المؤمنون آية ۵۱
يٰۤـاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًـا ۗ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ ۗ
طاہر القادری:
اے رُسُلِ (عظام!) تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو (جیسا کہ تمہارا معمول ہے) اور نیک عمل کرتے رہو، بیشک میں جو عمل بھی تم کرتے ہو اس سے خوب واقف ہوں،
English Sahih:
[Allah said], "O messengers, eat from the good foods and work righteousness. Indeed I, of what you do, am Knowing.
1 Abul A'ala Maududi
اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں
2 Ahmed Raza Khan
اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں
3 Ahmed Ali
ا ے رسولو! ستھری چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو بے شک میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہو
4 Ahsanul Bayan
اے پیغمبر! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو (١) تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔
٥١۔١ طِیِّبٰت سے مراد پاکیزہ اور لذت بخش چیزیں ہیں، بعض نے اس کا ترجمہ حلال چیزیں کیا ہے۔
دونوں ہی اپنی جگہ صحیح ہیں کیونکہ ہر پاکیزہ چیز اللہ نے حلال کر دی ہے اور ہر حلال چیز پاکیزہ اور لذت بخش ہے۔ خبائث کو اللہ نے اس لئے حرام کیا ہے کہ وہ اثرات و نتائج کے لحاظ سے پاکیزہ نہیں ہیں۔ حلال روزی کے ساتھ عمل صالح کی تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ ایک دوسر کے معاون ہیں۔ اسی لئے اللہ نے تمام پیغمبروں کو ان دونوں باتوں کا حکم دیا۔ چنانچہ تمام پیغمبر محنت کر کے حلال روزی کمانے اور کھانے کا اہتمام کرتے رہے، جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے 'کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ' اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں، میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند سکوں کے عوض چراتا رہا (صحیح بخاری)
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل نیک کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں
6 Muhammad Junagarhi
اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں
7 Muhammad Hussain Najafi
اے (میرے) پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ بیشک تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے خوب جانتا ہوں۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اے میرے رسولو ! تم پاکیزہ غذائیں کھاؤ اور نیک کام کرو کہ میں تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہوں
9 Tafsir Jalalayn
اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے حال ہے یعنی آپس میں اختلاف کرنے والی جماعت ہوگئے، جیسا کہ یہود اور نصاریٰ وغیرہ پس ہر گروہ کے پاس جو ہے اسی پر خوش ہے یعنی جو دین ان کے پاس ہے (اسی پر خوش ہے) تو آپ ان کو یعنی اہل مکہ کو ان کی ضلالت میں ایک خاص وقت تک کیلئے چھوڑ دیجئے یعنی ان کی موت تک کیا یوں سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال و اولاد و دنیا میں دے رہے ہیں تو ہم ان کو فائدہ پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں نہیں بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں ہیں کہ ان کے لئے ڈھیل ہے بیشک وہ لوگ جو اپنے رب کی ہیبت سے خوف زدہ رہتے ہیں یعنی اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنے رب کی آیتوں یعنی قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی تصدیق کرتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ یعنی اس کے ساتھ کسی غیر کو شریک نہیں کرتے اور وہ لوگ دیتے ہیں جو دیتے ہیں صدقات سے اور کرتے ہیں نیک اعمال جو کرتے ہیں اور ان کے قلوب اس بات سے لرزاں رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکی قبول نہ کی جائے اس لئے کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے اَنَّھُمْ سے پہلے لام جر مقدر مانا جائے گا، یہی ہیں وہ لوگ جو نیکیوں میں جلدی کر رہے ہیں اور یہی لوگ اللہ کے علم میں نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں، اور ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کام کا مکلف نہیں بناتے یعنی اس کی طاقت سے (زیادہ) لہٰذا جو شخص کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور جو شخص روزہ نہ رکھ سکے تو نہ رکھے، اور ہمارے پاس ایک دفتر ہے جو ٹھیک ٹھیک (ہر وہ) کام بتادیتا ہے جو کسی نے کیا ہو اور وہ لوح محفوظ ہے جس میں اعمال لکھے جاتے ہیں اور ان عمل کرنے والے لوگوں پر ان کے اعمال کے بارے میں ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا، لہٰذا نہ تو ان نیک اعمال کا اجر کیا جائے گا اور نہ ان کے اعمال بد میں اضافہ کیا جائے گا بلکہ ان کافروں کے قلوب اس قرآن کے بارے میں جہالت میں ہیں اور ان (کافروں کے) مومنین کے اعمال مذکورہ کے برخلاف اور اعمال بھی ہیں جن کو وہ کرتے ہیں تو ان (کافروں) کو ان اعمال پر عذاب دیا جائے گا، یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال مالداروں اور سرداروں کو عذاب میں یعنی یوم بدر کی تلوار کے عذاب میں پکڑلیں گے تو وہ چلانے لگیں گے (تو) ان سے کہا جائے گا، اب مت چلاؤ ہماری طرف سے تمہاری مطلق مدد نہ کی جائے گی میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم ایمان سے تکبر کرتے ہوئے الٹے ہاؤں بھاگتے تھے یعنی الٹے پلٹ جاتے تھے بیت اللہ یا حرم کی وجہ سے کہ وہ اہل حرم تھے اور اہل حرم امن میں تھے، بخلاف دیگر تمام لوگوں کے کہ اپنے مقامات میں (کہ غیر مامون تھے) رات کو باتیں بناتے ہوئے بیہودہ بکتے ہوئے یعنی جماعت کی شکل میں بیت اللہ کے گرد جمع ہو کر بیہودہ باتیں بناتے تھے، تَھْجُرُوْنَ ثلاثی سے تَتْرُکُوْنَ القُرآنَ کے معنی میں ہے اور رباعی سے تُھْجِرُوْنَ تقولون کے معنی میں ہے یعنی تم نبی اور قرآن کے بارے میں ناحق باتیں کرتے تھے کیا ان لوگوں نے اس کلام یعنی قرآن میں جو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت پر دال ہے غور نہیں کیا ؟ یَدَّبرُوا کی اصل یَتَدَبَّرُوْا تھی تا کو دال میں ادغام کردیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو ان کے پہلے آبا و اجداد کے پاس نہیں آئی تھی یا یہ لوگ اپنے رسول سے واقف نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کے منکر ہیں یا یہ لوگ آپ کے بارے میں جنون کے قائل ہیں ؟ اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوْا میں استفہام اقرار حق پر آمادہ کرنے کیلئے ہے وہ حق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت اور امم ماضیہ میں رسولوں کی آمد اور ان کا اپنے رسولوں کی صداقت و امانت کی معرفت اور یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنون نہیں ہیں بلکہ (اصلی وجہ یہ ہے) کہ یہ رسول ان کے پاس حق بات لیکر آئے ہیں، یعنی قرآن کو جو کہ توحید اور قانون اسلام پر مشتمل ہے اور ان میں کے اکثر لوگ حق بات سے نفرت کرتے ہیں اور اگر حق یعنی قرآن ان کی خواہشات کے تابع ہوجاتا بایں طور کہ جو یہ چاہتے وہی لاتا (یعنی) اللہ کیلئے شریک اور اولاد اللہ تعالیٰ اس سے برتر ہے تو آسمان اور زمین اور جواب میں ہیں سب تباہ ہوجاتے یعنی اپنے نظام مشاہد سے نکل جاتے تعدو حکام کے وقت عادۃ شئ میں اختلاف ہونے کی وجہ سے بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت کی بات یعنی قرآن جس میں ان کا ذکر اور شرف ہے بھیجی سو یہ لوگ اپنی نصیحت سے بھی روگردانی کرتے ہیں یا آپ ان سے کچھ آمدنی چاہتے ہیں یعنی ایمان کی باتوں پر جن کو آپ ان کے لئے لیکر آئے ہیں کچھ اجرت طلب کرتے ہیں تو آمدنی تو آپ کے رب کی یعنی اس کا اجر وثواب اور اس کا رزق بہتر ہے اور ایک قرأت میں دونوں جگہ خَرْجًا ہے اور ایک قرأت میں دونوں جگہ خَراجًا ہے اور وہ دینے والوں میں سب سے اچھا دینے والا ہے یعنی عطا کرنے والوں اور اجر دینے والوں میں وہ سب سے بہتر ہے آپ تو ان کو سیدھے راستہ یعنی دین اسلام کی طرف بلا رہے ہیں اور ان لوگوں کی جو آخرت پر یعنی بعث وثواب و عقاب پر ایمان نہیں رکھتے یہ حالت ہے کہ (سیدھے) راستہ سے ہٹے جاتے ہیں اور اگر ہم ان پر مہربانی فرمائیں اور ان پر جو تکلیف ہے یعنی وہ بھکمری جو سات سال تک مکہ میں ان کو لاحق ہوگئی تھی دور کردیں تو وہ لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے اصرار کرتے رہیں اور ہم نے ان کو بھکمری کے عذاب میں گرفتار (بھی) کیا ہے مگر ان لوگوں نے نہ اپنے رب کے سامنے عاجزی تواضع اختیار کی اور نہ تضرع کیا، یعنی نہ دعاء میں اللہ کی طرف رغبت کی یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر بدر کے دن قتل کے ذریعہ شدید عذاب کا دروازہ کھول دیا تو اچانک اس دن میں ہر خیر سے ناامید ہوگئے۔
قولہ : بل لا یشعرون یہ یحْسَبُوْنَ سے اضراب ہے یعنی ان کا خیال غلط ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
یایھا الرسل۔۔۔ الطیبات اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے مگر مراد ہر نبی ہے، یعنی ہر نبی کو اس کے زمانہ میں یہی حکم تھا۔
قولہ : واعلموا أنَّ ھٰذہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَاحِدَۃً مفسر علام نے اعلموْا مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ أنَّ فتحہ ہمزہ کے ساتھ ہے اور ھٰذہٖ أنّ کا اسم ہے اور اُمَّتُکُمْ اس کی خبر ہے اور اُمَّۃً حال لازمہ ہے اور وَاحِدَۃً اس کی صفت لازمہ ہے اور ایک قرأت میں تخفیف نون اور فتحہ ہمزہ کے ساتھ ہے یعنی مخفہ عن المثقلہ ہے اس کا اسم ضمیر شان محذوف ہے، اور ایک تیسری قرأت میں اِنَ نون مشددہ اور ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے اس صورت میں یہ جملہ مستانفہ ہوگا جملہ مستانفہ پر عطف ہونے کی وجہ سے، اس لئے کہ معطوف علی المستانفہ، مستانفہ ہوتا ہے۔
قولہ : اَمْرُھُمْ یہ تَقَطَّعُوْا بمعنی قَطَّعُوْا کا مفعول ہے، جیسے تَقَدَّمَ بمعنی قَدَّمَ آتا ہے ای جَعَلُوْا دِینَھُمْ ادیانا مختلفۃً ۔
قولہ : زبُرُ یہ زبور کی جمع ہے بمعنی فریق، لوہے کا ٹکڑا یہ تَقَطَّعُوْا کے فاعل سے حال ہے یا اس کا مفعول۔
قولہ : فی غمرَتِھِمْ یہ فذرھم کا مفعول ثانی ہے، ای اُتْرَکھُمْ مستقرین فی غمرتھم۔
قولہ : انَّمَا نُمِدُّھُمْ ما موصولہ ہے اس لئے کہ من مال وبنین اس کا بیان آرہا ہے یہ ما کے موصولہ ہونے کی دلیل ہے لہٰذا مَا کو اَنَّ سے جدا کرکے لکھا جانا چاہیے تھا لیکن مصحف امام (مصحف عثمانی) کے رسم الخط کی اتباع کرتے ہوئے اِنَ کو مآ کے ساتھ متصل کردیا، یہ مَا، أنَّ کا اسم ہے اور نسارع جملہ ہو کر خبر ہے اور رابطہ کی ضمیر محذوف ہے ای بہ۔
قولہ : اِنَّ الذین ھم مِنْ خشیَۃِ رَبِّھِمٌ مُشفقونَ الذین اِنَ کا اسم ہے، ھُمْ مبتدا ہے مشفقون مبتداء کی خبر ہے مِنْ خشیَۃ ربھم، مشفقون کے متعلق ہے، ھم مبتدا اپنی خبر مشفقون سے ملکر صلہ موصول کا، موصول اپنے صلہ سے ملکر اِنّ کا اسم ہے، اسی طرح آئندہ آنے والے چاروں موصول اِنّ کا اسم ہیں اور اُولٰئِکَ یُسارعُونَ فی الخَیْرَاتِ جملہ ہو کر اِنّ کی خبر ہے۔
قولہ : والذین یُوتُون یُعطون ما اَعْطَوْا عام مفسرین اس پر ہیں کہ یپوتون ایتاءً سے ہے ای یعطون ما اَعْطَوْا ابن عباس (رض) اور عائشہ (رض) وغیرہما فرماتے ہیں کہ یوتون مَا اَتوا اتیان سے ہے ای یفعلون ما فعلوا من الاعمال الصالحات مفسر علام نے دونوں معنی کی رعایت کرتے ہوئے مَا کے بیان میں دو لفظ ذکر کئے ہیں، من الصدقۃ کا تعلق عام مفسرین کے معنی کے اعتبار سے اور اعمال صالحہ کا تعلق حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت عائشہ (رض) کی قرأت سے ہے۔ قولہ : وَجِلَۃٌ حال ہے یوتون کی ضمیر سے۔
