اور ان (اہلِ کتاب) نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، یہ سب ہماری ہی جانب لوٹ کر آنے والے ہیں،
English Sahih:
And [yet] they divided their affair [i.e., that of their religion] among themselves, [but] all to Us will return.
1 Abul A'ala Maududi
مگر (یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ) انہوں نے آپس میں دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے
2 Ahmed Raza Khan
اور اَوروں نے اپنے کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیے سب کو ہماری طرف پھرنا ہے،
3 Ahmed Ali
اور ان لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کر لیا سب ہمارے پاس ہی آنے والے ہیں
4 Ahsanul Bayan
مگر لوگوں نے آپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کرلیں سب کے سب ہمارے ہی طرف لوٹنے والے ہیں (١)۔
٩٣۔١ یعنی دین توحید اور عبادت رب کو چھوڑ کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ایک گروہ تو مشرکین اور کفار کا ہوگیا اور انبیاء و رسل کے ماننے والے بھی گروہ بن گئے، کوئی یہودی ہو گیا، کوئی عیسائی، کوئی کچھ اور اور بد قسمتی سے یہ فرقہ بندیاں خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہوگئیں اور یہ بھی بیسیوں فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ان سب کا فیصلہ، جب یہ بارگاہ الٰہی میں لوٹ کر جائیں گیں۔ تو وہیں ہوگا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے۔ (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں
6 Muhammad Junagarhi
مگر لوگوں نےآپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کر لیں، سب کے سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں
7 Muhammad Hussain Najafi
لیکن لوگوں نے اپنے (دینی) معاملہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا (انجام کار) سب ہماری ہی طرف لوٹ کر آنے والے ہیں۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور ان لوگوں نے تو اپنے دین کو بھی آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ہے حالانکہ یہ سب پلٹ کر ہماری ہی بارگاہ میں آنے والے ہیں
9 Tafsir Jalalayn
اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں
10 Tafsir as-Saadi
مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر رہا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ ﴾ یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہوگئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ ﴿ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴾(الروم : 30 ؍32) ” ہر ایک گروہ ان باتوں پر جو ان کے پاس ہیں خوش ہیں“ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے۔۔۔اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہوگی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آجائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لئے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لئے فرمایا : ﴿ كُلٌّ ﴾ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ ﴿ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ ﴾ ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur logon ney apney deen ko aapas mein tukrray tukrray ker kay baant liya , ( magar ) sabb humaray paas loat ker aaney walay hain .