جن لوگوں نے زخم کھا چکنے کے بعد بھی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر لبیک کہا، اُن میں جو صاحبانِ اِحسان ہیں اور پرہیزگار ہیں، ان کے لئے بڑا اَجر ہے،
English Sahih:
Those [believers] who responded to Allah and the Messenger after injury had struck them. For those who did good among them and feared Allah is a great reward –
1 Abul A'ala Maududi
جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا اُن میں جو اشخاص نیکوکار اور پرہیز گار ہیں اُن کے لیے بڑا اجر ہے
2 Ahmed Raza Khan
وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے،
3 Ahmed Ali
جن لوگو ں نے الله اور اس کے رسول کا حکم مانا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکے تھے جو ان میں سے نیک ہیں اور پرہیزگارہوئے ان کے لیے بڑا اجر ہے
4 Ahsanul Bayan
جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا اس کے بعد کہ انہیں پورے زخم لگ چکے تھے ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور پرہیز گاری برتی ان کے لئے بہت زیادہ اجر ہے (١)۔
١٧٢۔١ جب مشرکین جنگ احد سے واپس ہوئے تو راستے میں انہیں خیال آیا کہ ہم نے تو ایک سنہری موقع ضائع کر دیا۔ مسلمان شکست خوردنی کی وجہ سے خوف زدہ اور بےحوصلہ تھے ہمیں اس سے فائدہ اٹھا کر مدینہ پر بھرپور حملہ کر دینا چاہیے تھا تاکہ اسلام کا یہ پودا اپنی سر زمین (مدینہ) سے ہی نیست و نابود ہو جاتا۔ ادھر مدینہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اندیشہ ہوا کہ شاید وہ پلٹ کر آئیں لہذا آپ نے صحابہ کرام کو لڑنے کے لئے آمادہ کیا اور صحابہ کرام تیار ہوگئے۔ مسلمانوں کا یہ قافلہ جب مدینہ سے ٨ میل واقع 'حمراء الاسد ' پر پہنچا تو مشرکین کو خوف محسوس ہوا چنانچہ ان کا ارادہ بدل گیا اور وہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی بجائے مکہ واپس چلے گئے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء بھی مدینہ واپس آگئے۔ آیت میں مسلمانوں کے اسی جذبہ اطاعت اللہ و رسول کی تعریف کی گئی ہے۔ بعض نے اس کا سبب نزول حضرت ابو سفیان کی اس دھمکی کو بتلایا ہے کہ آئندہ سال بدر صغریٰ میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہوگا۔ (ابوسفیان ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) جس پر مسلمانوں نے بھی اللہ و رسول کی اطاعت کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاد میں بھرپور حصہ لینے کا عزم کر لیا۔ (ملخص از فتح القدیر و ابن کثیر مگر یہ آخری قول سیاق سے میل نہیں کھاتا)
5 Fateh Muhammad Jalandhry
جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے
6 Muhammad Junagarhi
جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا اس کے بعد کہ انہیں پورے زخم لگ چکے تھے، ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور پرہیزگاری برتی ان کے لئے بہت زیاده اجر ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
اور جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہی۔ ان میں سے جو نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لیے بڑا اجر و ثواب ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
یہ صاحبانِ ایمان ہیں جنہوں نے زخمی ہونے کے بعد بھی خدا اور رسول کی دعوت پر لبیک کہی- ان کے نیک کردار اور متقی افراد کے لئے نہایت درجہ اج» عظیم ہے
9 Tafsir Jalalayn
جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا و رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے
10 Tafsir as-Saadi
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ” حمراء الاسد“ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا
11 Mufti Taqi Usmani
woh log jinhon ney zakham khaney kay baad bhi Allah aur Rasool ki pukar ka farmanbardaari say jawab diya , aesay naik aur muttaqi logon kay liye zabardast ajar hai .