المؤمنون آية ۳۳
وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِلِقَاۤءِ الْاٰخِرَةِ وَاَتْرَفْنٰهُمْ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُوْنَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ
طاہر القادری:
اور ان کی قوم کے (بھی وہی) سردار (اور وڈیرے) بول اٹھے جو کفر کر رہے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں (مال و دولت کی کثرت کے باعث) آسودگی (بھی) دے رکھی تھی (لوگوں سے کہنے لگے) کہ یہ شخص تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، وہی چیزیں کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو،
English Sahih:
And the eminent among his people who disbelieved and denied the meeting of the Hereafter while We had given them luxury in the worldly life said, "This is not but a man like yourselves. He eats of that from which you eat and drinks of what you drink.
1 Abul A'ala Maududi
اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا، وہ کہنے لگے "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے
2 Ahmed Raza Khan
اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں چین دیا کہ یہ تو نہیں مگر جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے
3 Ahmed Ali
اوراس کی قوم کے سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کیا تھا اور قیامت کی آمد کو جھٹلاتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا کہ یہ بس تمہیں جیسا آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو
4 Ahsanul Bayan
اور سردار قوم (١) نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیاوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا (٢) کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ بھی پیتا ہے (٣)۔
٣٣۔١ یہ سردار قوم ہی ہر دور میں انبیاء و رسل اور اہل حق کو جھٹلاتے ہیں، جس کی وجہ سے قوم کی اکثریت ایمان لانے سے محروم رہتی۔ کیونکہ یہ نہایت با اثر لوگ ہوتے تھے، قوم انہیں کے پیچھے چلنے والی ہوتی تھی۔
٣٣۔٢ یعنی عقیدہ آخرت پر عدم ایمان اور دنیاوی آسائشوں کی فروانی، یہ دو بنیادی سبب تھے، اپنے رسول پر ایمان نہ لانے کے۔ آج بھی باطل انہیں اسباب کی بنا پر اہل حق کی مخالفت اور دعوت حق سے گریز کرتے ہیں۔
٣٣۔٣ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ تو ہماری ہی طرح کھاتا پیتا ہے۔ یہ اللہ کا رسول کس طرح ہو سکتا ہے؟جیسے آج بھی بہت سے مدعیان اسلام کے لیے رسول کی بشریت کا تسلیم کرنا نہایت گراں ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے اور آخرت کے آنے کو جھوٹ سمجھتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی۔ کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے، جس قسم کا کھانا تم کھاتے ہو، اسی طرح کا یہ بھی کھاتا ہے اور جو پانی تم پیتے ہو اسی قسم کا یہ بھی پیتا ہے
6 Muhammad Junagarhi
اور سرداران قوم نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا، کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ پیتا ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
اور اس کی قوم کے وہ سردار جو کافر تھے اور آخرت کی حاضری کو جھٹلاتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیوی زندگی میں آسودگی دے رکھی تھی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ نہیں ہے مگر تمہارے ہی جیسا ایک بشر (آدمی) ہے یہ وہی (خوراک) کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی (مشروب) پیتا ہے۔ جو تم پیتے ہو۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
تو ان کی قوم کے ان رؤسائ نے جنہوں نے کفر اختیار کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کا انکار کردیا تھا اور ہم نے انہیں زندگانی دنیا میں عیش و عشرت کا سامان دے دیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ تو تمہارا ہی جیسا ایک بشر ہے جو تم کھاتے ہو وہی کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو وہی پیتا بھی ہے
