Skip to main content

وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِىْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ۗ اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا ۚ بَلْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ نُشُوْرًا

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
أَتَوْا۟
وہ گزرتے ہیں
عَلَى
پر
ٱلْقَرْيَةِ
اس بستی
ٱلَّتِىٓ
وہ جو
أُمْطِرَتْ
برسائی گئی تھی
مَطَرَ
بارش
ٱلسَّوْءِۚ
بری
أَفَلَمْ
کیا بھلا نہیں
يَكُونُوا۟
وہ تھے
يَرَوْنَهَاۚ
دیکھنے اس کو
بَلْ
بلکہ
كَانُوا۟
تھے وہ
لَا
نہ
يَرْجُونَ
امید رکھتے
نُشُورًا
جی اٹھنے کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی کیا انہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہو گا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی کیا انہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہو گا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ضرور یہ ہو آئے ہیں اس بستی پر جس پر برا برساؤ برسا تھا تو کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے بلکہ انہیں جی اٹھنے کی امید تھی ہی نہیں

احمد علی Ahmed Ali

اور یہ اس بستی پر بھی گزرے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے سو کیا یہ لوگ اسے دیکھتے نہیں رہتے بلکہ یہ لوگ مر کر زندہ ہونے کی امید ہی نہیں رکھتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ لوگ اس بستی کے پاس سے بھی آتے جاتے ہیں جن پر بری طرح بارش برسائی گئی (١) کیا یہ پھر بھی اسے دیکھتے نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مر کر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں (٢)۔

٤٠۔١ بستی سے، قوم لوط کی بستیاں سدوم اور عمورہ وغیرہ مراد ہیں اور بری بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ ان بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا اور اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش کی گئی تھی جیسا کہ (فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ) 11۔ہود;82) میں بیان ہے۔ یہ بستیاں شام فلسطین کے راستے میں پڑتی ہیں، جن سے گزر کر ہی اہل مکہ آتے جاتے تھے۔
٤٠۔٢ اس لئے ان تباہ شدہ بستیوں اور ان کے کھنڈرات دیکھنے کے باوجود عبرت نہیں پکڑتے۔ اور آیات الٰہی اور اللہ کے رسول کو جھٹلانے سے باز نہیں آتے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح کا مینہ برسایا گیا تھا۔ کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہوں گے۔ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اُٹھنے کی امید ہی نہیں تھی۔

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ لوگ اس بستی کے پاس سے بھی آتے جاتے ہیں جن پر بری طرح کی بارش برسائی گئی۔ کیا یہ پھر بھی اسے دیکھتے نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مرکر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور (یہ لوگ) اس بستی سے گزرے ہیں! جس پر (پتھروں کی) بڑی بارش برسائی گئی تھی کیا (وہاں سے گزرتے ہوئے) اسے دیکھتے نہیں رہتے بلکہ (دراصل بات یہ ہے کہ) یہ حشر و نشر کی امید ہی نہیں رکھتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ لوگ اس بستی کی طرف آئے جس پر ہم نے پتھروں کی بوچھار کی تھی تو کیا ان لوگوں نے اسے نہیں دیکھاحقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کی امید ہی نہیں رکھتے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور بیشک یہ (کفار) اس بستی پر سے گزرے ہیں جس پر بری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی، تو کیا یہ اس (تباہ شدہ بستی) کو دیکھتے نہ تھے بلکہ یہ تو (مرنے کے بعد) اٹھائے جانے کی امید ہی نہیں رکھتے،