Skip to main content

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّ صَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا

وَكَذَٰلِكَ
اور اسی طرح
أَنزَلْنَٰهُ
نازل کیا ہم نے اس کو
قُرْءَانًا
قرآن
عَرَبِيًّا
عربی (بنا کر)
وَصَرَّفْنَا
اور پھیر پھیر کر لائے ہم
فِيهِ
اس میں
مِنَ
سے
ٱلْوَعِيدِ
تنبیہات میں سے۔ ڈراؤں میں سے
لَعَلَّهُمْ
تاکہ وہ
يَتَّقُونَ
تقوی اختیار کریں
أَوْ
یا
يُحْدِثُ
پیدا کردے
لَهُمْ
ان کے لیے
ذِكْرًا
ذکر۔ غور و فکر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اے محمدؐ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اے محمدؐ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے

احمد علی Ahmed Ali

اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں سنائیں تاکہ وہ ڈریں یا ان میں سمجھ پیدا کر دے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اس طرح ہم نے تجھ پر عربی میں قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیزگار بن (١) جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے (٢)

١١٣۔١ یعنی گناہ، محرمات اور فواحش کے ارتکاب سے باز آ جائیں۔
١١٣۔٢ یعنی اطاعت اور قرب حاصل کرنے کا شوق یا پچھلی امتوں کے حالات و واقعات سے عبرت حاصل کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا کر دے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کردے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اسی طرح ہم نے تجھ پر عربی قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیز گار بن جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اس طرح ہم نے اس (کتاب) کو عربی زبان میں قرآن بنا کر نازل کیا ہے اس میں وعید و تہدید بیان کی ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا وہ ان میں نصیحت پذیری پیدا کر دے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اسی طرح ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے عذاب کا تذکرہ کیا ہے کہ شاید یہ لوگ پرہیز گار بن جائیں یا قرآن ان کے اندر کسی طرح کی عبرت پیدا کردے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اسی طرح ہم نے اس (آخری وحی) کو عربی زبان میں (بشکلِ) قرآن اتارا ہے اور ہم نے اس میں (عذاب سے) ڈرانے کی باتیں بار بار (مختلف طریقوں سے) بیان کی ہیں تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا (یہ قرآن) ان (کے دلوں) میں یادِ (آخرت یا قبولِ نصیحت کا جذبہ) پیدا کردے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

وعدہ حق وعید حق۔
چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لئے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو اطاعت کی طرف جھک جائیں نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔ پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے وہ خود حق ہے اس کا وعدہ حق ہے اس کی وعید حق ہے اس کے رسول حق ہیں جنت دوزخ حق ہے اس کے سب فرمان اور اس کی طرف سے جو ہو سراسرعدل وحق ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ آگأہ کئے بغیر کسی کو سزا دے وہ سب کے عذر کاٹ دیتا ہے کسی کے شبہ کو باقی نہیں رکھتا حق کو کھول دیتا ہے پھر سرکشوں کو عدل کے ساتھ سزا دیتا ہے۔ جب ہماری وحی اتر رہی ہو اس وقت تم ہمارے کلام کو پڑھنے میں جلدی نہ کرو پہلے پوری طرح سن لیا کرو۔ جیسے سورة قیامہ میں فرمایا ( لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ 16؀ۭ ) 75 ۔ القیامة ;16) یعنی جلدی کر کے بھول جانے کے خوف سے وحی اترتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اسے نہ پڑھنے لگو۔ اس کا آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے تلاوت کرانا ہمارے ذمے ہے۔ جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس پڑھنے کے تابع ہوجائیں پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ پہلے آپ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے جس میں آپ کو دقت ہوتی تھی جب یہ آیت اتری آپ اس مشقت سے چھوٹ گئے اور اطمینان ہوگیا کہ وحی الٰہی جتنی نازل ہوگی مجھے یاد ہوجایا کرے گی ایک حرف بھی نہ بھولوں گا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہوچکا۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ فرشتے کی قرأت چپکے سے سنو جب وہ پڑھ چکے پھر تم پڑھو اور مجھ سے اپنے علم کی زیادتی کی دعا کیا کرو۔ چناچہ آپ نے دعا کی اللہ نے قبول کی اور انتقال تک علم میں بڑھتے ہی رہے۔ حدیث میں ہے کہ وحی برابر پے درپے آتی رہی یہاں تک کہ جس دن آپ فوت ہونے کو تھے اس دن بھی بکثرت وحی اتری۔ ابن ماجہ کی حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعا منقول ہے (اللہم انفعنی بما علمتنی وعلمنی ما ینفعنی وزدنی علما والحمدللہ علی کل حال) ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں واعوذ باللہ من حال اہل النار۔