Skip to main content

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۗ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَىْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ

لَن
ہرگز نہیں
تَنَالُوا۟
تم پہنچ سکتے ہو
ٱلْبِرَّ
نیکی کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تُنفِقُوا۟
تم خرچ کرو
مِمَّا
اس میں سے جو
تُحِبُّونَۚ
تم محبت رکھتے ہو۔ تم پسند کرتے ہو
وَمَا
اور جو کچھ
تُنفِقُوا۟
تم خرچ کرو گے۔ کرتے ہو
مِن
سے
شَىْءٍ
کسی چیز سے
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
بِهِۦ
اس کو
عَلِيمٌ
جاننے والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے،

احمد علی Ahmed Ali

ہر گز نیکی میں کمال حاصل نہ کر سکو گے یہاں تک کہ اپنی پیاری چیز سے کچھ خرچ کرو اور جو چیز تم خرچ کرو گے بے شک الله اسے جاننے والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے (١) اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ بخوبی جانتا ہے (٢)۔

٩٢۔١ بر (نیکی بھلائی) سے مراد عمل صالح یا جنت ہے (فتح القدیر) حدیث میں آتا ہے جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ جو مدینہ کے اصحاب حیثیت میں سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بیرحا کا باغ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کی رضا کے لئے صدقہ کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' وہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو ' چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے سے انہوں نے اسے اپنے اقارب اور عم زادوں میں تقسیم کر دیا، اچھی چیز صدقہ کی جائے، یہ افضل اور اکمل درجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمتر چیز یا اپنی ضرورت سے زائد فالتو چیز یا استعمال شدہ پرانی چیز کا صدقہ نہیں کیا جا سکتا یا اس کا اجر نہیں ملے گا۔ اس قسم کی چیزوں کا صدقہ کرنا بھی یقینا جائز اور باعث اجر ہے گو کمال و افضلیت محبوب چیز کے خرچ کرنے میں ہے۔
٩٢۔٢ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اچھی یا بری چیز، اللہ اسے جانتا ہے، اس کے مطابق جزا سے نوازے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جب تک تم اپنی پسندیده چیز سے اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ نہ کروگے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے، اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

لوگو! تم ہرگز اس وقت تک نیکی (کو حاصل) نہیں کر سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے کچھ راہِ خدا میں خرچ نہ کرو۔ اور تم (راہِ خدا میں) جو کچھ خرچ کرتے ہو خدا اس کو خوب جانتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راسِ خدا میں انفاق نہ کرو اور جو کچھ بھی انفاق کرو گے خدا اس سے بالکل باخبر ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

سب سے زیادہ پیاری چیز اور صدقہ
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں بر سے مراد جنت ہے، یعنی اگر تم اپنی پسند کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتے رہو گے تو تمہیں جنت ملے گی، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ مالدار صحابی تھے مسجد کے سامنے ہی بیئرحا نامی آپ کا ایک باغ تھا جس میں کبھی کبھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تشریف لے جایا کرتے تھے اور یہاں کا خوش ذائقہ پانی پیا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو حضرت ابو طلحہ (رض) بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کیا اللہ تعالیٰ مجھے بھلائی عطا فرمائے اور اپنے پاس اسے میرے لئے ذخیرہ کرے آپ کو اختیار ہے جس طرح چاہیں اسے تقسیم کردیں آپ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمانے لگے مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا تم اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو چناچہ حضرت ابو طلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا، بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عمر فاروق (رض) بھی خدمت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوئے اور کہا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیاد مرغوب مال خیبر کی زمین کا حصہ ہے میں اسے راہ اللہ دینا چاہتا ہوں فرمائیے کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اسے وقف کردو اصل روک لو اور پھل وغیرہ راہ اللہ کردو۔ مسند بزاز میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں میں نے اس آیت کی تلاوت کر کے سوچا تو مجھے کوئی چیز ایک کنیز سے زیادہ پیاری نہ تھی۔ میں نے اس لونڈی کو راہ للہ آزاد کردیا، اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے نام پردے کر پھر لوٹا لینا جائز ہو تو میں کم از کم اس سے نکاح کرلیتا۔