Skip to main content

وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَـكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا ۚ وَلَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ

وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
أُوتُوا۟
جو دیئے گئے
ٱلْعِلْمَ
علم
وَيْلَكُمْ
تمہارا برا ہو
ثَوَابُ
ثواب
ٱللَّهِ
اللہ کا
خَيْرٌ
بہتر ہے
لِّمَنْ
واسطے اس کے جو
ءَامَنَ
ایمان لایا
وَعَمِلَ
اور اس نے عمل کئے
صَٰلِحًا
اچھے
وَلَا
اور نہیں
يُلَقَّىٰهَآ
ڈالا جاتا اسے
إِلَّا
مگر
ٱلصَّٰبِرُونَ
صبر کرنے والوں کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے "افسوس تمہارے حال پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے "افسوس تمہارے حال پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں

احمد علی Ahmed Ali

اور علم والوں نے کہا تم پر افسوس ہے الله کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لایا اور نیک کام کیا مگر صبر کرنے والوں سوا نہیں ملا کرتا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ذی علم انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وہ ہے جو بطور ثواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں (١) یہ باتیں انہی (۲) کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔

٨٠۔١ یعنی جن کے پاس دین کا علم تھا اور دنیا اور اس کے مظاہر کی اصل حقیقت سے باخبر تھے، انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ اللہ نے اہل ایمان اور اعمال صالح بجا لانے والوں کے لئے جو اجر و ثواب رکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جیسے حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے ' میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی کے وہم و گمان میں ان کا ذکر ہوا ' (البخاری کتاب التوحید)
۸۰۔۲ یعنی یلقاھا میں ھا کا مرجع، کلمہ ہے اور یہ قول اللہ کا ہے۔ اور اگر اسے اہل علم ہی کے قول کا تتمہ قرار دیا جائے تو ھا کا مرجع جنت ہوگی یعنی جنت کے مستحق وہ صابر ہی ہوں گے جو دنیاوی لذتوں سے کنارہ کش اور آحرت کی زندگی میں رغبت رکھنے والے ہوں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وه ہے جو بطور ﺛواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر وسہارا والے ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا وائے ہو تم پر! جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کیلئے اللہ کا صلہ و ثواب اس سے بہتر ہے اور یہ (حکمت و منزلت) صرف صبر و ثبات کرنے والوں کو مرحمت کی جاتی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جنہیں علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ افسوس تمہارے حال پر - اللرُ کا ثواب صاحبان هایمان و عمل صالح کے لئے اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور وہ ثواب صبر کرنے والوں کے علاوہ کسی کو نہیں دیا جاتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور (دوسری طرف) وہ لوگ جنہیں علمِ (حق) دیا گیا تھا بول اٹھے: تم پر افسوس ہے اللہ کا ثواب اس شخص کے لئے (اس دولت و زینت سے کہیں زیادہ) بہتر ہے جو ایمان لایا ہو اور نیک عمل کرتا ہو، مگر یہ (اجر و ثواب) صبر کرنے والوں کے سوا کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا،