آل عمران آية ۱۷۶
وَلَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِى الْكُفْرِۚ اِنَّهُمْ لَنْ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيْـــًٔا ۗ يُرِيْدُ اللّٰهُ اَ لَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِىْ الْاٰخِرَةِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ
طاہر القادری:
(اے غمگسارِ عالم!) جو لوگ کفر (کی مدد کرنے) میں بہت تیزی کرتے ہیں وہ آپ کو غمزدہ نہ کریں، وہ اللہ (کے دین) کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے،
English Sahih:
And do not be grieved, [O Muhammad], by those who hasten into disbelief. Indeed, they will never harm Allah at all. Allah intends that He should give them no share in the Hereafter, and for them is a great punishment.
1 Abul A'ala Maududi
(اے پیغمبرؐ) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اُن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے، اور بالآخر ان کو سخت سزا ملنے والی ہے
2 Ahmed Raza Khan
اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے،
3 Ahmed Ali
اور وہ لوگ آپ ے غم میں نہ ڈال دیں جو کفر کی طرف دوڑتے ہیں وہ الله کا کچھ نہیں بگاڑیں گے الله ارادہ کرتا ہے کہ آخرت میں انہیں کوئی حصہ نہ دے اوران کے لیے بڑا عذاب ہے
4 Ahsanul Bayan
کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ تجھے غمناک نہ کریں یقین مانو یہ اللہ تعالٰی کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اللہ تعالٰی کا ارادہ ہے کہ ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ عطا نہ کرے (١) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔
١٧٦۔١ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر اس بات کی شدید خواہش تھی کہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں، اسی لئے ان کے انکار اور تکذیب سے آپ کو سخت تکلیف پہنچی۔ اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں، یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اپنی ہی آخرت برباد کر رہے ہیں۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا۔ یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے
6 Muhammad Junagarhi
کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ تجھے غمناک نہ کریں، یقین مانو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، اللہ تعالیٰ کا اراده ہے کہ ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ عطا نہ کرے، اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
(اے رسول) وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ تمہیں غمزدہ نہ کریں یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اللہ کا ارادہ ہے کہ آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہ رکھے۔ اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور آپ کفر میں تیزی کرنے والوں کی طرف سے رنجیدہ نہ ہوں یہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرسکتے... خدا چاہتا ہے کہ ان کا آخرت میں کوئی حصّہ نہ رہ جائے اور صرف عذابِ عظیم رہ جائے
9 Tafsir Jalalayn
اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے
آیت نمبر ١٧٦ تا ١٨٠
ترجمہ : جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے (دوبارہ) قتال کے لیے نکلنے کے حکم پر لبیک کہہ دیا باوجودیکہ وہ احد میں زخم خوردہ ہوچکے تھے۔ (اور یہ اس وقت ہوا) کہ جب ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے پلٹ کر آنے کا ارادہ کیا۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یوم احد کے بعد آئندہ سال بازار بدر کے موقع پر (مقابلہ آرائی) کا چیلنج کیا۔ اَلَّذِیْنَ مبتدا ہے اور اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ ، اس کی خبر ہے۔ ان میں سے جنہوں نے اس کی اطاعت کے ذریعہ نیکی اختیار کی اور اس کی مخالفت سے اجتناب کیا ان کے لیے اجر عظیم ہے اور وہ جنت ہے۔ اور یہ ایسے لوگ ہیں (الذین) سابق الذین سے بدل یا صفت ہے۔ کہ جب ان سے لوگوں یعنی نعیم بن مسعود اشجعی نے کہا کہ لوگوں (یعنی) ابوسفیان اور اس کے اصحاب نے تمہارے مقابلہ کے لیے ایک بڑی جماعت کرلی ہے تاکہ تم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں لہٰذا تم ان سے ڈرو، اور ان کے مقابلے کے لیے نہ نکلو۔ تو اس بات نے ان کے اللہ پر یقین اور تصدیق میں اضافہ کردیا۔ اور ان لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ان کے معاملہ میں ان کے لیے کافی ہے۔ اور وہ بہترین کارساز ہے۔ معاملہ اسی کے حوالہ ہے۔ اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نکلے اور بازار بدر میں فروکش ہوئے اور اللہ نے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے دل میں رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے انہوں نے آنے کی ہمت نہیں کی اور مسلمانوں کے ساتھ سامان تجارت (بھی) تھا جس کو فروخت کرکے خوب نفع کمایا۔ (نتیجہ یہ ہوا) کہ یہ لوگ مقام بدر سے اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ صحیح سلامت اور نفع کے ساتھ واپس ہوئے اور ان کو قتل یا زخم، کسی قسم کی کوئی تکلیف پیش نہیں آئی۔ اور ان لوگوں نے نکلنے میں اطاعت کے ذریعہ اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ اپنے اطاعت گزاروں پر بڑے فضل والا ہے یقیناً یہ ّاِنّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ ) کا قائل شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں (یعنی کافروں سے خوف زدہ کر رہا ہے۔ تم ان کافروں سے خوف زدہ نہ ہونا، اور میرے حکم کو ترک کرنے میں مجھ سے ہی ڈرنا اگر تم صحیح معنیٰ میں مومن ہو اور وہ لوگ جو کفر میں جلدی کرتے ہیں یعنی کفر کی مدد کرکے اس میں جلدی واقع ہوجاتے ہیں اور وہ اہل مکہ ہیں یا منافقین ہیں، آپ کو غمگین نہ کریں (لَایُحزِنک) یاء کے ضمہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ اور یاء کے فتحہ اور زاء کے ضمہ ساتھ، حَزْنَہٗ سے اَحْزَنَہٗ میں ایک لغت ہے۔ یقیناً یہ لوگ اپنی حرکتوں سے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ تو اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اللہ کی یہی مشیت ہے کہ ان کے لیے آخرت یعنی جنت میں کچھ حصہ نہ رکھے۔ اور ان کے لیے جہنم میں بڑا عذاب ہے یقیناً جن لوگوں نے ایمان کے عوض کفر خرید لیا ہے یعنی ایمان کے نجائے کفر اختیار کرلیا ہے وہ اپنے کفر کی وجہ سے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، اور کافر لوگ ہماری اس درزای عمر اور تاخیر (مواخذہ) کی دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں (تحسین) یاء اور تاء کے ساتھ دونوں قراءتیں ہیں۔ اور انّ کو مع اپنے معمول کے یَحْسَبَنَّ بالیاء کی صورت میں قائم مقام دو مفعولوں کے قرار دیا ہے، اور تَحْسَبَنَ ، بالتاء کی صورت میں مفعول ثانی کا قائم قرار دیا گیا ہے، ہم ان (کافروں) کو صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں تاکہ کثرت معاصی کے ذریعہ ان کے گناہ زیادہ ہوجائیں۔ اور آخرت میں ان کے لیے اہانت آمیز عذاب ہے۔ اے لوگو مخلص اور غیر مخلص کی اختلاط کی جس حالت پر تم ہو اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اس حال پر نہ چھوڑے گا تاآنکہ خبیث یعنی منافق کو طیب (یعنی) مومن سے اس کو ظاہر کرنے والی تکالیف شاقہ کے ذریعہ ممتاز نہ کر دے۔ چناچہ یوم احد میں ایسا کیا، اور نہ اللہ تمہیں غیب پر مطلع کرنے والا ہے کہ تم منافق کو غیر منافق سے شناخت کرسکو البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے تو اس کو غیب پر مطلع کردیتا ہے۔ جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کے حال پر مطلع کردیا سو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اگر تم ایمان لے آئے اور نفاق سے اجنتاب کیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے اور جنہیں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے کچھ دے رکھا ہے تو اس میں بخیلی کو بہتر نہ خیال کریں (یَحْسَبَنَّ ) تاء اور یاء کے ساتھ دونوں قراءتیں ہیں، (خیرًا) مفعول ثانی ہے اور ھُوَ ، ضمیر متصل کے لیے ہے اور مفعول اول (بُخْلَھُمْ ) فوقانیہ کی صورت میں موصول سے پہلے مقدر ہے اور ضمیر سے پہلے تھٹانیہ کی صورت میں۔ بلکہ وہ ان کے لیے نہایت برا ہے عنقریب قیامت کے دن ان (بخیلی کرنے والوں کی گردنوں) میں اس مال زکوۃ کا جس میں انہوں نے بخیلی کی ہے طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ اس طور پر کہ اس مال کو سانپ بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا اور اس کو ڈستا رہے گا۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اہل ارض و سماء کے فنا ہونے کے بعد اللہ ان کا وارث ہوگا۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے یاء اور تاء کے ساتھ پس تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔
تحقیق و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اَلَّذِیْنَ مبتدأ، یعنی اَلّذِیْنَ اپنے صلہ سے مل کر مبتداء ہے۔ اور لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ الخ خبر مقدم ہے، اَجَرٌ عظیم مبتداء مؤخر ہے۔ مبتداء مؤخر اپنی خبر مقدم سے مل کر جملہ ہو کر خبر ہے الَّذِیْنَ اول کی۔
قولہ : بدل من الذین۔ او نعت، مفسر علام نے الذین ثانی کو الذین اول سے بدل یا صفت قرار دیا ہے مگر اس میں اشکال ہے اس لیے کہ پہلے الذین سے خاص وہ لوگ مراد ہیں جو غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے اور ثانی الذین سے عام مسلمان مراد ہیں حالانکہ بدل اور نعمت کے لیے دونوں میں اتحاد ضروری ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ الذین ثانی کو اَمْدُح فعل محذوف سے منصوب قرار دیا جائے۔ (اعراب القرآن) ۔ قولہ : ھُوَ ، یہ مخصوص بالمدح ہے۔
