Skip to main content

لَا يَحِلُّ لَـكَ النِّسَاۤءُ مِنْۢ بَعْدُ وَلَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَـكَتْ يَمِيْنُكَۗ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ رَّقِيْبًا

لَّا
نہیں
يَحِلُّ
حلال
لَكَ
آپ کے لیے
ٱلنِّسَآءُ
عورتیں سے
مِنۢ
کے
بَعْدُ
اس کے بعد
وَلَآ
اور نہ
أَن
کہ
تَبَدَّلَ
آپ بدل ڈالیں
بِهِنَّ
بدلے ان کے
مِنْ
سے
أَزْوَٰجٍ
بیویوں میں (سے)
وَلَوْ
اور اگرچہ
أَعْجَبَكَ
پسند آئے آپ کو
حُسْنُهُنَّ
حسن ان کا
إِلَّا
مگر
مَا
جن کا
مَلَكَتْ
مالک ہے
يَمِينُكَۗ
آپ کا دایاں ہاتھ
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز کے
رَّقِيبًا
نگران

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ خواہ اُن کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے اللہ ہر چیز پر نگران ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ خواہ اُن کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے اللہ ہر چیز پر نگران ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

ان کے بعد اور عورتیں تمہیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مالک اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اس کے بعد آپ کے لیے عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ آپ ان سےاورعورتیں تبدیل کریں اگر چہ آپ کو ان کا حسن پسند آئے مگر جو آپ کی مملوکہ ہوں اور الله ہر ایک چیز پر نگران ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ (درست ہے) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے (نکاح کرے) اگرچہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو (١) مگر جو تیری مملوکہ ہوں (٢) اور اللہ تعالٰی ہرچیز کا (پورا) نگہبان ہے۔