قولہ : یُقَدّرُ قَبْلَہٗ لام الجَرِّ ، أنَّھُمْ سے پہلے لام جر مقدر مانا جائے گا تاکہ وَجِلَۃٌ کی علت ہوجائے یعنی ان کے قلوب اس لئے خائف رہتے ہیں کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
قولہ : وَھُمْ لَھَا سَابِقُوْن یہ اصل میں وھم سابقون لَھَا تھا فواصل کی رعایت کیلئے لَھَا کو مقدم کردیا، یہ جملہ مبتدا خبر ہے، وَھُمْ لا یُظْلَمُوْنَ ، ھم ضمیر نفس کی طرف راجع ہے جو کہ لاتُکَلِّفُ نَفْسًا میں ہے نفسٗ چونکہ نفی کی تحت واقع ہے جس کی وجہ سے عموم مراد ہے جس کے اندر جمع کے معنی ہیں، اس لئے وَھُمْ لا یُظْلَمُوْنَ میں جمع کا صیغہ لانا درست ہے۔
قولہ : وَلَھُمْ الخ ای للکفار اَعْمَالٗ ۔ خبیثۃً مِن دون ذٰلک الأعمال المذکورۃ للمؤمنین قتادہ نے کہا ہے کہ لَھُمْ کی ضمیر کا مرجع مسلمین ہے یعنی مومنین کیلئے اعمال مذکورہ کے علاوہ اور بھی نیک اعمال ہیں جنکو وہ کرتے رہتے ہیں، بغوی نے کہا ہے کہ اول معنی زیادہ ظاہر ہیں
قولہ : حَتّٰی انتدائیۃً یعنی اس کے بعد سے کلام کی ابتدا ہو رہی ہے۔
قولہ : اِذَا اَخَذْنَا مترفیھم شرط ہے اِذَا ھُمْ یَجْأرُوْنَ اس کی جزاء اِذَا مفاجاتیہ ہے بمعنی فا ہے تقدیر عبارت یہ ہے حَتّٰی اِذَا اَخَذْنَا مُتْرفِیھم بالعذاب فاجئروا بالصراخ یَجْئَرُوْنَ مضارع جمع مذکر غائب (فتح) جئرًا بےقرار ہو کر فریاد کرنا، گائے بیل کا چلانا، تَنْکِصُوْنَ
مضارع جمع مذکر حاضر ہے (ض) نکوص پھرنا، واپس ہونا۔
قولہ : مستکبرین بہ جار مجرور مستکبرین سے متعلق ہے باسببیہ ہے یا سامرًا سے متعلق ہے بابمعنی فی ہے بہٖ کا مرجع یا قرآن ہے جو کہ کانت آیاتی سے مفہوم ہے یا اس کا مرجع بیت اللہ یا حرم ہے، اگرچہ ان دونوں کا سابق میں ذکر نہیں ہے مگر بیت اللہ اور حرم پر ان کا فخر و استکبار اس قدر مشہور تھا کہ مذکور نہ ہونے کی صورت میں بھی مذکور سمجھا جاتا تھا۔
قولہ : مستکبرین وسامراً وتَھْجَرونَ یہ تینوں ینکصون کی ضمیر سے حال ہیں، مفسر علام کیلئے زیادہ بہتر تھا کہ حالٌ کو تھجرون کے بعد ذکر کرتے اور حالٌ کے بجائے احوال فرماتے۔
قولہ : بِاَنَّھُمْ اَھْلُہٗ باسببیہ ہے بیان علت کیلئے یعنی ایمان سے استکبار کرتے تھے یہ علت اور دلیل بیان کرتے ہوئے کہ ہم بیت اللہ کے منتظم اور متولی ہیں۔ قولہ : اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوْا القول ہمزہ محذوف پر داخل ہے اور فاعاطفہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَعَمُوْا فَلَمْ یَدَّبرُوْا کیا یہ لوگ (قدرت کی نشانیوں سے) اندھے ہوگئے ہیں کہ (ان میں) غور و فکر نہیں کرتے۔
قولہ : عادۃ یہاں مناسب یہ تھا کہ عادۃ کے بجائے عَقْلاً کہتے، اس لئے کہ وجود مشرک فساد عالم کا عقلاً مقتضی ہے نہ کہ عادۃ۔
قولہ : مبلسون ابلاس سے مشتق ہے اس کے معنی ناامید ہونا، مایوس ہونا، اسی سے ابلیس ہے کہ وہ بھی رحمت خداوندی سے مایوس ہوگیا ہے۔
تفسیر و تشریح
یایھا الرسل۔۔۔ صالحا، اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمام انبیاء کرام کو اپنے اپنے زمانہ میں دو باتوں کی ہدایت دی گئی اول یہ کہ پاکیزہ اور حلال چیزیں کھائیں دوم یہ کہ نیک اعمال کریں، جب انبیاء کرام جو کہ معصوم ہوتے ہیں ان کو یہ ہدایت ہے تو امت تو بطریق اولیٰ اس کی مخاطب ہوگی، بلکہ اصل مقصود امت ہی کو ہدایت کرنا ہے، علماء نے اس حکم سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حلال غذا کا عمل صالح میں بڑا دخل ہے جب غذا حلال ہوتی ہے تو نیک عمل کی توفیق خود بخود ہونے لگتی ہے، اور جب غذا حرام ہوتی ہے تو نیک کام کا ارادہ کرنے کے باوجود اس میں مشکلات حائل ہوجاتی ہیں، حدیث میں وارد ہے کہ بعض لوگ لمبے لمبے سفر کرتے ہیں اور غبار آلود رہتے ہیں پھر اللہ کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور یا رب یا رب پکارتے ہیں مگر ان کا کھانا بھی حرام ہوتا ہے، پینا بھی حرام، لباس بھی حرام ہوتا ہے اور حرام ہی کی ان کو غذا ملتی ہے ایسے لوگوں کی کہاں دعا قبول ہوسکتی ہے ؟
اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً واحدۃً لفظ امت جماعت اور کسی خاص پیغمبر کی قوم کے معنی میں معروف و مشہور ہے، اور کبھی یہ لفظ طریقہ اور دین کی معنی میں بھی آتا ہے یہاں یہی معنی مراد ہیں۔
فتقطعوا۔۔۔ زبر، زبور کی جمع ہے جو کتاب کے معنی میں آتا ہے اس معنی کے اعتبار سے مراد آیت کی یہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تو تمام انبیاء اور ان کی امتوں کو اصول اور عقائد میں ایک ہی دین اور طریقہ پر چلنے کی ہدایت فرمائی تھی مگر امتوں نے اس کو نہ مانا، اور آپس میں مختلف ٹکڑے ہوگئے ہر ایک نے اپنا اپنا طریقہ الگ اور اپنی کتاب الگ بنالی، اور زُبُرُ کبھی رُبُرۃ کی جمع بھی آتی ہے جس کے معنی قطعہ اور ٹکڑے کے ہیں یہی معنی اس جگہ زیادہ واضح ہیں، اور مراد آیت کی یہ ہے کہ لوگ عقائد اور اصول میں بھی مختلف فرقہ بن گئے لیکن فروعی اختلاف ائمہ مجتہدین اس میں داخل نہیں کیونکہ ان اختلافات سے دین و ملت الگ نہیں ہوجاتی، اس اجتہادی اور فروعی اختلاف کو فرقہ واریت کا رنگ دینا خالص جہالت ہے جو کسی مجتہد کے نزدیک جائز نہیں۔ (معارف)
والذین۔۔۔۔۔۔ ایتاءً سے مشتق ہے جس کی معنی دینے اور خرچ کرنے کے ہیں اسی لئے اس کی تفسیر صدقات سے کی گئی ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے ایک قرأت یَاتُوْنَ مَا آتَوْا بھی منقول ہے یعنی عمل کرنے میں جو کچھ کرتے ہیں، اس میں صدقات نماز روزہ اور دیگر تمام نیک اعمال شامل ہوجاتے ہیں، اسی قرأت کی رعایت کرتے ہوئے مفسر علام نے والاعمال الصالحہ سے تفسیر کی ہے، مشہور قرأت کے مطابق اگرچہ یہاں ذکر صدقات ہی کا ہوگا مگر بہرحال مراد عام اعمال صالحۃ ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ یہ کام کرکے ڈرنے والے وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے یا چوری کرتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے صدیق کی بیٹی یہ بات نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور صدقات دیتے ہیں اس کے باوجود اس سے ڈرتے رہتے ہیں کہ شاید ہمارے یہ اعمال اللہ کے نزدیک (ہماری کسی کوتاہی کے سبب) قبول نہ ہوں ایسے ہی لوگ نیک کاموں میں مسارعت اور مسابقت کیا کرتے ہیں (رواہ احمد والترمذی) حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو نیک عمل کرکے اتنے ڈرتے تھے کہ تم برے عمل کرکے اتنے نہیں ڈرتے۔ (قرطبی)
اولئک۔۔۔۔۔ الخیرات کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا دار دنیا کے فوائد کیلئے دنیا کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کے فکر میں رہتے ہیں یہ حضرات دین کے فوائد کیلئے ایسا ہی عمل کرتے ہیں اسی لئے وہ دین کے کاموں میں دوسروں سے آگے رہتے ہیں۔ (معارف)
ولھم۔۔۔ ذلک، اس آیت کی ضروری تشریح تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گذر چکی ہے ملاحظہ کرلی جائے، راحج تفسیر یہ ہے کہ ان کی گمراہی کیلئے تو ایک شرک و کفر ہی کا پردۂ غفلت کافی تھا مگر وہ اسی پر بس نہیں کرتے اس کے علاوہ دیگر اعمال خبیثہ بھی مسلسل کرتے رہتے ہیں۔ قولہ : مُتْرَفِیھِمْ مُتْرَفٌ تَرْفٌ سے مشتق ہے جس کے معنی خوشحالی کے ہیں، اس جگہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کا ذکر ہے جس میں امیر غریب خوشحال بدحال سبھی داخل ہوں گے مگر یہاں خوشحال لوگوں کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا ہے کہ ایسے ہی لوگ دنیا کے مصائب سے اپنے بچاؤ کیلئے کچھ سامان کرلیا کرتے ہیں مگر جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب سے پہلے یہی لوگ بےبس ہو کر رہ جاتے ہیں اس آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تلوار سے ان کے سروں پر نازل ہوا تھا، اور بعض حضرات نے اس عذاب سے وہ قحط کا عذاب مراد لیا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بددعا سے مکہ والوں پر مسلط کردیا گیا تھا، یہاں تک کہ وہ مردار جانور اور کتے اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہوگئے تھے، بعض مفسرین نے عذاب آخرت بھی مراد لیا ہے مگر یہ سیاق وسباق کے مطابق نہیں ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کیلئے بددعا بہت کم کی ہے لیکن اس موقع پر مسلمانوں پر ان کے مظالم کی شدت سے مجبور ہو کر یہ بددعا کی تھی ” اَللّٰھُمَّ اشدد وَطأتکَ علیٰ مَضْر واجعلھَا عَلَیْھم سنین کسنِّی یوسفَ “ (رواہ البخاری و مسلم)
مستکبرین۔۔۔ تھجرون، اس میں بِہٖ کی ضمیر اکثر مفسرین نے حرم کی طرف راجع قرار دی ہے جیسا کہ علامہ محلی کی بھی یہی رائے ہے، حرم کا اگرچہ سابق میں کہیں ذکر نہیں مگر حرم سے قریش مکہ کا گہرا تعلق اور فخر و ناز اتنا معروف و مشہور تھا کہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، اور معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ قریش مکہ کا قرآن کی آیتیں سن کر پچھلے پاؤں بھاگنے (اعراض کرنے) کا سبب حرم مکہ کی نسبت اور اس کی خدمت پر ان کا تکبر اور ناز تھا، اور سَامرًا سَمْرٌ سے مشتق ہے جس کے اصل معنی چاندنی رات کے ہیں، عرب کی عادت تھی کہ چاندنی رات میں بیٹھ کر قصے کہانی کہا کرتے تھے اس لئے لفظ سَمْرٌ قصہ کہانی کے معنی میں استعمال ہونے لگا اور سامر قصہ گو کو کہا جاتا ہے، یہ لفظ اگرچہ مفرد ہے مگر معنی میں جمع کے بولا جاتا ہے اس جگہ سامر بمعنی سامرین جمع کیلئے استعمال ہوا ہے، صاحب جلالین نے اسی جمع کے معنی کیلئے جماعۃٌ کا لفظ لاکر اشارہ کیا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے کہ سمرٌ کے معنی رات کو گفتگو کرنے کے ہیں، یہاں رہتے تھے اور قرآن اور صاحب قرآن کا مذاق اڑاتے ہوئے تفریحی کلمہ چست کرتے تھے اسی بنا پر حق کی بات سننے سے انکار کردیتے تھے اس سے بڑھ کر یہ کہ قرآن اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں بکواس اور فحش گوئی کرتے تھے۔
عشاء کے بعد فضول جاگنے کی ممانعت : رات کو قصہ گوئی کا مشغلہ عرب اور عجم میں قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے، اس میں بہت سے فاسد ہیں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رسم کو ختم کرنے کیلئے عشاء سے پہلے سونے کی اور عشاء کے بعد فضول قصہ گوئی کو منع فرمایا ہے حکمت یہ تھی کہ عشا کی نماز پر انسان کے اعمال یومیہ ختم ہو رہے ہیں، جو دن بھر کے گناہوں کا کفارہ ہوسکتا ہے اگر عشاء کے بعد فضول قصہ گوئی میں لگ گیا اولاً تو یہ فعل خود عبث اور مکروہ ہے اس کے علاوہ اس کے ضمن میں غیبت جھوٹ اور دوسرے طرح کے گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، اور ایک اس کا برا انجام یہ ہے کہ جب رات کو دیر تک جاگے تو صبح سویرے نہیں اٹھ سکے گا، اسی لئے فاروق اعظم جب کسی کو عشاء کے بعد فضول قصہ گوئی میں مشغول دیکھتے تو تنبیہ فرماتے تھے اور بعض کو سزا بھی دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جلد سو جاؤ شاید آخر رات میں تہجد کی توفیق ہوجائے۔ (قرطبی)
افلم۔۔۔ القول سے اَمْ یقولون بہٖ جِنۃ تک ایسی پانچ چیزوں کا ذکر ہے جو مشرکین کیلئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے سے کسی درجہ میں مانع ہوسکتی تھیں ان میں سے ہر ایک کے منفی ہونے کا بیان اس کے ساتھ کردیا ہے، حاصل اس کا یہ ہے کہ جو وجوہ ان لوگوں کیلئے ایمان سے مانع ہوسکتی تھیں ان میں سے کوئی بھی وجہ موجود نہیں اور ایمان لانے کیلئے جو اسباب و وجوہ داعی ہیں وہ سب موجود ہیں اس لئے اب ان کا انکار، ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں جس کا ذکر اس کے بعد کی آیت میں اس طرح فرمایا بَلْ جَاءَھُمْ بِالحَقِّ وَاَکْثرُھُمْ لِلْحَقِّ کارِھُوْنَ یعنی انکار رسالت کی کوئی عقلی یا طبعی وجہ موجود نہیں پھر انکار کا سبب اس کے سوال کچھ نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق بات لیکر آئے ہیں اور یہ لوگ حق بات ہی کو برا سمجھتے ہیں سننا نہیں چاہتے جس کا سبب ہوا و ہوس کا غلبہ اور بقاء اقتدار کی خواہش ہے ان پانچ چیزوں میں سے جو کہ بظاہر اقرار بالنبوت سے مانع ہوسکتی ہیں ان میں سے ایک کا بیان مندرجہ ذیل
