Skip to main content

وَمَثَلُ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِىْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۤءً وَّنِدَاۤءً ۗ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْـىٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ

وَمَثَلُ
اور مثال
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کی
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
كَمَثَلِ
مانند مثال
ٱلَّذِى
اس شخص کے ہے
يَنْعِقُ
جو پکارتا ہے
بِمَا
اس کو جو
لَا
نہیں
يَسْمَعُ
سنتا
إِلَّا
مگر
دُعَآءً
پکار
وَنِدَآءًۚ
اور آواز
صُمٌّۢ
بہرے ہیں
بُكْمٌ
گونگے ہیں
عُمْىٌ
اندھے ہیں
فَهُمْ
تو وہ
لَا
نہیں
يَعْقِلُونَ
عقل رکھتے۔ سمجھتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ جنہوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کر دیا ہے اِن کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ جنہوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کر دیا ہے اِن کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں

احمد علی Ahmed Ali

اوران کی مثال جو کافر ہیں اس شخص کی سی ہے جو اس چیز کو پکارتا ہے جو سوائے پکار اور آواز کے نہیں سنتی وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس وہ نہیں سمجھتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں، انہیں عقل نہیں (١)۔

١٧١۔١ ان کافروں کی مثال جنہوں نے تقلید آباء میں اپنی عقل و فہم کو معطل کر رکھا ہے ان جانوروں کی طرح ہے جن کو چرواہا بلاتا اور پکارتا ہے وہ جانور آواز تو سنتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں کیوں بلایا اور پکارا جا رہا ہے؟ اسی طرح یہ آباؤ اجداد کی تقلید کرنے والے بھی بہرے ہیں کہ حق کی آواز نہیں سنتے، گونگے ہیں کہ ان کی زبان سے حق نہیں نکلتا، اندھے ہیں کہ حق کو دیکھنے سے عاجز ہیں اور بےعقل ہیں کہ دعوت حق اور دعوت توحید و سنت کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہاں دعا سے قریب کی آواز اور ندا سے دور کی آواز مراد ہے

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کی مثال دعوت حق دینے میں اس شخص (چرواہے) کی سی ہے جو ایسے (جانور) کو پکارنے میں اپنا گلہ پھاڑے (چیخ و پکار مچائے) جو چیخ و پکار کی آواز کے سوا کچھ سنتا ہی نہیں ہے۔ (یہ کافر) ایسے بہرے، گونگے اور اندھے ہیں کہ عقل سے کچھ کام ہی نہیں لیتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان کے پکارنے والے کی مثال اس شخص کی ہے جو جانوروں کو آواز دے اور جانور پکار اور آواز کے علاوہ کچھ نہ سنیں اور نہ سمجھیں. یہ کفار بہرےً گونگے اور اندھے ہیں. انہیں عقل سے سروکار نہیںہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ان کافروں (کو ہدایت کی طرف بلانے) کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو کسی ایسے (جانور) کو پکارے جو سوائے پکار اور آواز کے کچھ نہیں سنتا، یہ لوگ بہرے، گونگے، اندھے ہیں سو انہیں کوئی سمجھ نہیں،