Skip to main content

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا ۗ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ

فَتَقَطَّعُوٓا۟
تو انہوں نے کاٹ لیا
أَمْرَهُم
اپنا دین۔ اپنا معاملہ
بَيْنَهُمْ
آپس میں
زُبُرًاۖ
ٹکڑے ٹکڑے
كُلُّ
ہر
حِزْبٍۭ
فریق۔ گروہ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
لَدَيْهِمْ
ان کے پاس ہے
فَرِحُونَ
خوش ہونے والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو ان کی امتوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے،

احمد علی Ahmed Ali

پھر انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر ایک جماعت اس ٹکڑے پو جو ان کے پاس ہے خوش ہونے والے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لئے، ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر اترا رہا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو پھر آپس میں اپنے کام کو متفرق کرکے جدا جدا کردیا۔ جو چیزیں جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے خوش ہو رہا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیئے، ہر گروه جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر اترا رہا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

مگر ان لوگوں نے اپنے (دینی) معاملہ کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا پس ہر گروہ کے پاس جو (دین) ہے وہ اس پر خوش ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور ہر گروہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے اسی پر خوش اور مگن ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پس انہوں نے اپنے (دین کے) امر کو آپس میں اختلاف کر کے فرقہ فرقہ کر ڈالا، ہر فرقہ والے اسی قدر (دین کے حصہ) سے جو ان کے پاس ہے خوش ہیں،