Skip to main content

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِيْمِۙ

إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور انہوں نے عمل کیے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اچھے
لَهُمْ
ان کے لیے
جَنَّٰتُ
باغات ہیں
ٱلنَّعِيمِ
نعمتوں والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

البتہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، اُن کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

البتہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، اُن کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے چین کے باغ ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور کام بھی نیک کئے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن کے لئے نعمت کے باغ ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بیشک جن لوگوں نےایمان قبول کیا اور کام بھی نیک (مطابق سنت) کیے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کیلئے نعمت (اور آرام) والی جنتیں ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے نعمتوں سے بھری ہوئی جنّت ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے نعمتوں کی جنتیں ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ تعالیٰ کے وعدے ٹلتے نہیں
نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ پر ایمان لائے رسول کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں لذیذ غذائیں بہترین پوشاکیں عمدہ عمدہ سواریاں پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور انکی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں گے نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں۔ یہ حتما اور یقینا ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرماچکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے منان ہے محسن ہے منعم ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے عزیز ہے سب کچھ اس کے قبضے میں ہے حکیم ہے۔ کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لئے کافی اور شافی بنایا ہاں بےایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے۔ اور آیت میں ہے ( وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا 82؀) 17 ۔ الإسراء ;82) یعنی جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں۔