٥٢۔۱ آیت تخییر کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے دنیا اسباب عیش و راحت کے مقابلے میں عسرت کے ساتھ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا، اس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ازواج کے علاوہ (جن کی تعداد ٩ تھی اور دیگر عورتوں سے نکاح کرنے یا ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نکاح نہیں کیا (ابن کثیر)
۵۲۔۲یعنی لونڈیاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بعض نے اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کافر لونڈی بھی رکھنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت تھی اور بعض نے ( وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ) 60۔ الممتحنہ;10) کے پیش نظر اسے آپ کے لیے حلال نہیں سمجھا (فتح القدیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ (درست ہے) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے (نکاح کرے) اگر چہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو مگر جو تیری مملوکہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (پورا) نگہبان ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اب اس کے بعد اور عورتیں آپ کیلئے حلال نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی اجازت ہے کہ ان کے بدلے اور بیویاں لے آئیں اگرچہ ان کا حسن و جمال آپ کو کتنا ہی پسند ہو۔ سوائے ان (کنیزوں) کے جو آپ کی ملکیت میں ہیں اور اللہ ہر چیز کا نگران ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس کے بعد آپ کے لئے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ ان بیویوں کو بدل لیں چاہے دوسری عورتوں کا حسن کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے علاوہ ان عورتوں کے جو آپ کے ہاتھوں کی ملکیت ہیں اور خدا ہر شے کی نگرانی کرنے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اس کے بعد (کہ انہوں نے دنیوی منفعتوں پر آپ کی رضا و خدمت کو ترجیح دے دی ہے) آپ کے لئے بھی اور عورتیں (نکاح میں لینا) حلال نہیں (تاکہ یہی اَزواج اپنے شرف میں ممتاز رہیں) اور یہ بھی جائز نہیں کہ (بعض کی طلاق کی صورت میں اس عدد کو ہمارا حکم سمجھ کر برقرار رکھنے کے لئے) آپ ان کے بدلے دیگر اَزواج (عقد میں) لے لیں اگرچہ آپ کو ان کا حُسنِ (سیرت و اخلاق اور اشاعتِ دین کا سلیقہ) کتنا ہی عمدہ لگے مگر جو کنیز (ہمارے حکم سے) آپ کی مِلک میں ہو (جائز ہے)، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ازواج مطہرات کا عہد و فا۔
پہلی آیتوں میں گذر چکا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہوجائیں۔ لیکن امہات المومنین نے دامن رسول کو چھوڑنا پسند نہ فرمایا۔ اس پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلہ یہ بھی ملا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آیت میں حکم ہوا کہ اب اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کرسکتے نہ آپ ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں گو وہ کتنی ہی خوش شکل کیوں نہ ہو ؟ ہاں لونڈیوں اور کنیزوں کی اور بات ہے اس کے بعد پھر رب العالمین نے یہ تنگی آپ پر سے اٹھالی اور نکاح کی اجازت دے دی لیکن خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر سے کوئی اور نکاح کیا ہی نہیں۔ اس حرج کے اٹھانے میں اور پھر عمل کے نہ ہونے میں بہت بڑی مصلحت یہ تھی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ احسان اپنی بیویوں پر رہے۔ چناچہ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آپ کے انتقال سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اور عورتیں بھی حلال کردی تھیں (ترمذی نسائی وغیرہ) حضرت ام سلمہ سے بھی مروی ہے۔ حلال کرنے والی آیت ( تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا 51؀) 33 ۔ الأحزاب ;51) ، ہے جو اس آیت سے پہلے گذر چکی ہے بیان میں وہ پہلے ہے اور اترنے میں وہ پیچھے ہے۔ سورة بقرہ میں بھی اس طرح عدت وفات کی پچھلی آیت منسوخ ہے اور پہلی آیت اس کی ناسخ ہے۔ واللہ اعلم۔ اس آیت کے ایک اور معنی بھی بہت سے حضرات سے مروی ہیں۔ وہ کہتے ہیں مطلب اس سے یہ ہے کہ جن عورتوں کا ذکر اس سے پہلے ہے ان کے سوا اور حلال نہیں جن میں یہ صفتیں ہوں وہ ان کے علاوہ بھی حلال ہیں۔ چناچہ حضرت ابی بن کعب سے سوال ہوا کہ کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو بیویاں تھیں اگر وہ آپ کی موجودگی میں انتقال کرجائیں تو آپ اور عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے تھے ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ تو سائل نے لایحل والی آیت پڑھی۔ یہ سن کر حضرت ابی نے فرمایا اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ عورتوں کی جو قسمیں اس سے پہلے بیان ہوئی ہیں یعنی نکاحتا بیویاں، لونڈیاں، چچا کی، پھوپیوں کی، مامو اور خالاؤں کی بیٹیاں ہبہ کرنے والی عورتیں۔ ان کے سوا جو اور قسم کی ہوں جن میں یہ اوصاف نہ ہوں وہ آپ پر حلال نہیں ہیں۔ (ابن جریر) ابن عباس سے مروی ہے کہ سوائے ان مہاجرات مومنات کے اور عورتوں سے نکاح کرنے کی آپ کو ممانعت کردی گئی۔ غیر مسلم عورتوں سے نکاح حرام کردیا گیا قرآن میں ہے (وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۝ۧ) 5 ۔ المآئدہ ;5) یعنی ایمان کے بعد کفر کرنے والے کے اعمال غارت ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت ( يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِيْ هَاجَرْنَ مَعَكَ ۡ وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا للنَّبِيِّ اِنْ اَرَاد النَّبِيُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَا ۤ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 50؀) 33 ۔ الأحزاب ;50) ، میں عورتوں کی جن قسموں کا ذکر کیا وہ تو حلال ہیں ان کے ماسوا اور حرام ہیں۔ مجاہد فرماتے ہیں ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔ ابو صالح فرماتے ہیں ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔ ابو صالح فرماتے ہیں کہ اعرابیہ اور انجان عورتوں سے نکاح سے روک دیئے گئے۔ لیکن جو عورتیں حلال تھیں ان میں سے اگر چاہیں سینکڑوں کرلیں حلال ہیں۔ الغرض آیت عام ہے ان عورتوں کو جو آپ کے گھر میں تھیں اور ان عورتوں کو جن کی اقسام بیان ہوئیں سب کو شامل ہے اور جن لوگوں سے اس کے خلاف مروی ہے ان سے اس کے مطابق بھی مروی ہے۔ لہذا کوئی منفی نہیں۔ ہاں اس پر ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کو طلاق دے دی تھی پھر ان سے رجوع کرلیا تھا اور حضرت سودہ کے فراق کا بھی ارادہ کیا تھا جس پر انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیا تھا۔ اس کا جواب امام ابن جریر نے یہ دیا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ بات یہی ہے لیکن ہم کہتے ہیں اس جواب کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ آیت میں ان کے سوا دوسریوں سے نکاح کرنے اور انہیں نکال کر اوروں کو لانے کی ممانعت ہے نہ کہ طلاق دینے کی، واللہ اعلم۔ سودہ والے واقعہ میں آیت ( وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۭ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۭوَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۭوَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا\012\08 ) 4 ۔ النسآء ;128) اتری ہے اور حضرت حفصہ (رض) والا واقعہ ابو داؤد وغیرہ میں مروی ہے۔ ابو یعلی میں ہے کہ حضرت عمر (رض) اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ کے پاس ایک دن آئے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں پوچھا کہ شاید تمہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق دے دی۔ سنو اگر رجوع ہوگیا اور پھر یہی موقعہ پیش آیا تو قسم اللہ کی میں مرتے دم تک تم سے کلام نہ کروں گا۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو زیادہ کرنے سے اور کسی کو نکال کر اس کے بدلے دوسری کو لانے سے منع کیا ہے۔ مگر لونڈیاں حلال رکھی گئیں۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں ایک خبیث رواج یہ بھی تھا کہ لوگ آپس میں بیویوں کا تبادلہ کرلیا کرتے تھے یہ اپنی اسے دے دیتا تھا اور وہ اپنی اسے دے دیتا تھا۔ اسلام نے اس گندے طریقے سے مسلمانوں کو روک دیا۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ عینیہ بن حصن فزاری حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ اور اپنی جاہلیت کی عادت کے مطابق بغیر اجازت لئے چلے آئے۔ اس وقت آپ کے پاس حضرت عائشہ (رض) بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے فرمایا تم بغیر اجازت کیوں چلے آئے ؟ اس نے کہا واہ ! میں نے تو آج تک قبیلہ مفر کے خاندان کے کسی شخص سے اجازت مانگی ہی نہیں۔ پھر کہنے لگا یہاں آپ کے پاس کون سی عورت بیٹھی ہوئی تھیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ام المومنین حضرت عائشہ تھیں۔ تو کہنے لگا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں چھوڑ دیں میں ان کے بدلے اپنی بیوی آپ کو دیتا ہوں جو خوبصورتی میں بےمثل ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنا حرام کردیا ہے۔ جب وہ چلے گئے تو مائی صاحبہ نے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کون تھا ؟ آپ نے فرمایا ایک احمق سردار تھا۔ تم نے ان کی باتیں سنیں ؟ اس پر بھی یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔ اس روایت کا ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بالکل گرے ہوئے درجے کا ہے۔