Skip to main content

يٰبَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى

يَٰبَنِىٓ
اے بنی
إِسْرَٰٓءِيلَ
اسرائیل
قَدْ
تحقیق
أَنجَيْنَٰكُم
نجات دی ہم نے تم کو
مِّنْ
سے
عَدُوِّكُمْ
تمہارے دشمن سے
وَوَٰعَدْنَٰكُمْ
اور وعدہ دیا ہم نے تم کو۔ وقت مقرر کیا ہم نے تمہارے لیے
جَانِبَ
جانب
ٱلطُّورِ
طور کی
ٱلْأَيْمَنَ
دائیں
وَنَزَّلْنَا
اور نازل کیا ہم نے
عَلَيْكُمُ
تم پر
ٱلْمَنَّ
من
وَٱلسَّلْوَىٰ
اور سلوی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہیں طور کی داہنی طرف کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلوی ٰ اتارا

احمد علی Ahmed Ali

اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے طور کی دائیں طرف کا وعدہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی دائیں طرف کا وعدہ (١) اور تم پر من و سلویٰ اتارا (٢)

٨٠۔١ اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر تمہیں یعنی تمہارے نمائندے بھی ساتھ لے کر آئیں تاکہ تمہارے سامنے ہی ہم موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوں، یا ضمیر جمع اس لئے لائی گئی کہ کوہ طور پر موسیٰ علیہ السلام کو بلانا، بنی اسرائیل ہی کی خاطر اور انہی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے تھا۔
٨٠۔٢ من و سلویٰ کے نزول کا واقعہ، سورہ بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ من کوئی میٹھی چیز تھی جو آسمان سے نازل ہوئی تھی اور سلویٰ سے مراد بٹیر پرندے ہیں جو کثرت سے ان کے پاس آتے اور وہ حسب ضرورت انہیں پکڑ کر پکاتے اور کھا لیتے۔ (ابن کثیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اے آل یعقوب ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لئے تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوه طور کی دائیں طرف کا وعده کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی دائیں جانب توریت دینے کا قول و قرار کیا۔ اور تم پر من و سلویٰ نازل کیا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بنی اسرائیل ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دلائی ہے اور طور کی داہنی طرف سے توریت دینے کا وعدہ کیا ہے اور من و سلویٰ بھی نازل کیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے بنی اسرائیل! (دیکھو) بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور ہم نے تم سے (کوہِ) طور کی داہنی جانب (آنے کا) وعدہ کیا اور (وہاں) ہم نے تم پر من و سلوٰی اتارا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

احسانات کی یاد دہانی۔
اللہ تبارک وتعالی نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے انہیں یاددلارہا ہے ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا جیسے فرمان ہے (واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون) ۔ یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چناچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گوسالہ پرستی شروع کردی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا اس کا پورا بیان سورة بقرۃ وغیرہ کی تفیسر میں گزر چکا ہے من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لئے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آجاتے تھے یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ اس میں حد سے نہ گزر جاؤ حرام چیزیا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہوگیا۔ حضرت شغی بن مانع (رح) فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گرپڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے میں اس کی توبہ قبول کرتا ہوں۔ دیکھو بنی اسرائیل میں سے جہنوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک گناہ و معصیت پر کوئی ہو پھر وہ اسے بخوف الہی چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے ہاں دل میں ایمان اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر۔ شکی نہ ہو سنت رسول اور جماعت صحابہ کی روش پر ہو اس میں ثواب جانتا ہو یہاں پر ثم کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لئے آیا ہے جیسے فرمان ( ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بالْمَرْحَمَةِ 17؀ۭ ) 90 ۔ البلد ;17)