آیت میں ہے۔
ام لم۔۔۔۔ رسولھم یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لیکر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا کہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات واطوار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اسے کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے، اور بچپن سے لیکر جوانی کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گذرا آپ کا کوئی عمل اور عادت ان سے پوشیدہ نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار آپ کو صادق و امین کہا کرتے تھے آپ کے کردار عمل پر کسی نے بھی کبھی شبہ ظاہر نہیں کیا تھ اتو اب ان کا یہ عذر نہیں چل سکتا کہ وہ ان کو پہچانتے نہیں۔
ولقد۔۔۔ بالعذاب اس سے پہلی آیت میں مشرکین کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ لوگ جو عذاب میں مبتلا ہونے کے وقت اللہ سے یا رسول سے فرماد کرتے ہیں اگر ہم ان کی فریاد پر رحم کھا کر عذاب ہٹا دیں تو ان کی جبلی شرارت و سرکشی کا عالم یہ ہے کہ عذاب سے نجات پانے کے بعد پھر بھی اپنی سرکشی اور نافرمانی میں مشغول ہوجائیں گے اس آیت میں ان کے ایک اسی طرح کے واقعہ کا بیان ہے، کہ ان کو ایک عذاب میں پکڑا گیا، مگر عذاب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی بدولت نجات پانے کے بعد بھی یہ اللہ کے سامنے نہیں جھکے اور برابر اپنے کفر و شرک پر جمے رہے۔
اہل مکہ پر قحط کا عذاب : پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ پر قحط کا عذاب مسلط ہونے کی دعا کی تھی جس کی وجہ سے یہ سخت قحط کے عذاب میں مبتلا ہوئے اور مردار وغیرہ کھانے پر مجبور ہوگئے، یہ دیکھ کر ابو سفیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں آپ کو اللہ کی اور صلہ رحمی کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے یہ نہیں کہا کہ میں اہل عرب کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں، آپ نے فرمایا بیشک کہا ہے اور واقعہ بھی یوں ہی ہے، ابو سفیان نے کہا آپ نے اپنی قوم کے بڑوں کو تو بدر کے معرکہ میں تلوار سے قتل کردیا اور جو رہ گئے ہیں ان کو بھوک سے قتل کر رہے ہیں، اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہم سے ہٹ جائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی یہ عذاب اسی وقت ختم ہوگیا اسی پر یہ آیت وَلَقَدْ اَخَذْنٰھُمْ بِالعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ نازل ہوئی اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ عذاب میں مبتلا ہونے پھر اس سے نجات پانے کے بعد بھی یہ لوگ اپنے رب کے سامنے نہیں جھکے چناچہ واقعہ یہی تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا سے قحط بھی رفع ہوگیا مگر مشرکین مکہ اپنے شرک و کفر پر اسی طرح جمے رہے، (مظہری وغیرہ بحوالہ معارف)
10 Tafsir as-Saadi
﴿ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ﴾ ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمہارے عملوں کو خوب جانتا ہوں۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے۔ البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پر تمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں مثلاً توحید الہٰی، دین میں اخلاص، محبت الہٰی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن لوک، کمزوروں، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔
اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہر قل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیا ئے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔
11 Mufti Taqi Usmani
aey payghumbero ! pakeezah cheezon mein say ( jo chahao ) khao aur naik amal kero . yaqeen rakho kay jo kuch tum kertay ho , mujhay uss ka poora poora ilm hai .
12 Tafsir Ibn Kathir
اکل حلال کی فضیلت
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء (علیہ السلام) کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کرلیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حلال چیزیں کھاؤ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ کے بننے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ سمیت ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ؟ اور حدیث میں ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد (علیہ السلام) کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ ام عبداللہ بن شداد (رض) فرماتی ہیں میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کردیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کردیا۔ آپ نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔ " انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں "، اور حدیث میں ہے آپ نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو ! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو ! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہنن احرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب اے رب کہتا ہے لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ امام ترمذی (رح) اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لئے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورة انبیاء میں اس کی تفسیر و تشریح ہوچکی ہے آیت (امتہ واحدۃ) پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔ جن امتوں کی طرف حضرت انبیاء (علیہم السلام) بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کردئے اور جس گمراہی پر اڑگئے اسی پر نازاں وفرحاں ہوگئے اس لئے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آجائے۔ کھانے پینے دیجئے، مست وبے خود ہونے دیجئے، ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا۔ کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال واولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کررہے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔ جیسے فرمان ہے۔ آیت ( فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 55) 9 ۔ التوبہ :55) تجھے ان کے مال واولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے یہ ڈھیل صرف اس لئے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے آیت ( ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ ) 74 ۔ المدثر :11) ، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لئے مہیا کردیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے ( وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ جَزَاۗءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ 37) 34 ۔ سبأ :37) تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہوجائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بےفکر نہ ہوجائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کرلے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کرجاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