Skip to main content

قَالَ اِنْ سَاَ لْـتُكَ عَنْ شَىْءٍۢ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِىْ ۚ قَدْ بَلَـغْتَ مِنْ لَّدُنِّىْ عُذْرًا

قَالَ
کہا
إِن
اگر
سَأَلْتُكَ
میں سوال کروں تجھ سے
عَن
کا
شَىْءٍۭ
کسی چیز کا
بَعْدَهَا
اس کے بعد
فَلَا
تو نہ
تُصَٰحِبْنِىۖ
تو ساتھ رکھنا مجھ کو
قَدْ
تحقیق
بَلَغْتَ
پہنچا تجھ کو
مِن
سے
لَّدُنِّى
میری طرف (سے)
عُذْرًا
عذر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

موسیٰؑ نے کہا " اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

موسیٰؑ نے کہا " اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا،

احمد علی Ahmed Ali

کہا اگراس کے بعدمیں آپ سے کسی چیز کا سوال کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھیں آپ میری طرف سے معذوری تک پہنچ جائیں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

موسٰی (علیہ السلام) نے جواب دیا اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً آپ میری طرف سے (حد) عذر (١) کو پہنچ چکے۔

٧٦۔١ یعنی اب اگر سوال کروں تو اپنے ساتھ رکھنے کے شرف سے مجھے محروم کر دیں، مجھے کوئی احتراز نہیں ہوگا، اس لئے کہ آپ کے پاس معقول عذر ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً آپ میری طرف سے (حد) عذر کو پہنچ چکے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

موسیٰ (ع) نے کہا (اچھا) اگر اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ بےشک آپ میری طرف سے عذر کی حد تک پہنچ گئے ہیں (اب آپ معذور ہیں)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

موسٰی نے کہا کہ اس کے بعد میں کسی بات کا سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں کہ آپ میری طرف سے منزل عذر تک پہنچ چکے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کی نسبت سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا، بیشک میری طرف سے آپ حدِ عذر کو پہنچ گئے ہیں،