Skip to main content

فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ

فَكَأَيِّن
تو کتنی ہی
مِّن
میں سے
قَرْيَةٍ
بستیوں
أَهْلَكْنَٰهَا
ہلاک کیا ہم نے ان کو
وَهِىَ
اور وہ
ظَالِمَةٌ
ظالم تھیں
فَهِىَ
تو وہ
خَاوِيَةٌ
گری پڑی ہیں
عَلَىٰ
پر
عُرُوشِهَا
اپنی چھتوں (پر)
وَبِئْرٍ
اور (کتنے) کنوئیں ہیں
مُّعَطَّلَةٍ
بےکار۔ مسلسل۔ ناکارہ
وَقَصْرٍ
اور کتنے محل ہیں
مَّشِيدٍ
پختہ۔ بلند کیے ہوئے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) کہ وہ ستمگار تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے اور کتنے محل گچ کیے ہوئے

احمد علی Ahmed Ali

سو کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں اور وہ گناہ گار تھیں اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنوئیں نکمے اور کتنے پکے محل اجڑے اجڑے پڑے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ و بالا کر دیا اس لئے کہ وہ ظالم تھے پس وہ اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں۔ سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اور (بہت سے) کنوئیں بےکار اور (بہت سے) محل ویران پڑے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وباﻻ کر دیا اس لئے کہ وه ﻇالم تھے پس وه اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تباہ و برباد کر دیا کیونکہ وہ ظالم تھیں (چنانچہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنویں ہیں جو بیکار پڑے ہیں اور کتنے مضبوط محل ہیں (جو کھنڈر بن گئے ہیں)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تباہ و برباد کردیا کہ وہ ظالم تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں کے بل الٹی پڑی ہیں اور ان کے کنویں معطل پڑے ہیں اور ان کے مضبوط محل بھی مسمار ہوگئے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر کتنی ہی (ایسی) بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (ان کی ہلاکت سے) کتنے کنویں بے کار (ہوگئے) اور کتنے مضبوط محل اجڑے پڑے (ہیں)،