قولہ : کُمْ ، اس میں اشارہ ہے کہ، کُمْ ، یُخوِّف کا مفعول ثانی ہے مفعول اول محذوف ہے۔
قولہ : فتح الیاء و ضم الزاء یعنی باب نصر سے۔ قولہ : یقعُوْن فیہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یُسَارِعُوْنَ متعدی بالیٰ ہوتا ہے اور یہاں متعدی، بفی۔ جواب : یسارعون، یَقَعُوْنَ کے معنی کو متضمن ہے۔
قولہ : مؤلِمٌ اَلِیْمٌ کی تفسیر مؤلمٌ سے کرکے اشارہ کردیا کہ لازم بمعنی متعدی ہے لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ عذاب صاحب الم خود (دردمند) نہیں ہوتا بلکہ اس میں داخل ہونے والا صاحب الم (دردمند) ہوتا ہے۔
قولہ : ای املاءنا اس میں اشارہ ہے کہ ما مصدریہ ہے نہ کہ موصولہ جیسا کہ اِنَّ کو ما سے متصل لکھنے کی وجہ سے وہم ہوتا ہے مناسب یہ تھا اِنَّ مَا کو اِنَّمَا لکھا جاتا مگر چونکہ مصحف ثانی میں اسی طرح مکتوب ہے اس لیے اس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ اس لیے کہ ما موصولہ ہونے کی صورت میں ایک تو عائد کی ضرورت ہوگی جو کہ موجود نہیں ہے دوسرے یہ کہ معنی بھی درست نہیں ہیں۔
قولہ : قبل الموصول تقدیر عبارت یہ ہوگی ” ولا تحسبن بخل الذین “۔
قولہ : قبل الضمیر تقدیر عبارت یہ ہوگی ” ولایحسَبَنَّ البُخْلَاءُ بُخْلَھُمْ ھُوْ خَیْرًا لَھُمْ ، مقدر کو ضمیر پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ضمیر فصل مبتدا اور خبر ہی کے درمیان واقع ہوئی ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
(١) اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بِالاِیْمَانِ ۔ اِسْتعارۃ مکنیۃ فی اشتراء الکفر بالایمان، وقد تقدّمَ القولُ فی ھذا۔
(٢) اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْا اِثْمًا۔ استعارۃ تصریحیۃ فی الاملاء فَقَدْ سبَّہ امھالَھم، وترک الحبل لھم علی غوار بھم، بالفرس الذی یملی لھم الحبل لیجری علی سجیۃ۔ ویرتقی کیف یشاء، فحذف المشبہ وھو الامھال والترک، وابقی مشبہ بہ وھو الاملاء۔
الطباق : الطباق بین خیر وشرٍّ وبین السموات والارض۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات اور شان نزول : اوپر غزوہ احد کا ذکر تھا مذکورہ آیات میں اسی غزوہ سے متعلق ایک اور غزوہ کا ذکر ہے جو غزوہ احمر الاسد کے نام سے مشہور ہے، حمراء الاسد مدینہ طیبہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ایک مقام کا نام ہے۔
واقعہ کی تفصیل : جنگ احد سے پلٹ کر جب مشرکین کئی منزل دور چلے گئے تو انہیں ہوش آیا اور آپس میں کہنے لگے ہم نے یہ کیا حرکت کی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طاقت توڑ دینے کا جو پیش قیمت موقع ملا تھا اس کھو کر چلے آئے چناچہ مشرکین مکہ نے ایک جگہ جمع ہو کر مشورہ کیا کہ مدینہ منورہ پر فوراً ہی دوسرا حملہ کردیا جائے لیکن پھر ہمت نہ پڑی ان پر اللہ نے ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ سیدھے مکہ مکرمہ کو ہولیے۔ اور ایک شخص جس کا نام نعیم بن مسعود تھا جو مدینہ کی طرف آرہا تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ عبد قیس کا ایک قافلہ ابوسفیان کے پاس سے گزرا تو ابو سفیان نے مسلمانوں کو کہلوایا کہ ابوسفیان نے ایک بڑا لشکر جمع کر رکھا ہے اس کا ارادہ ہے کہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرکے سب نیست و نابود کر دے گا۔ چناچہ ان لوگوں نے یہ خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حمراء الاسد کے مقام پر پہنچائی تو آپ نے اور مسلمانوں نے کہا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے ” اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا للہ وَالرَّسُوْلِ “ آیات نازل فرمائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ وحی ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کی گفتگو معلوم ہوگئی تو آپ ان کے تعاقب میں حمراء الاسد تک نکلے۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ احد کے دوسرے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مجاہدین میں اعلان فرمایا کہ ہمیں مشرکین کا تعاقب کرنا ہے مگر اس میں صرف وہی لوگ جاسکتے ہیں جو کل کے معرکہ میں ہمارے ساتھ تھے، اس اعلان پر دو سو مجاہد جمع ہوگئے۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ معبد کہ معبد خزاعی بنی خزاعہ کا ایک شخص مدینہ سے مکہ کی طرف جا رہا تھا یہ شخص اگرچہ مسلمان نہ تھا مگر مسلمانوں کا خیر خواہ تھا اس کا قبیلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حلیف تھا۔ راستہ میں جب ابو سفیان کو دیکھا کہ وہ اپنے لوٹنے پر پچھتا رہے ہیں اور واپسی کی فکر میں ہے تو اس نے سفیان کو بتایا کہ تم دھوکے میں ہو کہ مسلمان کمزور ہوگئے ہیں۔ میں ان کے بڑے لشکر کو حمراء الاسد کے مقام پر چھوڑ کر آیا ہوں جو پورے سامان کے ساتھ تمہارا تعاقب کر رہے ہیں۔ ابوسفیان اس خبر سے مرعوب ہوگیا اور واپس چلا گیا۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدرصغری کے موقعہ پر ابوسفیان نے بعض لوگوں کی خدمات مالی معاوضہ سے کر حاصل کیں اور ان کے ذریعہ مسلمانوں میں یہ افوارہ پھیلائی کہ مشرکین لڑائی کے لیے پھر پوری تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ سن کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں، بعض روایات کی رو سے یہ کام شیطان نے اپنے حیلے چانٹوں کے ذریعہ لیا تھا۔ لیکن مسلمان ان افواہوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے مزید عزم و حوصلہ سے سرشار ہوگئے۔
