Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

وَاِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُۗ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ

وَاِذَا
اور جب
قِيْلَ
کہا جاتا ہے
لَهُ
واسطے اس کے
اتَّقِ
ڈرو
اللّٰهَ
اللہ سے
اَخَذَتْهُ
پکڑ لیتی ہے اس کو
الْعِزَّةُ
عزت۔ وقار
بِالْاِثْمِ
ساتھ گناہ کے
فَحَسْبُهٗ
تو کافی ہے اس کو
جَهَنَّمُ ۭ
جہنم
وَلَبِئْسَ
اور التبہ کتنا برا ہے۔ یقینا بہت ہی برا ہے
الْمِهَادُ
ٹھکانہ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

ابوالاعلی مودودی

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

احمد رضا خان

اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے،

احمد علی

اور جب اسسے کہا جاتا ہے کہ الله سے ڈر تو شیخی میں آ کر اور بھی گناہ کرتا ہے سو اس کے لیے دوزخ کافی ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے

جالندہری

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

محمد جوناگڑھی

اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اور تعصب اسے گناه پر آماده کر دیتا ہے، ایسے کے لئے بس جہنم ہی ہے اور یقیناً وه بد ترین جگہ ہے

محمد حسین نجفی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا (کی حکم عدولی) سے ڈرو تو ان کی (ظاہری) عزت اور غرورِ نفس ان کو گناہ پر ابھارتا اور اصرار کراتا ہے ایسے (بدبخت) لوگوں کے لیے دوزخ کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

علامہ جوادی

جب ان سے کہا جاتاہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو تو غرور گناہ کے آڑے آجاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے جہّنم کافی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے

طاہر القادری

اور جب اسے اس (ظلم و فساد پر) کہا جائے کہ اﷲ سے ڈرو تو اس کا غرور اسے مزید گناہ پر اکساتا ہے، پس اس کے لئے جہنم کافی ہے اور وہ یقیناً برا ٹھکانا ہے،