Skip to main content

قُل رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّىْ مَا يُوْعَدُوْنَۙ

قُل
کہہ دیجیے
رَّبِّ
اے میرے رب
إِمَّا
خواہ
تُرِيَنِّى
تو دکھائے مجھ کو
مَا
جو
يُوعَدُونَ
وہ وعدہ کیے جاتے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے محمدؐ، دعا کرو کہ "پروردگار، جس عذاب کی اِن کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے محمدؐ، دعا کرو کہ "پروردگار، جس عذاب کی اِن کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم عرض کرو کہ اے میرے رب! اگر تو مجھے دکھائے جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو اے میرے رب اگر تو مجھے دکھائے وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جارہا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! اگر تو مجھے وہ دکھائے جس کا وعدہ انہیں دیا جا رہا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے محمدﷺ) کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہو رہا ہے، اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کرکے مجھے بھی دکھادے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! اگر تو مجھے وه دکھائے جس کا وعده انہیں دیا جا رہا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول(ص)) آپ کہئے کہ اے میرے پروردگار اگر تو مجھے وہ عذاب دکھا دے جس کی ان لوگوں کو دھمکی دی جا رہی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور آپ کہئے کہ پروردگار اگر جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا ہے مجھے دکھا بھی دینا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

آپ (دعا) فرمائیے کہ اے میرے رب! اگر تو مجھے وہ (عذاب) دکھانے لگے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

برائی کے بدلے اچھائی
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہوسکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کرلینے کے عادی ہوجائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
شیطان سے بچنے کی دعائیں
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لئے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک واحسان سے بس میں نہیں آنے کے استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا (اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم) من ہمزہ ونفخہ ونفشہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابو داؤد میں ہے کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ (اللہم انی اعوذبک من الھرم واعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت) ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہوجانے کے مرض کو دور کرنے کے لئے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ دعا (بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامتہ من غضبہ و عقابہ ومن شر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون) ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کرسکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ ابو داؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی (رح) اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