Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْکُمْ وَيُعَلِّمُکُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۗۛ

كَمَآ
جیسا کہ
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
فِيكُمْ
تم میں
رَسُولًا
ایک رسول
مِّنكُمْ
تم میں سے
يَتْلُوا۟
وہ تلاوت کرتا ہے
عَلَيْكُمْ
تم پر
ءَايَٰتِنَا
ہماری آیات
وَيُزَكِّيكُمْ
وہ پاک کرتا ہے تمہیں
وَيُعَلِّمُكُمُ
اور وہ سکھاتا ہے تم کو
ٱلْكِتَٰبَ
کتاب
وَٱلْحِكْمَةَ
اور حکمت
وَيُعَلِّمُكُم
اور سکھاتا ہے تمہیں
مَّا
جو
لَمْ
نہیں
تَكُونُوا۟
تھے تم
تَعْلَمُونَ
تم جانتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جس طرح (تمہیں اِس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ) میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے، جو تم نہ جانتے تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جس طرح (تمہیں اِس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ) میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے، جو تم نہ جانتے تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا،

احمد علی Ahmed Ali

جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جس (١) طرح ہم نے تم میں تمہیں سے رسول بھیجا اور ہماری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت اور وہ چیزیں سکھاتا ہے جس سے تم بےعلم تھے۔

١٥١۔١ کما (جس طرح) کا تعلق ما قبل کلام سے ہے یعنی یہ تمام نعمت اور توفیق ہدایت اس طرح ملی جس طرح اس سے پہلے تمہارے میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارا تزکیہ کرتا، کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا اور جن کا تمہیں علم نہیں وہ سکھاتا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جس طرح ہم نے تم میں تمہی میں سے رسول بھیجا جو ہماری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب وحکمت اور وه چیزیں سکھاتا ہے جن سے تم بےعلم تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے مسلمانو!) یہ تحویل قبلہ تم پر ایسا احسان ہے جس طرح ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا ہے۔ جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہیں (بدعقیدتی، بدعملی اور بداخلاقی کی نجاست و کثافت) سے پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جس طرح ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر ہماری آیات کی تلاوت کرتاہے تمہیں پاک و پاکیزہ بنا تا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور وہ سب کچھ بتاتاہے جو تم نہیں جانتے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسًا و قلبًا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اَسرارِ معرفت و حقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ کی یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے !
یہاں اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری جنس کا ایک نبی مبعوث فرمایا، جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفس کی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن و حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے پس آپ کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا جنہیں صدیوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا جن پر مدتوں سے بھلائی کا پر تو بھی نہیں پڑا تھا دنیا کی زبردست علامہ ہستیوں کے استاد بن گئے، وہ علم میں گہرے تکلف میں تھوڑے دلوں کے پاک اور زبان کے سچے بن گئے، دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بجائے خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی تصدیق کا ایک شاہد و عدل ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) 3 ۔ آل عمران ;164) یعنی ایسے اولوالعزم پیغمبر کی بعثت مومنوں پر اللہ کا ایک زبردست احسان ہے اس نعمت کو قدر نہ کرنے والوں کو قرآن کہتا ہے آیت ( اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) 14 ۔ ابراہیم ;28) کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کے بدلے کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا یہاں اللہ کی نعمت سے مراد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اسی لئے اس آیت میں بھی اپنی نعمت کا ذکر فرما کر لوگوں کو اپنی یاد اور اپنے شکر کا حکم دیا کہ جس طرح میں نے احسان تم پر کیا تم بھی میرے ذکر اور میرے شکر سے غفلت نہ کرو۔