Skip to main content

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَۘ

وَٱتْلُ
اور پڑھ سنائیے
عَلَيْهِمْ
ان کو
نَبَأَ
خبر
إِبْرَٰهِيمَ
ابراہیم کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ان پر پڑھو خبر ابراہیم کی

احمد علی Ahmed Ali

اور انہیں ابراھیم کی خبر سنا دے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

انہیں ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی سنا دو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم (ع) کا قصہ بیان کیجئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور انہیں ابراہیم کی خبر پڑھ کر سناؤ

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور آپ ان پر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ (بھی) پڑھ کر سنا دیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ابراہیم (علیہ السلام) علامت توحیدی پرستی
تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