(یہ) وہ لوگ (ہیں) جن سے لوگوں نے کہا کہ مخالف لوگ تمہارے مقابلے کے لئے (بڑی کثرت سے) جمع ہو چکے ہیں سو ان سے ڈرو، تو (اس بات نے) ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور وہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا اچھا کارساز ہے،
English Sahih:
Those to whom people [i.e., hypocrites] said, "Indeed, the people have gathered against you, so fear them." But it [merely] increased them in faith, and they said, "Sufficient for us is Allah, and [He is] the best Disposer of affairs."
1 Abul A'ala Maududi
اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ، "تماررے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو"، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے
2 Ahmed Raza Khan
وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان س ے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز
3 Ahmed Ali
جنہیں لوگوں نے کہا کہ مکہ والوں نے تمہارے مقابلے کے لیے سامان جمع کیا ہے سوتم ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوا اور کہا کہ ہمیں الله کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے
4 Ahsanul Bayan
وہ لوگ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے میں لشکر جمع کر لئے ہیں۔ تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے (١)۔
١٧٣۔١ کہا جاتا ہے کہ ابو سفیان نے بعض لوگوں کو معاوضہ دے کر یہ افواہ پھیلائی کہ مشرکین مکہ لڑائی کے لئے بھرپور تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ سن کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہو جائیں، لیکن مسلمان اس قسم کی افواہیں سن کر خوف زدہ ہونے کی بجائے مذید عزم اور ولولہ سے سرشار ہوگئے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان جامد قسم کی چیز نہیں بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے۔ اسی لئے حدیث میں حسبُنا اللّٰہ و نَعْم الْوکِیْل پڑھنے کی فضیلت وارد ہے۔ نیز صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کی زبان پر یہی الفاظ تھے (فتح القدیر)۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
(جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے
6 Muhammad Junagarhi
وه لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لئے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
وہ کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے خلاف بڑا لشکر جمع کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
یہ وہ ایمان والے ہیں کہ جب ان سے بعض لوگوں نے کہاکہ لوگو ں نے تمہارے لئے عظےم لشکر جمع کرلیا ہے لہذا ان سے ڈرو تو ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوگیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے خدا کافی ہے اور وہی ہمارا ذمہ دار ہے
9 Tafsir Jalalayn
(جب) ان سے لوگوں نے آ کر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے
10 Tafsir as-Saadi
﴿إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ ﴾ اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمہیں مٹانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انہوں نے کہا۔ ﴿ حَسْبُنَا اللَّـهُ﴾ یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے ﴿وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾اور وہ بہترین کار ساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا اتنظام کرتا ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
woh log jinn say kehney walon ney kaha tha kay : yeh ( makkah kay kafir ) log tumharay ( muqablay ) kay liye ( phir say ) jama hogaye hain , lehaza inn say dartay rehna . to iss ( khabar ) ney unn kay emaan mein aur izafa kerdiya aur woh bol uthay kay : humaray liye Allah kafi hai aur woh behtareen kaarsaz hai .