9 Tafsir Jalalayn
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے اور آخرت کے آنے کو جھوٹا سمجھتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے جس قسم کا کھانا تم کھاتے ہو اسی طرح کا یہ بھی کھاتا ہے اور (پانی) جو تم پیتے ہو اسی قسم کا یہ بھی پیتا ہے
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور اس کی خبر کے درمیان طویل فصل ہونے کی وجہ سے بہت ہی بعید ہے بہت ہی بعید ہے وہ بات جو تم سے کہی جاتی ہے (یعنی) قبروں سے نکالنے کی اور لام زائدہ ہے بیان کیلئے ہماری زندگی تو صرف دنیوی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اپنے بیتوں کے جینے سے اور ہم دوبارہ زندہ کئے جانے والے نہیں ہیں یہ شخص رسول نہیں ہے یہ تو ایسا شخص ہے جو اللہ پر بہتان باندھتا ہے ہم تو ہرگز اس پر ایمان نہ لائیں گے یعنی مرنے کے بعد وہ زندہ کرنے کے بارے میں تصدیق کرنے والے نہیں ہیں، نبی نے دعاء کی اے میرے پروردگار تو ان سے میرا بدلہ لے لے اس وجہ سے کہ انہوں نے میری تکذیب کی ارشاد ہوا یہ لوگ عنقریب اپنی تکذیب و کفر پر پشیمان ہوں گے عمَّا قلیل میں ما زائدہ ہے بالآخر عدل کے تقاضہ کے مطابق چیخ نے پکڑ لیا چیخ کے عذاب اور ہلاکت نے حال یہ کیا وہ عدل کے تقاضہ کے مطابق تھا چناچہ سب کے سب مرگئے پھر ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا غثاءً سوکھی گھاس کو کہتے ہیں، یعنی ہم نے ان کو خس و خاشاک کی مانند کردیا خشک ہونے میں سو رحمت سے دوری ہو ظالم یعنی تکذیب کرنے والی قوموں کیلئے پھر ان کے بعد دوسری قوموں کو پیدا کیا اور کوئی امت اپنے وقت مقررہ سے نہ تو آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے بایں طور کہ اپنے وقت مقررہ سے پہلے مرجائے یا اس سے مؤخر ہوجائے (یستاخروں) میں ضمیر کو معنی کی رعایت کی وجہ سے مذکر لائے ہیں، مؤنث لانے کے بعد پھر ہم نے یکے بعد دیگرے اپنے رسول بھیجے تَتٰرًا تنوین اور بغیر تنوین دونوں ہیں یعنی ایک کے بعد دوسرا دو کے درمیان طویل زمانہ تھا جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اس رسول کی تکذیب کی تو ہم نے ہلاکت میں ایک کو ایک کے پیچھے لگا دیا اور ہم نے ان کو داستان بنادیا خدا کی مار ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو احکام اور کھلی دلیل دے کر کھلی دلیلیں وہ یدبیضاء اور عصائے موسیٰ اور دیگر نشانیاں ہیں فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان آیات اور اللہ پر ایمان لانے کے بارے میں تکبر کیا اور وہ بنی اسرائیل پر ظلم کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والے لوگ تھے چناچہ وہ کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم ہمارے زیر حکم زیر فرمان اور سرنگوں ہیں چناچہ وہ لوگ ان دونوں کی تکذیب ہی کرتے رہے آخر کار ہلاک کر دئیے گئے اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا فرمائی تاکہ وہ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل اس کے ذریعہ گمراہی کے راستہ سے ہدایت کے راستہ کی طرف آئیں اور توریت فرعون اور اس کی قوم کے ہلاک ہونے کے بعد یکبارگی عطا کی گئی اور ہم نے ابن مریم عیسیٰ کو اور ان کی والدہ کو نشانی بنادیا آیتیں نہیں کہا، اس لئے کہ دونوں میں نشانی ایک ہی ہے اور وہ بغیر مرد کے ان کی پیدائش ہے اور ہم نے ان دونوں کو ایک ایسی بلند زمین پر لیجا کر پناہ دی جو رہنے کے قابل تھی رَبُوَۃَ اونچی جگہ کو کہتے ہیں اور وہ بیت المقدس یاد مشق یا فلسطین ہے یہ (تین) قول ہیں، ذات قرار کا مطلب ہے ہموار تاکہ اس پر اس کے باشندے وہ سکیں، اور چشمہ والی یعنی ظاہری سطح پر جاری پانی والی ہیں، جس کو آنکھیں دیکھ سکیں۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
اَلْمَلأُ اسم جمع ہے، الأمْلَاءُ جمع ہے سرداروں کی جماعت، قوم شرفاء کی جماعت۔
