Skip to main content

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَـكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْۗ بَلْ اَنْـتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ

وَتَذَرُونَ
اور تم چھوڑ دیتے ہو
مَا
جو
خَلَقَ
پیداکیا
لَكُمْ
تمہارے لیے
رَبُّكُم
تمہارے رب نے
مِّنْ
میں سے
أَزْوَٰجِكُمۚ
تمہاری بیویوں
بَلْ
بلکہ
أَنتُمْ
تم
قَوْمٌ
قوم ہو،
عَادُونَ
حد سے گزرنے والی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جوروئیں بنائیں، بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو

احمد علی Ahmed Ali

اور تمہارے رب نےجو تمہارے لیے بیویاں پیدا کر دی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالٰی نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو (١) بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے (٢)۔

١٦٦۔١ یہ قوم لوط کی سب سے بری عادت تھی، جس کی ابتداء اسی قوم سے ہوئی تھی، اسی لئے اس فعل بد کو لواطت سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی بد فعلی جس کا آغاز قوم لوط سے ہوا لیکن اب یہ بد فعلی پوری دنیا میں عام ہے بلکہ یورپ میں تو اسے قانوناً جائز تسلیم کر لیا گیا ہے یعنی ان کے ہاں اب سرے سے گناہ ہی نہیں ہے۔ جس قوم کا مذاج اتنا بگڑ گیا ہو کہ مرد عورت کا ناجائز جنسی ملاپ (بشرطیکہ باہمی رضامندی سے ہو) ان کے نزدیک جرم نہ ہو، تو وہاں دو مردوں کا آپس میں بدفعلی کرنا کیونکر گناہ اور ناجائز ہو سکتا ہے۔؟ اعاذنا اللہ منہ
۱ ٦ ٦ ۔۲ عادون۔ عاد کی جمع ہے عربی میں عاد کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنے والا یعنی حق کو چھوڑ کر باطل کو اور حلال کو چھوڑ کر حرام کو اختیار کرنے والا اللہ تعالٰی نے نکاح شرعی کے ذریعے سے عورت کو فرج سے اپنی جنسی خواہش کی تسکین کو حلال قرار دیا ہے اور اس کام کے لیے مرد کی دبر کو حرام قوم لوط نے عورتوں کی شرم گاہوں کو چھوڑ کر مردوں کی دبر اس کام کے لیے استعمال کی اور یوں اس نے حد سے تجاوز کیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو۔ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان ازواج کو چھوڑ دیتے ہو جنہیں پروردگار نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے حقیقتا تم بڑی زیادتی کرنے والے لوگ ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں، بلکہ تم (سرکشی میں) حد سے نکل جانے والے لوگ ہو،