Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰکِيْنِ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ ۗ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْکُمْ وَاَنْـتُمْ مُّعْرِضُوْنَ

وَ
اور
اِذْ
لیا ہم نے
اَخَذْنَا
پکا عہد
مِيْثَاقَ
بنی اسرائیل سے
بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ
نہ
لَا
تم عبادت کرو گے
تَعْبُدُوْنَ
مگر
اِلَّا
اللہ کی
اللّٰهَ
اور
وَ
ساتھ والدین کے
بِالْوَالِدَيْنِ
احسان (کروگے)
اِحْسَانًا
اور
وَّ
رشتہ داروں
ذِي الْقُرْبٰى
اور
وَ
یتیموں
الْيَتٰمٰى
اور
وَ
مسکینوں (کے ساتھ بھی)
الْمَسٰكِيْنِ
اور
وَ
کہو (گے)
قُوْلُوْا
لوگوں سے
لِلنَّاسِ
خوبصورت (بات)
حُسْـنًا
اور
وَّ
قائم کرو (گے)
اَقِيْمُوا
نماز کو
الصَّلٰوةَ
اور
وَ
ادا کرو (گے)
اٰتُوا
زکوٰۃ کو
الزَّكٰوةَ
پھر
ثُمَّ
منہ موڑ لیا تم نے
تَوَلَّيْتُمْ
مگر
اِلَّا
بہت کم
قَلِيْلًا
تم میں سے
مِّنْكُمْ
اور
وَ
تم (ہو ہی)
اَنْتُمْ
اعراض کرنے والے
مُّعْرِضُوْنَ
اعراض کرنے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا، مگر تھوڑے آدمیوں کے سو ا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھر ے ہوئے ہو

ابوالاعلی مودودی

یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا، مگر تھوڑے آدمیوں کے سو ا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھر ے ہوئے ہو

احمد رضا خان

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو، اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر تم پھِر گئے مگر تم میں کے تھوڑے اور تم رد گردان ہو-

احمد علی

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں سے اچھا سلوک کرنا اور لوگوں سے اچھی بات کہنا اور نماز قائم کرنا اور زکوةٰ دینا پھر سوائے چند آدمیوں کے تم میں سے سب منہ موڑ کر پھر گئے

جالندہری

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے

محمد جوناگڑھی

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعده لیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اسی طرح قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا، نمازیں قائم رکھنا اور زکوٰة دیتے رہا کرنا، لیکن تھوڑے سے لوگوں کے علاوه تم سب پھر گئے اور منھ موڑ لیا

محمد حسین نجفی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔ ماں باپ سے (خصوصاً) رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے (عموماً) نیک سلوک کرنا اور سب سے اچھی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا۔ مگر تم میں سے تھوڑے آدمیوں کے سوا باقی سب اس (عہد) سے پھر گئے۔ اور تم ہو ہی روگردانی کرنے والے۔

علامہ جوادی

اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خبردار خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپً قرابتداروںً یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا. لوگوں سے اچھی باتیں کرناً نماز قائم کرناًزکوِٰ ادا کرنا لیکن اس کے بعد تم میں سے چند کے علاوہ سب منحرف ہوگئے اور تم لوگ تو بس اعراض کرنے والے ہی ہو

طاہر القادری

اور (یاد کرو) جب ہم نے اولادِ یعقوب سے پختہ وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا (کسی اور کی) عبادت نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھی (بھلائی کرنا) اور عام لوگوں سے (بھی نرمی اور خوش خُلقی کے ساتھ) نیکی کی بات کہنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا، پھر تم میں سے چند لوگوں کے سوا سارے (اس عہد سے) رُوگرداں ہو گئے اور تم (حق سے) گریز ہی کرنے والے ہو،

