Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْاۤ اِلٰى بَارِٮِٕكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْۗ ذٰ لِكُمْ خَيْرٌ لَّـكُمْ عِنْدَ بَارِٮِٕكُمْۗ فَتَابَ عَلَيْكُمْۗ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ

وَإِذْ
اور جب
قَالَ
کہا
مُوسَىٰ
موسیٰ نے
لِقَوْمِهِۦ
اپنی قوم سے
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
إِنَّكُمْ
بیشک تم نے
ظَلَمْتُمْ
ظلم کیا تم نے
أَنفُسَكُم
اپنے نفسوں پر / اپنی جانوں پر
بِٱتِّخَاذِكُمُ
بوجہ بنانے کے تمہارے
ٱلْعِجْلَ
بچھڑے کو (معبود)
فَتُوبُوٓا۟
پس توبہ کرو
إِلَىٰ
طرف
بَارِئِكُمْ
اپنے پیدا کرنے والے کے
فَٱقْتُلُوٓا۟
تو قتل کرو
أَنفُسَكُمْ
اپنے نفسوں کو
ذَٰلِكُمْ
یہ
خَيْرٌ
بہتر ہے
لَّكُمْ
تمہارے لئے
عِندَ
نزدیک
بَارِئِكُمْ
تمہارے پیدا کرنے والے کے
فَتَابَ
پھر وہ مہربان ہوا
عَلَيْكُمْۚ
تم پر
إِنَّهُۥ
بیشک
هُوَ
وہی ہے
ٱلتَّوَّابُ
جو بہت توبہ قبول کرنے والا ہے
ٱلرَّحِيمُ
جو بار بار رحم کرنے والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یاد کرو جب موسیٰؑ (یہ نعمت لیتے ہوئے پلٹا، تو اُس) نے اپنی قوم سے کہا کہ "لوگو، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر سخت ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو، اسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے" اُس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یاد کرو جب موسیٰؑ (یہ نعمت لیتے ہوئے پلٹا، تو اُس) نے اپنی قوم سے کہا کہ "لوگو، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر سخت ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو، اسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے" اُس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کردو یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان -

احمد علی Ahmed Ali

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم بے شک تم نے بچھڑا بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا سو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو پھر اپنے آپ کو قتل کرو تمہارے لیے تمہارے خالق کے نزدیک یہی بہتر ہے پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی بے شک وہی بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے آپ کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ تعالٰی کے نزدیک اسی میں ہے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی، وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے۔ (١)

٥٤۔١ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شرک پر متنبہ فرمایا تو پھر انہیں توبہ کا احساس ہوا توبہ کا طریقہ قتل تجویز کیا گیا (فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ) 2۔ البقرۃ;54) (اپنے آپ کو آپس میں قتل کرو) کی تفسیریں کی گئی ہیں ایک یہ کہ سب کو دو صفوں میں کر دیا گیا اور انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا دوسری یہ کہ ارتکاب شرک کرنے والوں کو کھڑا کر دیا گیا جو اس سے محفوظ رہے تھے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ انہوں نے قتل کیا۔ مقتولین کی تعداد ستر ہزار بیان کی گئی ہے (ابن کثیر و فتح القدیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جب (حضرت موسیٰ) ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا ہے، اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی میں ہے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی، وه توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور (وہ وقت یاد کرو) جب (موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا) اے میری قوم! یقینا تم نے گو سالہ کو (معبود) بنا کر اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا ہے۔ لہٰذا تم اپنے خالق کی بارگاہ میں (اس طرح) توبہ کرو۔ کہ اپنی جانوں کو قتل کرو۔ یہی (طریقہ کار) تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس صورت میں اس نے تمہاری توبہ قبول کی۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور وہ وقت بھی یاد کرو جب موسٰی علیھ السّلام نے اپنی قوم سے کہا کہ تم نے گو سالہ بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے. اب تم خالق کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اپنے نفسوں کو قتل کر ڈالو کہ یہی تمہارے حق میں خیر ہے. پھر خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بیشک تم نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا کر اپنی جانوں پر (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اب اپنے پیدا فرمانے والے (حقیقی رب) کے حضور توبہ کرو، پس (آپس میں) ایک دوسرے کو قتل کر ڈالو (اس طرح کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی اور اپنے دین پر قائم رہے ہیں وہ بچھڑے کی پرستش کر کے دین سے پھر جانے والوں کو سزا کے طور پر قتل کر دیں)، یہی (عمل) تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک بہترین (توبہ) ہے، پھر اس نے تمہاری توبہ قبول فرما لی، یقینا وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

سخت ترین سزا
یہاں ان کی توبہ کا طریقہ بیان ہو رہا ہے انہوں نے بچھڑے کو پوجا اور اس کی محبت نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے سے ہوش آیا اور نادم ہوئے اور اپنی گمراہی کا یقین کر کے توبہ استغفار کرنے لگے تب انہیں حکم ہوا کہ تم آپس میں قتل کرو۔ چناچہ انہوں نے یہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور قاتل و مقتول دونوں کو بخش دیا۔ اس کا پورا بیان سورة طہ کی تفسیر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ فرمان کہ اپنے خالق سے توبہ کرو بتارہا ہے کہ اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا کہ تمہیں پیدا اللہ تعالیٰ کرے اور تم پوجو غیروں کو۔ ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں حکم الٰہی سنایا اور جن جن لوگوں نے بچھڑا پوجا تھا انہیں بٹھا دیا اور دوسرے لوگ کھڑے رہ گئے اور قتل کرنا شروع کیا قدرتی طور پر اندھیرا چھایا ہوا تھا جب اندھیرا ہٹا تو انہیں روک دیا گیا۔ شمار کرنے پر معلوم ہوا کہ ستر ہزار آدمی قتل ہوچکے ہیں اور ساری قوم کی توبہ قبول ہوئی۔ یہ ایک سخت فرمان تھا جس کی ان لوگوں نے تعمیل کی اور اپنوں اور غیروں کو یکساں تہہ تیغ کیا یہاں تک کہ رحمت الٰہی نے انہیں بخشا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ اب بس کرو۔ مقتول کو شہید کا اجر دیا قاتل کی اور باقی ماندہ تمام لوگوں کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں جہاد کا ثواب دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون نے جب اسی طرح اپنی قوم کا قتل دیکھا تو دعا کرنی شروع کی کہ اللہ اب تو بنی اسرائیل مٹ جائیں گے چناچہ انہیں معاف فرما دیا گیا اور پروردگار عالم نے فرمایا کہ اے میرے پیغمبر مقتولوں کا غم نہ کرو وہ ہمارے پاس شہیدوں کے درجہ میں ہیں وہ یہاں زندہ ہیں اور غذا پا رہے ہیں اب آپ کو اور آپ کی قوم کو صبر آیا اور عورتوں اور بچوں کی گریہ وزاری موقوف ہوئی۔ تلواریں نیزے چھرے اور جھریاں چلنی بند ہوئیں آپس میں باپ بیٹوں بھائیوں، بھائیوں میں قتل و خون موقوف ہوا اور اللہ تو اب و رحیم نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