Skip to main content

اَنِ اقْذِفِيْهِ فِى التَّابُوْتِ فَاقْذِفِيْهِ فِى الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّىْ وَعَدُوٌّ لَّهٗ ۗ وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَـبَّةً مِّنِّىْ ۚ وَلِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِىْ ۘ

أَنِ
کہ
ٱقْذِفِيهِ
ڈال دے اس کو
فِى
میں
ٱلتَّابُوتِ
تابوت (میں)
فَٱقْذِفِيهِ
پھر ڈال دے اس کو
فِى
میں
ٱلْيَمِّ
دریا (میں)
فَلْيُلْقِهِ
پھر ضرور ڈال دے گا اس کو
ٱلْيَمُّ
دریا
بِٱلسَّاحِلِ
ساحل پر
يَأْخُذْهُ
لے لے گا اس کو۔ پکڑ لے گا اس کو
عَدُوٌّ
دشمن
لِّى
میرا
وَعَدُوٌّ
اور دشمن
لَّهُۥۚ
اس کا
وَأَلْقَيْتُ
اور میں نے ڈال دی
عَلَيْكَ
تجھ پر
مَحَبَّةً
محبت
مِّنِّى
اپنی طرف سے
وَلِتُصْنَعَ
اور تاکہ تو پرورش کیا جائے
عَلَىٰ
پر
عَيْنِىٓ
میری نگاہ پر۔ میری نگرانی میں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے، و دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو

احمد علی Ahmed Ali

کہ اسے صندوق میں ڈال دے پھر اسے دریا میں ڈال دے پر اسے دریا کنارے پر ڈال دے گا اسے میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھا لے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور تاکہ تو میرے سامنے پرورش پائے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہ تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا (١) اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت و مقبولیت تجھ پر ڈال دی (٢) تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے (٣) کی جائے۔

