(روزِ محشر کی ہولناکیاں دیکھ کر) کہیں گے: ہائے ہماری کم بختی! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہوں سے اٹھا دیا، (یہ زندہ ہونا) وہی تو ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایا تھا،
English Sahih:
They will say, "O woe to us! Who has raised us up from our sleeping place?" [The reply will be], "This is what the Most Merciful had promised, and the messengers told the truth."
1 Abul A'ala Maududi
گھبرا کر کہیں گے: "ارے، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اُٹھا کھڑا کیا؟" "یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی"
2 Ahmed Raza Khan
کہیں گے ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا
3 Ahmed Ali
کہیں گے ہائے افسوس کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھایا یہی ہے جو رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا
4 Ahsanul Bayan
کہیں گے ہائے ہائے! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا (١) یہی ہے جس کا وعدہ رحمٰن نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا۔
٥٢۔١ قبر کو خواب گاہ سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبروں میں ان کو عذاب نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں جو ہولناک مناظر اور عذاب کی شدت دیکھیں گے، اس کے مقابلے میں انہیں قبر کی زندگی ایک خواب ہی محسوس ہوگی۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے (جگا) اُٹھایا؟ یہ وہی تو ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا
6 Muhammad Junagarhi
کہیں گے ہائے ہائے! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ یہی ہے جس کا وعده رحمٰن نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا
7 Muhammad Hussain Najafi
(اس وقت گھبرا کر) کہیں گے ہائے افسوس! کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھایا؟ (جواب دیا جائے گا) یہ وہی (قیامت) ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ (وعید) کیا تھا اور پیغمبروں(ع) نے بھی سچ کہا تھا۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
کہیں گے کہ آخر یہ ہمیں ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھادیا ہے .... بیشک یہی وہ چیز ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور اس کے رسولوں نے سچ کہا تھا
9 Tafsir Jalalayn
کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے (جگا) اٹھایا ؟ یہ تو وہی ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا
10 Tafsir as-Saadi
﴿يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا﴾ ” ہائے افسوس ! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟“ یعنی ہمیں ہماری قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا؟ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا : ﴿هَـٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَـٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ﴾ یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے ان کی صداقت ظاہر ہوگئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت” رحمٰن“ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لئے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہوگا، مثلاً فرمایا : ﴿الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ﴾ (الفرقان:25؍26) ” اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمٰن کا ہوگا“ اور فرمایا : ﴿وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَـٰنِ﴾(طهٰ:20؍108) ” اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔“ اور اس طرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ” رحمٰن“ کا ذکر فرمایا ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
kahen gay kay : haaye humari kam bakhti ! hamen kiss ney humaray marqad say utha kharra kiya hai ? ( jawab milay ga kay ) : yeh wohi cheez hai jiss ka khudaye rehman ney wada kiya tha , aur payghumberon ney sachi baat kahi thi .