(ذوالقرنین نے) کہا: یہ میرے رب کی جانب سے رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدۂ (قیامت قریب) آئے گا تو وہ اس دیوار کو (گرا کر) ہموار کردے گا (دیوار ریزہ ریزہ ہوجائے گی)، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے،
English Sahih:
[Dhul-Qarnayn] said, "This is a mercy from my Lord; but when the promise of my Lord comes [i.e., approaches], He will make it level, and ever is the promise of my Lord true."
1 Abul A'ala Maududi
ذوالقرنین نے کہا " یہ میرے رب کی رحمت ہے مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئیگا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے"
2 Ahmed Raza Khan
کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے
3 Ahmed Ali
کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے ریزہ ریزہ کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے
4 Ahsanul Bayan
کہا یہ سب میرے رب کی مہربانی ہے ہاں جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے زمین بوس کر دے گا (١) بیشک میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔
٩٨۔١ یعنی یہ دیوار اگرچہ بڑی مضبوط بنا دی گئی جس کے اوپر چڑھ کر اس میں سوراخ کر کے یاجوج ماجوج کا ادھر آنا ممکن نہیں ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آ جائے گا، تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ مثلًا ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیوار کے تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا (صحیح بخاری، نمبر ٣٣٤٦ و مسلم، نمبر ٢٢٠٨) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جب اللہ کی مشیت ان کے باہر نکلنے کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل انشا اللہ اسکو کھو دیں گے اور پھر دوسرے دن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ زمین میں فساد پھیلائیں گے حتٰی کے لوگ قلعہ بند ہو جائیں گے، یہ آسمانوں پر تیر پھینکیں گے جو خون آلودہ لوٹیں گے، بالآخر اللہ تعالٰی ان کی گدیوں پر ایسا کیڑا پیدا فرما دے گا جس سے ان کی ہلاکت واقع ہو جائے گی۔ صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی روایت میں وضاحت ہے کہ یاجوج و ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا۔ جس سے ان حضرات کی تردید ہو جاتی ہے، جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ، یا منگول ترک جن میں چنگیز بھی تھا یا روسی یا چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہو چکا۔ یا مغربی قومیں ان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں کیونکہ ان کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل وغارت گری اور زرو وفساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلمانوں میں نہیں ہوگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ اجل بن جائیں گے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔ جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے
6 Muhammad Junagarhi
کہا یہ صرف میرے رب کی مہربانی ہے ہاں جب میرے رب کا وعده آئے گا تو اسے زمین بوس کر دے گا، بیشک میرے رب کا وعده سچا اور حق ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
ذوالقرنین نے کہا یہ میرے پرورگار کی رحمت ہے تو جب میرے پروردگار کے وعدے کے وقت آجائے گا تو وہ اسے ڈھا کر زمین کے برابر کر دے گا۔ اور میرے پروردگار کا وعدہ برحق ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
ذوالقرنین نے کہا کہ یہ پروردگار کی ایک رحمت ہے اس کے بعد جب وعدہ الٰہی آجائے گا تو اس کو ریزہ ریزہ کردے گا کہ وعدہ رب بہرحال برحق ہے
9 Tafsir Jalalayn
بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے
10 Tafsir as-Saadi
اس نے کہا : ﴿هَـٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي﴾ ” یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی“ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انہیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہوجاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے۔۔۔. جب اتنی دور سے ملکہ سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا۔۔۔. اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا : ﴿ هَـٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ﴾ )النمل : 27 ؍40 (” یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں۔“ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا : ﴿إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي﴾ )لقصص : 28 ؍78) ” یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔ “ ﴿فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي ﴾ ” پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا“ یعنی یاجوج و ماجوج کے خروج کا وعدہ ﴿جَعَلَهُ دَكَّاءَ﴾ ” اس کو برابر کر دے گا۔“ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کردے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہوجائے گی۔ ﴿وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا﴾ ” اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ “
11 Mufti Taqi Usmani
zulqarnain ney kaha : yeh meray rab ki rehmat hai ( kay uss ney aesi deewar bananey ki tofiq di ) phir meray rab ney jiss waqt ka wada kiya hai , jab woh waqt aaye ga toh woh iss ( deewar ) ko daha ker zameen kay barabar kerday ga , aur meray rab ka wada bilkul sacha hai .