٣٩۔١ مراد فرعون ہے جو اللہ کا بھی دشمن اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی دشمن تھا۔ یعنی لکڑی کا وہ تابوت تیرتا ہواجب شاہی محل کے کنارے پہنچا تو اسے باہر نکال کر دیکھا گیا، تو اس میں ایک معصوم بچہ تھا، فرعون نے اپنی بیوی کی خواہش پر پرورش کے لئے شاہی محل میں رکھ لیا۔
٣٩۔٢ یعنی فرعون کے دل میں ڈال دی یا عام لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی۔
٣٩۔٣ چنانچہ اللہ کی قدرت کا اور اس کی حفاظت و نگہبانی کا کمال اور کرشمہ دیکھئے کہ جس بچے کی خاطر، فرعون بیشمار بچوں کو قتل کروا چکا، تاکہ وہ زندہ نہ رہے، اسی بچے کو اللہ تعالٰی اس کی گود میں پلوا رہا ہے، اور ماں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، لیکن اس کی اجرت بھی اسی دشمن موسیٰ علیہ السلام سے وصول کر رہی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے ﻻ ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا، اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی۔ تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کہ اس (موسیٰ) کو صندوق میں رکھ اور پھر صندوق کو دریا میں ڈال دے پھر دریا اسے کنارہ پر پھینک دے گا (اور) اسے وہ شخص (فرعون) اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس (موسیٰ) کا بھی دشمن ہے میں نے تم پر اپنی محبت کا اثر ڈال دیا۔ (جو دیکھتا وہ پیار کرتا) اور اس لئے کہ تم میری خاص نگرانی میں پرورش پائے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کہ اپنے بچہ کو صندوق میں رکھ دو اور پھر صندوق کو دریا کے حوالے کردو موجیں اسے ساحل پر ڈال دیں گی اور ایک ایسا شخص اسے اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور موسٰی کا بھی دشمن ہے اور ہم نے تم پر اپنی محبت کا عکس ڈال دیا تاکہ تمہیں ہماری نگرانی میں پالا جائے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کہ تم اس (موسٰی علیہ السلام) کو صندوق میں رکھ دو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو پھر دریا اسے کنارے کے ساتھ آلگائے گا، اسے میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھا لے گا، اور میں نے تجھ پر اپنی جناب سے (خاص) محبت کا پرتَو ڈال دیا ہے (یعنی تیری صورت کو اس قدر پیاری اور من موہنی بنا دیا ہے کہ جو تجھے دیکھے گا فریفتہ ہو جائے گا)، اور (یہ اس لئے کیا) تاکہ تمہاری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کردیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کرسکتے ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بےادبی کیوں کریں ؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔ دوسری جماعت نے کہا محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے تمہارا رب تو رحمان ہے تم میری اتباع کرو اور میرا کہنا مانو۔ انہوں نے کہا آخر اس کی کیا وجہ کہ تیس دن کا وعدہ کر کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گئے ہیں اور آج چالیس دن ہونے کو آئے لیکن اب تک لوٹے نہیں۔ بعض بیوقوفوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان سے ان کا رب خطا کر گیا اب یہ اس کی تلاش میں ہوں گے۔ ادھر دس روزے اور پورے ہونے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا آپ کو بتایا گیا کہ آپ کے بعد آپ کی قوم کا اس وقت کیا حال ہے آپ اسی وقت رنج و افسوس اور غم و غصے کے ساتھ واپس لوٹے اور یہاں آ کر قوم سے بہت کچھ کہا سنا اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنے لگے غصے کی زیادتی کی وجہ سے تختیاں بھی ہاتھ سے پھینک دیں پھر اصل حقیقت معلوم ہوجانے پر آپ نے اپنے بھائی سے معذرت کی ان کے لئے استغفار کیا اور سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کے پاؤں تلے سے میں نے ایک مٹھی اٹھالی یہ لوگ اسے نہ پہچان سکے اور میں نے جان لیا تھا۔ میں نے وہی مٹھی اس آگ میں ڈال دی تھی میرے رائے میں یہی بات آئی۔ آپ نے فرمایا جا اس کی سزا دنیا میں تو یہ ہے کہ تو یہی کہتا رہے کہ " ہاتھ لگانا نہیں " پھر ایک وعدے کا وقت ہے جس کا ٹلنا ناممکن ہے اور تیرے دیکھتے دیکھتے ہم تیرے اس معبود کو جلا کر اس کی خاک بھی دریا میں بہا دیں گے۔ چناچہ آپ نے یہی کیا اس وقت بنی اسرائیل کو یقین آگیا کہ واقعی وہ اللہ نہ تھا۔ اب وہ بڑے نادم ہوئے اور سوائے ان مسلمانوں کے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ہم عقیدہ رہے تھے باقی کے لوگوں نے عذر معذرت کی اور کہا کہ اے اللہ کے نبی اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لئے توبہ کا دروازہ کھول دے جو وہ فرمائے گا ہم بجا لائیں گے تاکہ ہماری یہ زبردست خطا معاف ہوجائے آپ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ میں سے ستر لوگوں کو چھانٹ کر علیحدہ کیا اور توبہ کے لئے چلے وہاں زمین پھٹ گئی اور آپ کے سب ساتھی اس میں اتار دیئے گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فکر لاحق ہوا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا ؟ گریہ وزاری شروع کی اور دعا کی کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی مجھے اور ان سب کو ہلاک کردیتا ہمارے بیوقوفوں کے گناہ کے بدلے تو ہمیں ہلاک نہ کر۔ آپ تو ان کے ظاہر کو دیکھ رہے تھے اور اللہ کی نظریں ان کے باطن پر تھیں ان میں ایسے بھی تھے جو بہ ظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن دراصل ولی عقیدہ ان کا اس بچھڑے کے رب ہونے پر تھا ان ہی منافقین کی وجہ سے سب کو تہ زمین کردیا گیا تھا۔ نبی اللہ کی اس آہ وزاری پر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور جواب ملا کہ یوں تو میری رحمت سب پر چھائے ہوئے ہے لیکن میں اسے ان کے نام ہبہ کروں گا جو متقی پرہیزگار ہوں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہوں، میری باتوں پر ایمان لائیں اور میرے اس رسول و نبی کی اتباع کریں جس کے اوصاف وہ اپنی کتابوں میں لکھے پاتے ہیں یعنی توراۃ انجیل میں۔ حضرت کلیم اللہ علیہ صلوات اللہ نے عرض کی کہ بار الہی میں نے اپنی قوم کے لئے توبہ طلب کی، تو نے جواب دیا کہ تو اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے گا جو آگے آنے والے ہیں پھر اللہ مجھے بھی تو اپنی اسی رحمت والے نبی کی امت میں پیدا کرتا۔ رب العالمین نے فرمایا سنو ان کی توبہ اس وقت قبول ہوگی کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردیں نہ باپ بیٹے کو دیکھے نہ بیٹا باپ کو چھوڑے آپس میں گتھ جائیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردیں۔ چناچہ بنو اسرائیل نے یہی کیا اور جو منافق لوگ تھے انہوں نے بھی سچے دل سے توبہ کی اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی جو بچ گئے تھے وہ بھی بخشے گئے جو قتل ہوئے وہ بھی بخش دیئے گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اب یہاں سے بیت المقدس کی طرف چلے۔ توراۃ کی تختیاں اپنے ساتھ لیں اور انہیں احکام الٰہی سنائے جو ان پر بہت بھاری پڑے اور انہوں نے صاف انکار کردیا۔ چناچہ ایک پہاڑ ان کے سروں پر معلق کھڑا کردیا گیا وہ مثل سائبان کے سروں پر تھا اور ہر دم ڈر تھا کہ اب گرا انہوں نے اب اقرار کیا اور تورات قبول کرلی پہاڑ ہٹ گیا۔ اس پاک زمین پر پہنچے جہاں کلیم اللہ انہیں لے جانا چاہتے تھے دیکھا کہ وہاں ایک بڑی طاقتور زبردست قوم کا قبضہ ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے نہایت نامردی سے کہا کہ یہاں تو بڑی زور آور قوم ہے ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں یہ نکل جائیں تو ہم شہر میں داخل ہوسکتے ہیں۔ یہ تو یونہی نامردی اور بزدلی ظاہر کرتے رہے ادھر اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں میں سے دو شخصوں کو ہدایات دے دی وہ شہر سے نکل کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں آ ملے اور انہیں سمجھانے لگے کہ تم ان کے جسموں اور تعداد سے مرعوب نہ ہوجاؤ یہ لوگ بہادر نہیں ان کے دل گردے کمزور ہیں تم آگے تو بڑھو ان کے شہر کے دروازے میں گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے یقیناً تم ان پر غالب آجاؤ گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شخص جنہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور انہیں دلیر بنایا خود بنی اسرایئل میں سے ہی تھے واللہ اعلم۔ لیکن ان کے سمجھانے بجھانے اللہ کے حکم ہوجانے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وعدے نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا بلکہ انہوں نے صاف کو را جواب دے دیا کہ جب تک یہ لوگ شہر میں ہیں ہم تو یہاں سے اٹھنے کے بھی نہیں موسیٰ (علیہ السلام) تو آپ اپنے رب کو اپنے ساتھ لے کر چلا جا اور ان سے لڑ بھڑ لے ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صبر نہ ہوسکا آپ کے منہ سے ان بزدلوں اور ناقدروں کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے ان کا نام فاسق رکھ دیا۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کا یہی نام مقرر ہوگیا اور انہیں اسی میدان میں قدرتی طور پر قید کردیا گیا چالیس سال انہیں یہیں گزر گئے کہیں قرار نہ تھا اسی بیاباں میں پریشانی کے ساتھ بھٹکتے پھرتے تھے اسی میدان قید میں ان پر ابر کا سایہ کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا کپڑے نہ پھٹتے تھے نہ میلے ہوتے تھے ایک چوکونہ پتھر رکھا ہوا تھا جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لکڑی ماری تو اس میں سے بارہ نہریں جاری ہوگئیں ہر طرف سے تین تین لوگ چلتے چلتے آگے بڑھ جاتے تھک کر قیام کردیتے، صبح اٹھتے تو دیکھتے کہ وہ پتھر وہیں ہے جہاں کل تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ حضرت معاویہ (رض) نے جب یہ روایت ابن عباس (رض) سے سنی تو فرمایا کہ اس فرعونی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اگلے دن کے قتل کی خبر رسانی کی تھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ قبطی کے قتل کے وقت سوائے اس بنی اسرایئل ایک شخص کے جو قبطی سے لڑ رہا رہا تھا وہاں کوئی اور نہ تھا اس پر حضرت ابن عباس (رض) بہت بگڑے اور حضرت معاویہ (رض) کا ہاتھ تھام کر حضرت سعد بن مالک (رض) کے پاس لے گئے اور ان سے کہا آپ کو یاد ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے اس شخص کا حال بیان فرمایا تھا جس نے حضرت موسیٰ کے قتل کے راز کو کھولا تھا بتاؤ وہ بنی اسرائیل شخص تھا یا فرعونی ؟ حضرت سعد (رض) نے فرمایا بنی اسرائیل سے اس فرعونی نے سنا پھر اس نے جا کر حکومت سے کہا اور خود اس کا شاہد بنا (سنن کبری نسائی) یہی روایت اور کتابوں میں بھی ہے حضرت ابن عباس (رض) کے اپنے کلام سے بہت تھوڑا سا حصہ مرفوع بیان کیا گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ نے بنو اسرائیل میں سے کسی سے یہ روایت لی ہو کیونکہ ان سے روایتیں لینا مباح ہیں۔ یا تو آپ نے حضرت کعب احبار (رض) سے ہی یہ روایت سنی ہوگی اور ممکن ہے کسی اور سے سنی ہو۔ واللہ اعلم۔ میں نے اپنے استاد شیخ حافظ ابو الحجاج مزی (رح) سے بھی یہی سنا ہے۔