قولہ : وَاللہِ لَئِنْ اَطَعْتُمْ یہاں قسم اور شرط کا اجتماع ہے جہاں یہ دونوں جمع ہوجاتے ہیں تو اول کا جواب لایا جاتا ہے اور چانی کے جواب کو اول کے جواب پر قیاس کرکے حذف کردیتے ہیں اِنّکم اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ جواب قسم ہے نہ کہ جواب شرط نہ ہونے کا قرینہ یہ بھی ہے کہ یہاں انکم اذًا لَّخٰسرون جملہ اسمیہ ہے اگر یہ جواب شرط ہوتا تو اس پر فا کا داخل ہونا ضروری تھا، اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ
جواب قسم ہے جواب شرط نہیں ہے۔
قولہ : اِنّکُمْ اِذًا ای اِنْ اَطَعْتُمُوْہٗ لَخٰسِرونَ ، کُمْ اِنَّ کا اسم ہے اور خاسرون اس کی خبر ہے لام ابتدائیہ ہے اور اِذًا اِنْ کے اسم اور اس کی خبر کے درمیان مضمون شرط کی تاکید کیلئے ہے، اور اِذًا کی تنوین جملہ شرطیہ محذوف کے عوض میں ہے جیسا یومئِذٍ میں، مفسر علام نے اسی کی طرف اشارہ کرنے کیلئے ای اِنْ اَطَعْتُمُوہ کا اضافہ کیا ہے اس وقت اس کو جواب کی ضرورت نہ ہوتی اس لئے کہ یہ ماقبل کی تاکید لفظی کے لئے ذکر کیا گیا ہے اور اعادۃ الشئ بمرادفہٖ کے قبیل سے ہے (جمل)
قولہ : اَیَعِدُکُمْ یہ جملہ مستانفہ ماقبل کے مضمون کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔
قولہ : مخرجون أنَّ اولیٰ کی خبر ہے إذا متم مخرجون کا ظرف ہے اور أنکم کا عمل نہیں ہے اس لئے کہ وہ پہلے أنکم کی تاکید لفظی ہے
قولہ : ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ اسم فعل بمعنی ماضی، یہ کلمہ اکثر مکرر استعمال ہوتا ہے ثانی اول کی تاکید ہے چونکہ اس میں اختلاف ہے کہ ھیھاتَ اسم فعل بمعنی ماضی ہے یا بمعنی مصدر ہے اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کیلئے مفسر علام نے بُعْدَا پر دونوں اعراب لگائے ہیں۔ سوال : ھَیْھَاتَ کو اسم فعل کیوں کہتے ہیں ؟ یہ تو اجتماع بین الضدین معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ جو اسم ہوگا وہ فعل نہیں ہوسکتا، اور جو فعل ہوگا وہ اسم نہیں ہوسکتا۔
جواب : چونکہ یہ لفظ کے اعتبار سے اسم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی گردان نہیں ہوتی، اس وجہ سے اس کو اسم کہتے ہیں اور اپنے معنی و مدلول کے اعتبار سے یہ فعل ہے اس لئے اس کو فعل کہتے ہیں، دونوں حیثیتوں کی رعایت کرتے ہوئے اس کا نام اسم فعل رکھ دیا گیا ہے، اور چونکہ ھَیْھَاتَ بمعنی مصدر بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے مفسرعلام نے اسم فعل ماض کہہ کہ پہلے معنی کی طرف اشارہ کیا ہے اور بمعنی مصدرٍ کہہ کر دوسرے معنی کی طرف اشارہ کیا ہے اور انہی دونوں معنی وضاحت کیلئے بعداً پر دونوں اعراب لگائے ہیں، فعل ماضی کا اعراب بھی لگایا ہے اور مصدر کا بھی۔
خلاصہ کلام : ھَیْھَاتَ اسم فعل ہے بَعُدَ فعل ماضی کے معنی میں اس کے فاعل میں دو صورتیں ہیں اول یہ کہ اس کا فاعل اس میں مضمر ہو اور تقدیر عبارت یہ ہو بَعُدَ التصدیق او الصحۃ او الوقوع لما توعدون نحو ذٰلک اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس کا فاعل ما ہو اور لام زائدہ ہو بیان استبعاد کے لئے۔ گویا کہ کہا گیا یہ استبعاد کس چیز کا ہے ؟ جواب دیا لما توعدون جس کا تم سے وعدہ کیا گیا یعنی بعث بعد الموت اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ ھَیْھَاتَ ، البُعْد بمعنی مصدر مبتدا اور لما توعدون اس کی خبر، مگر بعض حضرات نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے، پہلی صورت میں ھَیْھَاتَ کا کوئی محل اعراب نہیں ہوگا۔
قولہ : مِنَ الاخراج منَ القبور مَا توعدون میں ما کا بیان ہے۔
قولہ : بِحَیَاتِ اَبْنَائِنَا یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ مشرکین کا نَمُوْتُ وَنَحْیَا کہنا یہ تو بعث بعد الموت کے منکر ہیں، مفسر علام نے بحیات ابنائنا کہہ کر جواب دیدیا کہ مشرکین کے قول نموت و نحیا کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم مرجاتے ہیں تو ہماری اولاد زندہ رہتی ہے، اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ بعث بعد الموت کا نہیں ہے، بعض حضرات نے یہ جواب بھی دیا ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے ای
نَحْیَا و نموتُ ۔