10 Tafsir as-Saadi
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ہدایت کے بہت آرزو مند تھے اور ان کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لیے جدوجہد کرتے تھے۔ جب وہ ہدایت قبول نہ کرتے تو آپ بہت آزردہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَلَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ﴾یعنی ان کی کفر میں شدید رغبت اور چاہت کی وجہ سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں ﴿ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّوا اللَّـهَ شَيْئًا﴾” وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے“ پس اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے والا اور ان کے بغیر اپنے حکم کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس لیے آپ ان کی پروا نہ کریں۔ یہ محض اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایمان سے محروم ہو کر اس دنیا میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حقیر ہونے، اس کی نظر سے گرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کی وجہ سے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو۔۔۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ان کی جزا یہ ہے کہ اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور انہیں اس توفیق سے نہ نوازا جو اس نے نہایت عدل و حکمت کی بنا پر اپنے اولیاء اور ان بندوں کو عطا کی جن کے ساتھ وہ بھلائی چاہتا ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ راہ ہدایت کے ذریعے سے تزکیہ نفس نہیں چاہتے اور اپنے فاسد اخلاق و اطوار اور برے مقاصد کی بنا پر رشد و ہدایت کو قبول نہیں کرتے۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur ( aey payghumber ! ) jo log kufr mein aik doosray say barh ker tezi dikha rahey hain , woh tumhen sadmay mein naa daalen . yaqeen rakho woh Allah ka zara bhi nuqsan nahi ker-saktay . Allah yeh chahta hai kay aakhirat mein inn ka koi hissa naa rakhay , aur inn kay liye zabardast azab ( tayyar ) hai
12 Tafsir Ibn Kathir
مشفق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عوام
چونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لئے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ ) 23 ۔ المومنون :55) یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے ؟ نہیں بلکہ وہ بےشعور ہیں اور فرمایا آیت (فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 68 ۔ القلم :44) یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے آیت (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :85) یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑجانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے ؟ اور اس کا دشمن کون ہے ؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہوجائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بےصبری اور مخالفت تکذیب اور ناموافقت انکار اور خیانت صاف ظاہر ہوگئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کردی۔ سدی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں ؟ اس پر آیت (ما کان اللہ) الخ، نازل ہوئی (ابن جریر) ۔ پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کرلیتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا) 72 ۔ الجن :26) اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کرلے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔
خزانہ اور کوڑھی سانپ
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لئے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ ) 3 ۔ آل عمران :180) کی تلاوت فرمائی، مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ مسند ابو یعلی میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے ؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لئے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہوگی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا (ابن جریر) ابن عباس فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