تفسير ابن كثير

معبودان باطل سے بچو
بنی اسرائیل کو جو حکم احکام دیئے گئے اور ان سے جن چیزوں پر عہد لیا گیا ان کا ذکر ہو رہا ہے ان کی عہد شکنی کا ذکر ہو رہا ہے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ توحید کو تسلیم کریں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں، یہ حکم نہ صرف بنو اسرائیل کو ہی دیا گیا بلکہ تمام مخلوق کو دیا گیا ہے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) 21 ۔ الانبیآء ;25) یعنی تمام رسولوں کو ہم نے یہی حکم دیا کہ وہ اعلان کردیں کہ قابل عبادت میرے سوا اور کوئی نہیں سب لوگ میری ہی عبادت کریں اور فرمایا آیت (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) 16 ۔ النحل ;36) یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اسکے سوا دوسرے معبودان باطل سے بچو۔ سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور اسکے تمام حقوق میں بڑا حق یہی ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور دوسرے کسی کی عبادت نہ کی جائے اب حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا بیان ہو رہا ہے بندوں کے حقوق میں ماں باپ کا حق سب سے بڑا ہے اسی لئے پہلے ان کا حق بیان کیا گیا ہے ارشاد ہے آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ) 31 ۔ لقمان ;14) میرا شکر کرو اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مان اور جگہ فرمایا آیت (وقضی ربک الخ تیرے رب کا فیصلہ ہے کہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کیساتھ احسان اور سلوک کرتے رہو۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! کونسا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا پوچھا اس کے بعد فرمایا ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرنا پوچھا پھر کونسا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایک اور صحیح حدیث میں ہے کسی نے پوچھا حضور میں کس کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کروں ؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پوچھا پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پھر پوچھا کس کے ساتھ ؟ فرمایا ! اپنے باپ کے ساتھ اور قریب والے کے ساتھ پھر اور قریب والے کے ساتھ آیت میں لا تعبدون فرمایا اس لئے کہ اس میں بہ نسبت لاتعبدوا کے مبالغہ زیادہ ہے " طلب " یہ خبر معنی میں ہے بعض لوگوں نے ان لا تعبدوا ان لا تعبدوا بھی پڑھا ہے ابی اور ابن مسعود سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ لا تعبدوا پڑھتے تھے یتیم ان چھوٹے بچوں کو کہتے ہیں جن کا سرپرست آپ نہ ہو۔ مسکین ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنی اور اپنے بال بچوں کی پرورش اور دیگر ضروریات پوری طرح مہیا نہ کرسکتے ہوں اس کی مزید تشریح انشاء اللہ العظیم سورة نساء کی اس معنی کی آیات میں آئے گی پھر فرمایا لوگوں کو اچھی باتیں کہا کرو۔ یعنی ان کے ساتھ نرم کلامی اور کشادہ پیشانی کے ساتھ پیش آیا کرو بھلی باتوں کا حکم اور برائی سے روکا کرو۔ حضرت حسن فرماتے ہیں بھلائی کا حکم دو ۔ برائی سے روکو۔ بردباری، درگزر اور خطاؤں کی معافی کو اپنا شعاربنا لو یہی اچھا خلق ہے جسے اختیار کرنا چاہئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اچھی چیز کو حقیر نہ سمجھو اگر اور کچھ نہ ہو سکے تو اپنے بھائیوں سے ہنستے ہوئے چہرے سے ملاقات تو کرلیا کرو (مسند احمد) پس قرآن کریم نے پہلے اپنی عبادت کا حکم دیا پھر لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے۔ پھر اچھی باتیں کہنے کا۔ پھر بعض اہم چیزوں کا ذکر بھی کردیا نماز پڑھو زکوٰۃ دو ۔ پھر خبر دی کہ ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور عموماً نافرمان بن گئے مگر تھوڑے سے پابند عہد رہے۔ اس امت کو بھی یہی حکم دیا گیا فرمایا آیت (وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا) 4 ۔ النسآء ;36) اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ ماں باپ کے ساتھ رشتہ داروں کے ساتھ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ، قرابت دار پڑوسیوں کے ساتھ، اجنبی پڑوسیوں کے ساتھ، ہم مشرب مسلک کے ساتھ مسافروں کے ساتھ لونڈی غلاموں کے ساتھ، سلوک احسان اور بھلائی کیا کرو۔ یاد رکھو تکبر اور فخر کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا الحمد اللہ کہ یہ امت بہ نسبت اور امتوں کے ان فرمانوں کے ماننے میں اور ان پر عمل پیرا ہونے میں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی اسد بن وداعہ سے مروی ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کو سلام کیا کرتے تھے اور یہ دلیل دیتے تھے کہ فرمان باری ہے آیت (وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْـنًا وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ) 2 ۔ البقرۃ ;83) لیکن یہ اثر غریب ہے اور حدیث کے خلاف ہے حدیث میں صاف موجود ہے کہ یہود نصاریٰ کو ابتداً سلام علیک نہ کیا کرو۔ واللہ اعلم۔