قولہ : عَمَّا قلیل بعض حضرات نے کہا ہے ما زائدہ ہے ای عن قلیل من الزمان اور بعض مجرور کس سے متعلق ہے ؟ اس میں تین قول ہیں (اول) لیَصْبَحُنَّ کے متعلق ہے (دوسرا) نادمین کے متعلق ہے (تیسرا) محذوف سے متعلق ہے ای عما قلیل ننصرہٗ ماقبل یعنی انصرنی کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔
قولہ : صَیْحۃ العذاب میں اضافت بیانیہ ہے ای صیحۃ العذاب والھلاک صیحہ سے مراد عذاب ہے نہ کہ حضرت جبرئیل کی چنگھاڑ، اس لئے کہ قوم عاد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی چنگھاڑ سے ہلاک نہیں ہوئی تھی۔
قولہ : کائنۃً مفسر علام نے کائنۃ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ بالحق کائنۃً کے متعلق ہو کر صیحۃ سے حال ہے۔
قولہ : فبعدًا اس کے فعل کو حذف کرکے مصدر کو اس کے قائم مقام کردیا گیا ہے اس کے فعل ناصب کو حذف کرنا واجب ہے ای فبعدُوْا بُعْدًا یہ کلمہ مشرکین کیلئے بد دعاء کے قائم مقام ہے۔
قولہ : ذُکِّرَ الضمیرُ الخ یعنی یستاخرون میں ضمیر کو مذکر لایا گیا ہے حالانکہ اَجَلَھا کے اندر ضمیر مؤنث لائے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ ھا ضمیر اُمَّۃٍ کی طرف راجع ہے اور امت سے قوم مراد ہے جو کہ مذکر ہے اسی وجہ سے یستاخرون میں ضمیر کو مذکر لائے ہیں۔
قولہ : تَتْرًا مصدر محذوف سے حال یا صفت ہے، ای ارسالاً تَتْرًا، تَتْرًا اصل میں وَتْرًا تھا، واؤ کو تا سے بدل دیا وتر متابعت مع المہلت کو کہتے ہیں۔ قولہ : احادیث یہ احدوثۃ کی جمع ہے ما یتحدّثہ الناس یعنی وہ قصے کہانیاں جن کو لوگ وقت گذاری اور تفریح طبع کیلئے کہتے سنتے ہیں۔ قولہ : من امتہ من فاعل پر زائدہ ہے اُمّۃٍ تسبق کا فاعل ہے۔
قولہ : بتحقیق الھمزتین (اول صورت) دونوں ہمزوں کو محقق پڑھیں (دوسری صورت) پہلے ہمزہ کو محقق اور دوسرے کو مسھَّل پڑھیں، یعنی ہمزہ اور واؤ کے درمیان پڑھیں۔
قولہ : جملۃً واحدۃً اس کا تعلق اوتیھا سے بھی ہوسکتا ہے اس وقت مطلب یہ ہوگا فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد توریت جملۃً واحدۃً یکبارگی) دیدی گئی اور یہ بھی احتمال ہے کہ ہلاکت فرعون اور اس کی قوم سے متعلق ہو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ فرعون اور اس کی قوم کو بالکلیہ ہلاک کرنے کے بعد توریت عطا کی گئی۔
تفسیر و تشریح
اس سے پہلی آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ بسلسلہ ہدایت ذکر کیا گیا تھا، آگے دوسرے پیغمبروں اور ان کی امتوں کا کچھ حال اجمالاً نام متعین کئے بغیر ذکر کیا گیا ہے، آثار و علامات سے حضرات مفسرین نے فرمایا کہ مرادان امتوں سے عاد یا ثمود یا دونوں ہیں، عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا اور ثمود کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) تھے، اس قصہ میں ان قوموں کا ہلاک ہونا ایک صیحۃ یعنی غیبی سخت آواز کے ذریعہ بیان فرمایا ہے اور صیحہ کے ذریعہ ہلاک ہونا دوسری آیت میں قوم ثمود کا بیان ہوا ہے اس سے بعض حضرات نے فرمایا کہ ان آیات میں قرناً آخرین سے ثمود مراد ہیں مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحۃ کا لفظ اس جگہ مطلق عذاب کے معنی میں ہو جیسا کہ تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان اشارہ کیا گیا ہے، اس طریقہ سے اس کا تعلق عاد کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
انھی۔۔۔ (الآیہ) مشرکین کا اعتقاد تھا کہ دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کوئی زندگی نہیں ہے، بس دنیا کی زندگی اور اس کا عیش و آرام ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، دوبارہ ان کو زندہ ہونا نہیں ہے، ہر قوم جس نے پیغمبروں کی تکذیب کی ٹھیک اپنے وعدہ پر ہلاک کردی گئی جس قوم کی جو میعاد تھی اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہوئی۔
