Skip to main content

اِذْ جَاۤءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَـاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا ۗ

إِذْ
جب
جَآءُوكُم
وہ آئے تمہارے پاس
مِّن
سے
فَوْقِكُمْ
تمہارے اوپر
وَمِنْ
اور سے
أَسْفَلَ
نیچے کی طرف
مِنكُمْ
تمہارے
وَإِذْ
اور جب
زَاغَتِ
کج ہوگئیں
ٱلْأَبْصَٰرُ
نگاہیں۔ پھر گئیں نگاہیں
وَبَلَغَتِ
اور پہنچ گئے
ٱلْقُلُوبُ
دل
ٱلْحَنَاجِرَ
حلق کو
وَتَظُنُّونَ
اور تم گمان کر رہے تھے
بِٱللَّهِ
اللہ کے بارے میں
ٱلظُّنُونَا۠
بہت سے گمان

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس آگئے اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے

احمد علی Ahmed Ali

جب وہ لوگ تم پر تمہارے اوپر کی طرف اورنیچے کی طرف سے چڑھ آئے اورجب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اورتم الله کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے (١) اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور اللہ تعالٰی کی نسبت طرح طرح گمان کرنے لگے (٢)

١٠۔١ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر طرف سے دشمن آگئے یا اوپر سے مراد غطفان، ہوازن اور دیگر نجد کے مشرکین ہیں اور نیچے کی سمت سے قریش اور ان کے اعوان و انصار۔
١٠۔٢ یہ مسلمانوں کی اس کیفیت کا اظہار ہے جس سے اس وقت دو چار تھے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جب وہ تمہارے اُوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جب وہ تم پر اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے اور (شدتِ خوف سے) آنکھیں پتھرا گئیں اور دل (کلیجے) منہ کو آگئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس وقت جب کفار تمہارے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی سمت سے آگئے اور دہشت سے نگاہیں خیرہ کرنے لگیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم خدا کے بارے میں طرح طرح کے خیالات میں مبتلا ہوگئے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جب وہ (کافر) تمہارے اوپر (وادی کی بالائی مشرقی جانب) سے اور تمہارے نیچے (وادی کی زیریں مغربی جانب) سے چڑھ آئے تھے اور جب (ہیبت سے تمہاری) آنکھیں پھر گئی تھیں اور (دہشت سے تمہارے) دل حلقوم تک آپہنچے تھے اور تم (خوف و امید کی کیفیت میں) اللہ کی نسبت مختلف گمان کرنے لگے تھے،