Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّأْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِىْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۤٮِٕکَةُ وَقُضِىَ الْاَمْرُۗ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ

ھَلْ
کیا۔ پس
يَنْظُرُوْنَ
وہ انتظار کر رہے۔ وہ دیکھ رہے
اِلَّآ
مگر
اَنْ
(اس بات کا) یہ کہ
يَّاْتِيَهُمُ
آجائے ان کے پاس
اللّٰهُ
اللہ
فِيْ ظُلَلٍ
سائبانوں میں
مِّنَ
سے
الْغَمَامِ
بادلوں
وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ
اور فرشتے
وَقُضِيَ
اور پورا کردیا جائے
الْاَمْرُ ۭ
معاملہ۔ فیصلہ
وَاِلَى
اور طرف
اللّٰهِ
اللہ کے
تُرْجَعُ
لوٹائے جاتے ہیں
الْاُمُوْرُ
سب کام

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(اِن ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں، تو) کیا اب وہ اِس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے سا تھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟ آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں

ابوالاعلی مودودی

(اِن ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں، تو) کیا اب وہ اِس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے سا تھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟ آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں

احمد رضا خان

کاہے کے انتظار میں ہیں مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،

احمد علی

کیا وہ انتظار کرتے ہیں کہ الله ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آ موجود ہو اور فرشتے بھی آجائیں اور کام پورا ہو جائے اور سب باتیں الله ہی کے اختیار میں ہیں

جالندہری

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

محمد جوناگڑھی

کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے، اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں

محمد حسین نجفی

کیا یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ خود اللہ اور فرشتے سفید بادلوں کے سایہ میں ان کے پاس آئیں اور ہر بات کا فیصلہ ہو جائے آخر سب امور کی بازگشت تو خدا ہی کی طرف ہے۔

علامہ جوادی

یہ لوگ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ابر کے سایہ کے پیچھے عذابِ خدا یا ملائکہ آجائیں اور ہر امر کا فیصلہ ہوجائے اور سارے امور کی بازگشت تو خدا ہی کی طرف ہے

طاہر القادری

کیا وہ اسی بات کے منتظر ہیں کہ بادل کے سائبانوں میں اﷲ (کا عذاب) آجائے اور فرشتے بھی (نیچے اتر آئیں) اور (سارا) قصہ تمام ہو جائے، تو سارے کام اﷲ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے،

تفسير ابن كثير

تذکرہ شفاعت
اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کو دھمکا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت ہی کا انتظار ہے جس دن حق کے ساتھ فیصلے ہوجائیں گے اور ہر شخص اپنے کئے کو بھگت لے گا، جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا) 89 ۔ الفجر ;21) یعنی جب زمین کے ریزے ریزے اور تیرا رب خود آجائے گا اور فرشتوں کی صفیں کی صفیں بندھ جائیں گی اور جہنم بھی لا کر کھڑی کردی جائے گی اس دن یہ لوگ عبرت و نصیحت حاصل کریں گے لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ اور جگہ فرمایا آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ) 6 ۔ الانعام ;158) یعنی کیا انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود اللہ تعالیٰ آئے یا اس کی بعض نشانیان آجائیں اگر یہ ہوگیا تو پھر انہیں نہ ایمان نفع دے نہ نیک اعمال کا وقت رہے، امام ابن جریر (رح) نے یہاں پر ایک لمبی حدیث لکھی ہے جس میں صور وغیرہ کا مفصل بیان ہے جس کے راوی حضرت ابوہریرہ مسند وغیرہ میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ جب لوگ گھبرا جائیں گے تو انبیاء (علیہم السلام) سے شفاعت طلب کریں گے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچیں گے آپ جواب دیں گے میں تیار ہوں میں ہی اس کا اہل ہوں، پھر آپ جائیں گے اور عرش تلے سجدے میں گرپڑیں گے اور اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں گے کہ وہ بندوں کا فیصلہ کرنے کے لئے تشریف لائے اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور بادلوں کے سائبان میں آئے گا دنیا کا آسمان ٹوٹ جائے گا اور اس کے تمام فرشتے آجائیں گے پھر دوسرا بھی پھٹ جائے گا اور اس کے فرشتے بھی آجائیں گے اسی طرح ساتوں آسمان شق ہوجائیں گے اور ان کے فرشتے بھی آجائیں گے، پھر اللہ کا عرش اترے گا اور بزرگ تر فرشتے نازل ہوں گے اور خود وہ جبار اللہ جل شانہ تشریف لائے گا فرشتے سب کے سب تسبیح خوانی میں مشغول ہوں گے ان کی تسبیح اس وقت یہ ہوگی۔ دعا (سبحان ذی الملک والملکوت، سبحان ذی العزۃ والجبروت سبحان الحی الذی لا یموت، سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت، سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح، سبوح قدوس، سبحان ربنا الاعلیٰ سبحان ذی السلطان والعطمۃ، سبحانہ سبحانہ ابدا ابدا) ،۔ حافظ ابوبکر بن مردویہ بھی اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث لائے ہیں جن میں غراب ہے واللہ اعلم، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا جس کا وقت مقرر ہے وہ سب کے سب کھڑے ہوں گے آنکھیں پتھرائی ہوئی اور اوپر کو لگی ہوئی ہوں گی ہر ایک کو فیصلہ کا انتظار ہوگا اللہ تعالیٰ ابر کے سائبان میں عرش سے کرسی پر نزول فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جس وقت وہ اترے گا تو مخلوق اور اس کے درمیان ستر ہزار پردے ہوں گے نور کی چکا چوند کے اور پانی کے اور پانی سے وہ آوازیں آرہی ہوں گی جس سے دل ہل جائیں، زبیر بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ بادل کا سائبان یا قوت کا جڑا ہوا اور جوہر وزبرجد والا ہوگا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ بادل معمولی بادل نہیں بلکہ یہ وہ بادل ہے جو بنی اسرائیل کے سروں پر وادی تیہ میں تھا، ابو العالیہ فرماتے ہیں فرشتے بھی بادل کے سائے میں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ جس میں چاہے آئے گا، چناچہ بعض قرأتوں میں یوں بھی ہے آیت (ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) 2 ۔ البقرۃ ;210) جیسے اور جگہ ہے آیت (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا) 25 ۔ الفرقان ;25) ۔ یعنی اس دن آسمان بادل سمیت پھٹے گا اور فرشتے اتر آئیں گے۔