا ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے
ارشاد ہو رہا ہے کہ اے منکرو سمندر میں تم میری توحید کے قائل ہوئے باہر آ کر پھر انکار کر گئے تو کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ پھر تم دوبارہ دریائی سفر کرو اور باد تند کے تھپیڑے تمہاری کشتی کو ڈگمگا دیں اور آخر ڈبو دیں اور تمہیں تمہارے کفر کا مزہ آجائے پھر تو کوئی مددگار کھڑا نہ ہو نہ کوئی ایسا مل سکے کہ ہم سے تمہارا بدلہ لے۔ ہمارا پیچھا کوئی نہیں کرسکتا، کس کی مجال کہ ہمارے فعل پر انگلی اٹھائے۔