ثم ارسلنا رسلنا تترا پھر ہم یکے بعد دیگرے رسول بھیجتے رہے اور مکذبین کو بھی ایک کے پیچھے ایک جو چلتا کرتے رہے، چناچہ بہت سی قومیں اس طرح تباہ و برباد کردی گئیں، جن کے قصے کہانیوں کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی آج ان کی داستانیں محض عبرت کیلئے پڑھی اور سنی جاتی ہیں فَقَالُوْا أنُؤمِنُ لِبَشَرَیْنِ (الآیہ) مطلب یہ کہ موسیٰ ان کی قوم تو غلام اور خدمت گار ہیں تو ہم انہیں میں کے دو افراد کر اپنا سردار کس طرح بنالیں، فرعون اور فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے ان کو تورات عطا کی تاکہ لوگ اس پر چل کر جنت اور رضاء الٰہی کی منزل تک پہنچ سکیں وَآوَینٰھُمَا اِلیٰ رَبوَۃٍ ربوۃ اونچی جگہ کو کہتے ہیں مفسر علام نے اس میں تین احتمال ذکر کئے ہیں بیت المقدس، دمشق، فلسطین، ممکن ہے کہ یہ وہی ٹیلہ ہو کہ جہاں وضع حمل کے وقت حضرت مریم تشریف رکھتی تھیں چناچہ سورة مریم میں فناداھا من تحتھا (الآیہ) دلالت کرتی ہے کہ وہ بلند جگہ تھی، نیچے چشمہ یا نہر بہہ رہی تھی، لیکن عموماً مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن کا واقعہ ہے ہیرودس نامی ایک ظالم بادشاہ کو نجومیوں کے ذریعہ یہ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ کو سرداری ملے گی جس کی وجہ سے بچپن ہی میں ان کا دشمن ہوگیا تھا اور قتل کے درپے تھا، حضرت مریم الہام ربانی سے ان کو لیکر مصر چلی گئیں اور اس ظالم بادشاہ کے مرنے کے بعد پھر شام واپس آئیں چناچہ انجیل متیٰ میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے اور مصر کا اونچا ہونا باعتبار دریائے نیل کے ہے ورنہ غرق ہوجاتا، اور ماء معین دریائے نیل ہے، بعض نے ربوہ سے مراد شام یا فلسطین لیا ہے، بہرحال اہل اسلام میں سے کسی نے ربوہ سے کشمیر مراد نہیں لیا، اور نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کشمیر میں بتائی، البتہ ہمارے زمانے کے بعض زائغین نے ربوہ سے کشمیر مراد لیا ہے، اور وہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتائی ہے، جس کا تاریخی حیثیت سے کوئی ثبوت نہیں ہے، محلہ خان یا رشری نگر میں جو قبر ” یوزاسف “ کے نام سے مشہور ہے اور جس کی بابت تاریخی اعظمی کے مصنف نے محض عام افواہ نقل کی ہے کہ لوگ اس کو کسی نبی کی قبر بتاتے ہیں وہ کوئی شہزادہ تھا جو دوسرے ملک سے یہاں آیا تھا، اس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتانا انتہاء درجہ کی حماقت اور سفاہت ہے، ایسی اٹکل پچو اور بےسروپا باتوں سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حیات کو باطل ٹھہرانا خبط اور جنون کے سوا کچھ نہیں، اگر اس قبر کی تحقیق مطلوب ہو کہ ” یوزاسف “ کون تھا تو جناب منشی حبیب اللہ صاحب امرتسری کا رسالہ دیکھیں جو خاص اسی موضوع پر نہایت ہی تحقیق سے لکھا گیا ہے، جس میں اس مہمل خیال کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ (فوائد عثمانی ملخصاً )
10 Tafsir as-Saadi
﴿وَقَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْآخِرَةِ وَأَتْرَفْنَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ یعنی ان کے روساء نے جن میں کفرو عناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا ’ اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ مَا هَـٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾ ” نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیسا ہی۔“ یعنی تمہاری جنس میں سے ﴿يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ﴾ ” وہی کچھ کھاتا پیٹا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔“ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے ؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
11 Mufti Taqi Usmani
unn ki qoam kay woh sardar jinhon ney kufr apna rakha tha , aur jinhon ney aakhirat ka samna kernay ko jhutlaya tha , aur jinn ko hum ney dunyawi zindagi mein khoob aesh dey rakha tha , unhon ney ( aik doosray say ) kaha : iss shaks ki haqeeqat iss kay siwa kuch nahi hai kay yeh tumhi jaisa aik insan hai . jo cheez tum khatay ho , yeh bhi khata hai , aur jo tum peetay ho , yeh bhi peeta hai .