Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَۚ فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَـكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ

ثُمَّ
پھر
تَوَلَّيْتُمْ
منہ پھیرلیا تم نے
مِّنْ
سے
بَعْدِ
بعد
ذٰلِكَ
اس کے
فَلَوْلَا
تو اگر نہیں
فَضْلُ
فضل ہوتا
اللّٰهِ
اللہ کا
عَلَيْكُمْ
اوپر تمہارے
وَ
اور
رَحْمَتُهٗ
البتہ ہوتے تم
لَكُنْتُمْ
خسارہ پانے والوں میں سے
مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ
خسارہ پانے والوں میں سے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

مگر اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھِر گئے اس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے

ابوالاعلی مودودی

مگر اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھِر گئے اس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے

احمد رضا خان

پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹوٹے والوں میں ہو جاتے -

احمد علی

پھر تم اس کے بعد پھر گئے سو اگر تم پر الله کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم تباہ ہوجاتے

جالندہری

تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے

محمد جوناگڑھی

لیکن تم اس کے بعد بھی پھر گئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان والے ہوجاتے

محمد حسین نجفی

پھر تم اس (پختہ عہد) کے بعد پھر گئے۔ سو اگر تم پر اللہ کا خاص فضل و کرم اور اس کی خاص رحمت نہ ہوتی تو تم سخت خسارہ (گھاٹا) اٹھانے والوں میں ہو جاتے۔

علامہ جوادی

پھر تم لوگوں نے انحراف کیا کہ اگر فضل هخدا اور رحمت الٰہی شامل حال نہ ہوتی تو تم خسارہ والوں میں سے ہوجاتے

طاہر القادری

پھر اس (عہد اور تنبیہ) کے بعد بھی تم نے روگردانی کی، پس اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم یقینا تباہ ہو جاتے،