Skip to main content

اِذْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا يُوْحٰۤى ۙ

إِذْ
جب
أَوْحَيْنَآ
وحی کی تھی ہم نے۔ اشارہ کیا تھا ہم نے
إِلَىٰٓ
طرف
أُمِّكَ
تیری ماں کے
مَا
جو
يُوحَىٰٓ
وحی کی جاتی ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا

احمد علی Ahmed Ali

جب ہم نے تیری ماں کے دل میں بات ڈال دی تھی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب کہ ہم نے تیری ماں کو وہ الہام کیا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جبکہ ہم نے تیری ماں کو وه الہام کیا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جب ہم نے تمہاری ماں کی طرف وحی بھیجی جو بھیجنا تھی (جو اب بذریعہ وحی تمہیں بتائی جا رہی ہے)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جب ہم نے تمہاری ماں کی طرف ایک خاص وحی کی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جب ہم نے تمہاری والدہ کے دل میں وہ بات ڈال دی جو ڈالی گئی تھی،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرأیل نے مار ڈالا ہے فرعون نے حکم جاری کردیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہوجانے کی صورت میں اسے بھی قتل کردو۔ پولیس نے ہرچند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اس کا یہ بار بار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا۔ اور سرکاری سپاہی کو اس واقعہ کی خبر کردی فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کردو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر کردی۔ اے ابن جبیر یہ ہے پانچواں فتنہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کر کے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔ یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں ؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا آپ بہت قوی آدمی تھی سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کردیا۔ یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آگئیں ؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کردیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کرلیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آگیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ یہ قوی اور امین ہیں۔ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لئے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ میں عورت ہوں پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے واللہ آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتادیا کرنا یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی محبت دل میں سما گئی۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمانے لگے میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کردوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے انشاء اللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چناچہ یہ معاملہ طے ہوگیا اور اللہ کے پیغمبر (علیہ السلام) نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔ حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا پھر جب میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لئے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لڑکی لئے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔ ادھر حضرت ہارون (علیہ السلام) کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔ فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آگئی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہوگیا آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کرسکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لئے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آجائیں گے چناچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہوگئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جع ہوگئے تو انہوں نے پوچھا کہ اسکا جادو کسی قسم کا ہے ؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے انہوں نے کہا اس میں کیا ہے ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کرسکے۔ لیکن ہمارے لئے انعام مقرر ہوجانا چاہئے فرعون نے ان سے قول وقرار کیا کہ انعام کیسا ؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چناچہ انہوں نے اعلان کردیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہوگا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ سے کہا کہ لو اب بتاؤ تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں ؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتدا کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔ اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئے آپ نے ڈالدی وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھا بن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہوگئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے جادو میں یہ بات کہاں ؟ چناچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کردیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں تسلیم ہے۔ ہم اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ فرعون اور فرعونیوں کی کمر ٹوٹ گئی، رسوا ہوئے، منہ کالے پڑگئے، ذلت کے ساتھ خاموش ہوگئے۔ خون کے گھونٹ پی کر چپ ہوگئے۔ ادھر یہ ہو رہا تھا ادھر فرعون کی بیوی صاحبہ (رض) جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے سگے بچے کی طرح پالا تھا، بےقرار بیٹھی تھیں اور اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھیں کہ اللہ ذولجلال اپنے نبی کو غالب کرے فرعونیوں نے بھی اس حال کو دیکھا تھا لیکن انہوں نے خیال کیا کہ اپنے خاوند کی طرفداری میں ان کا یہ حال ہے یہاں سے ناکام واپس جانے پر فرعون نے بےایمانی پر کمر باندھ لی۔ اللہ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ جب کبھی کوئی پکڑ آجاتی یہ گھبرا کر بلکہ گڑ گڑا کر وعدہ کرتا کہ اچھا اس مصیبت کے ہٹ جانے پر میں بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا لیکن جب عذاب ہٹ جاتا پھر منکر بن کر سرکشی پر آجاتا اور کہتا تیرا رب اس کے سوا کچھ اور بھی کرسکتا ہے ؟ چناچہ ان پر طوفان آیا۔ ٹڈیاں آئیں، جوئیں آئیں، مینڈک آئے، خون آیا اور بھی بہت سی صاف صاف نشانیاں دیکھیں۔ جاں آفت آئی، ڈرا، وعدہ کیا۔ جہاں وہ ٹل گئی مکر گیا اور اکڑ گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ آپ راتوں رات انہیں لے کر روانہ ہوگئے۔ صبح فرعونیوں نے دیکھا کہ رات کو سارے بنی اسرائیل چلے گئے ہیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا اس نے سارے ملک میں احکام بھیج کر ہر طرف سے فوجیں جمع کیں اور بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ راستے میں جو دریا پڑتا تھا اس کی طرف اللہ کی وحی پہنچی کہ تجھ پر جب میرے بندے موسیٰ (علیہ السلام) کی لکڑی پڑے تو تو انہیں راستہ دے دینا۔ تجھ میں بارہ راستے ہوجائیں کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے الگ الگ اپنی راہ لگ جائیں۔ پھر جب یہ پار ہوجائیں اور فرعونی آجائیں تو تو مل جانا اور ان میں سے ایک کو بھی بےڈبوئے نہ چھوڑنا۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب دریا پر پہنچے دیکھا کہ وہ موجیں مار رہا ہے پانی چڑھا ہوا ہے شور اٹھ رہا ہے گھبرا گئے اور لکڑی مارنا بھول گئے دریا بےقرار یوں تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے کسی حصے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لکڑی مار دیں اور اسے خبر نہ ہو تو عذاب الٰہی میں بہ سبب اللہ کی نافرمانی کے پھنس جائے۔ اتنے میں فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے سر پر جا پہنچا یہ گھبرا گئے اور کہنے لگے لو موسیٰ ہم تو پکڑ لئے گئے اب آپ وہ کیجئے جو اللہ کا آپ کو حکم ہے یقیناً نہ تو اللہ جھوٹا ہے نہ آپ۔ آپ نے فرمایا مجھے سے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ جب تو دریا پر پہنچے گا وہ تجھے بارہ راستے دے دے گا تو گزر جانا۔ اسی وقت یاد آیا کہ لکڑی مارنے کا حکم ہوا ہے۔ چناچہ لکڑی ماری ادھر فرعونی لشکر کا اول حصہ بنی اسرائیل کے آخری حصے کے پاس آچکا تھا کہ دریا خشک ہوگیا اور اس میں راستے نمایاں ہوگئے اور آپ اپنی قوم کو لئے ہوئے اس میں بےخطر اتر گئے اور با آرام جانے لگے جب یہ نکل چکے فرعونی سپاہ ان کے تعاقب میں دریا میں اتری جب یہ سارا لشکر اس میں اتر گیا تو فرمان الٰہی کے مطابق دریا رواں ہوگیا اور سب کو بیک وقت غرق کردیا بنو اسرایئل اس واقعہ کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ اے رسول اللہ ہمیں کیا خبر کہ فرعون بھی مرا یا نہیں ؟ آپ نے دعا کی اور دریا نے فرعون کی بےجان لاش کو کنارے پر پھینک دیا۔ جسے دیکھ کر انہیں یقین کامل ہوگیا کہ ان کا دشمن مع اپنے لاؤ لشکر کے تباہ ہوگیا۔
فرعون سے نجات کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانیاں۔
اب یہاں سے آگے چلے تو دیکھا کہ ایک قوم اپنے بتوں کی مجاور بن کر بیٹھی ہے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ہمارے لئے بھی کوئی معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراض ہو کر کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو الخ، تم نے اتنی بڑی عبرتناک نشانیاں دیکھیں ایسے اہم واقعات سنے لیکن اب تک نہ عبرت ہے نہ غیرت۔ یہاں سے آگے بڑھ کر ایک منزل پر آپ نے قیام کیا اور یہاں اپنا خلیفہ اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بنا کر قوم سے فرمایا کہ میری واپسی تک ان کی فرمانبرداری کرتے رہنا میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں۔ تیس دن کا اس کا وعدہ ہے۔ چناچہ قوم سے الگ ہو کر وعدے کی جگہ پہنچ کر تیس دن رات کے روزے پورے کر کے اللہ سے باتیں کرنے کا دھیان پیدا ہوا لیکن یہ سمجھ کر کہ روزوں کی وجہ سے منہ سے بھبکا نکل رہا ہوگا تھوڑی سی گھاس لے کر آپ نے چبا لی۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود علم کے دریافت فرمایا کہ ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے جواب دیا صرف اس لئے کہ تجھ سے باتیں کرتے وقت میرا منہ خوشبودار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تجھے معلوم نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک و عنبر کی خوشبو سے زیادہ اچھی لگتی ہے اب تو دس روزے اور رکھ پھر مجھ سے کلام کرنا۔ آپ نے روزے رکھنا شروع کردیئے۔ قوم پر تیس دن جب گزر گئے اور حسب وعدہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ لوٹے تو وہ غمگین رہنے لگے حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان میں خطبہ کیا اور فرمایا کہ جب تم مصر سے چلے تھے تو قبطیوں کی رقمیں تم میں سے بعض پر ادھار تھیں اسی طرح ان کی امانتیں بھی تہارے پاس رہ گئی ہیں یہ ہم انہیں واپس تو کرنے کے نہیں لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ ہماری ملکیت میں رہیں اس لئے تم ایک گہرا گڑھا کھودو اور جو اسباب برتن بھانڈا زیور سونا چاندی وغیرہ ان کا تمہارے پاس ہے سب اس میں ڈالو پھر آگ لگا دو ۔ چناچہ یہی کیا گیا ان کے ساتھ سامری نامی ایک شخص تھا یہ گائے بچھڑے پوجنے والوں میں سے تھا بنی اسرائیل میں سے نہ تھا لیکن بوجہ پڑوسی ہونے کے اور فرعون کی قوم میں سے نہ ہونے کے یہ بھی ان کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا اس نے کسی نشان سے کچھ مٹھی میں اٹھا لیا تھا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا تو بھی اسے ڈال دے اس نے جواب دیا کہ یہ تو اس کے اثر سے ہے جو تمہیں دریا سے پار کرا لے گیا۔ خیر میں اسے ڈال دیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس سے وہ بن جائے جو میں چاہتا ہوں۔ آپ نے دعا کی اور اس نے اپنی مٹھی میں جو تھا اسے ڈال دیا اور کہا میں چاہتا ہوں اس کا ایک بچھڑا بن جائے۔ قدرت الٰہی سے اس گڑھے میں جو تھا وہ ایک بچھڑے کی صورت میں ہوگیا جو اندر سے کھوکھلا تھا اس میں روح نہ تھی لیکن ہوا اس کے پیچھے کے سوراخ سے جا کر منہ سے نکلتی تھی اس سے ایک آواز پیدا ہوتی تھی۔ بنو اسرائیل نے پوچھا سامری یہ کیا ہے ؟ اس بےایمان نے کہا یہی تمہارا سب کا رب ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھول گئے اور دوسری جگہ رب کی تلاش میں چلے گئے۔