Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

لَّذِيْنَ يَتَرَ بَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَـكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُـوْۤا اَلَمْ نَـكُنْ مَّعَكُمْ ۖ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌۙ قَالُـوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۗ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۗ وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا

ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يَتَرَبَّصُونَ
جو انتظار کررہے ہیں
بِكُمْ
تمہارا
فَإِن
پھر اگر
كَانَ
ہو
لَكُمْ
تمہارے لیے
فَتْحٌ
کوئی فتح
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ کی طرف
قَالُوٓا۟
وہ کہتے ہیں
أَلَمْ
کیا نہ
نَكُن
تھے ہم
مَّعَكُمْ
تمہارے ساتھ
وَإِن
اور اگر
كَانَ
ہو
لِلْكَٰفِرِينَ
کافروں کے لیے
نَصِيبٌ
کوئی حصہ
قَالُوٓا۟
وہ کہتے ہیں
أَلَمْ
کیا نہیں
نَسْتَحْوِذْ
ہم غالب آنے لگے تھے
عَلَيْكُمْ
تم پر
وَنَمْنَعْكُم
اور ہم بچا رہے تھے تم کو
مِّنَ
سے
ٱلْمُؤْمِنِينَۚ
مومنوں سے
فَٱللَّهُ
پس اللہ
يَحْكُمُ
فیصلہ کرے گا
بَيْنَكُمْ
تمہارے درمیان
يَوْمَ
کے دن ۭ
ٱلْقِيَٰمَةِۗ
قیامت
وَلَن
اور ہرگز نہیں
يَجْعَلَ
بنائے گا
ٱللَّهُ
اللہ
لِلْكَٰفِرِينَ
کافروں کے لیے
عَلَى
پر
ٱلْمُؤْمِنِينَ
مومنوں
سَبِيلًا
کوئی راستہ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ منافق تمہارے معاملہ میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آ کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ ا گر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو اُن سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا؟ بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلہ میں) اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ منافق تمہارے معاملہ میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آ کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ ا گر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو اُن سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا؟ بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلہ میں) اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

وہ جو تمہاری حالت تکا کرتے ہیں تو اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے کہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کا حصہ ہو تو ان سے کہیں کیا ہمیں تم پر قابو نہ تھا اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا تو اللہ تم سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اور اللہ کافروں کو مسلمان پر کوئی راہ نہ دے گا

احمد علی Ahmed Ali

وہ منافق جو تمہارے متعلق انتظار کرتے ہیں پھر اگر تمہیں الله کی طرف سے فتح ہو تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھےاور اگر کافرو ں کو کچھ حصہ مل جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا نہیں لیا سو الله تمہارا اور ان کا قیامت میں فیصلہ کرے گا اور (وہاں) الله کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہرگز غالب نہیں کرے گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ لوگ تمہارے انجام کار کا انتظار کرتے رہتے ہیں پھر اگر تمہیں اللہ فتح دے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں اور اگر کافروں کو تھوڑا غلبہ مل جائے تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ بچایا تھا (١) پس قیامت میں خود اللہ تعالٰی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا (٢) اور اللہ تعالٰی کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راہ نہ دے گا۔

١٤١۔١ یعنی ہم تم پر غالب آنے لگے تھے لیکن تمہیں اپنا ساتھی سمجھ کر چھوڑ دیا اور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا۔ مطلب یہ کہ تمہیں غلبہ ہماری اس دوغلی پولیسی کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ جو ہم نے مسلمانوں کو ظاہری طور پر شامل ہو کر اپنائے رکھی۔ لیکن درپردہ ان کو نقصان پہنچانے میں ہم نے کوئی کوتاہی اور کمی نہیں کی تاآنکہ تم ان پر غالب آگئے۔ یہ منافقین کا قول ہے جو انہوں نے کافروں سے کہا۔
۱٤۱۔۱ یعنی دنیا میں تم نے دھوکے اور فریب سے وقتی طور پر کچھ کامیابی حاصل کرلی۔ لیکن قیامت والے دن اللہ تعالٰی کا فیصلہ ان باطنی جذبات وکیفیات کی روشنی میں ہوگا جنہیں تم سینوں میں چھپائے ہوئے تھے اس لئے کہ اللہ تعالٰی تو سینوں کے رازوں کو بھی خوب جانتا ہے اور پھر اس پر جو وہ سزا دے گا تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں منافقت اختیار کر کے نہایت خسارے کا سودا کیا تھا جس پر جہنم کا دائمی عذاب بھگتنا ہوگا۔
١٤١۔٢ یعنی غلبہ نہ دے گا۔ اس کے مختلف مفہوم بیان کئے گئے ہیں (١) اہل اسلام کا غلبہ قیامت والے دن ہوگا (٢) حجت اور دلائل کے اعتبار سے کافر مسلمانوں پر غالب نہیں آسکتے (٣) کافروں کا ایسا غلبہ نہیں ہوگا کہ مسلمانوں کی دولت و شوکت کا بالکل ہی خاتمہ ہو جائے گا اور حرف غلط کی طرح دنیا کے نقشے سے ہی محو ہو جائیں گے۔ ایک حدیث صحیحہ سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے (٤) جب تک مسلمان اپنے دین کے عامل، باطل سے غیر راضی اور منکرات سے روکنے والے رہیں گے، کافر ان پر غالب نہ آسکیں گے۔ امام ابن العربی فرماتے ہیں ' یہ سب سے عمدہ معنی ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے (وَمَا اَصَابَکُمْ مُّصِیبَۃٍ فَبَمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ) جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے تمہارے اپنے فعلوں کی وجہ سے (فتح القدیر) گویا مسلمانوں کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ لوگ تمہارے انجام کار کا انتظار کرتے رہتے ہیں پھر اگر تمہیں اللہ فتح دے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں اور اگر کافروں کو تھوڑا سا غلبہ مل جائے تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ بچایا تھا؟ پس قیامت میں خود اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راه نہ دے گا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے (انجام) کے منتظر رہتے ہیں۔ پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح و فیروزی حاصل ہوگئی تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کو (فتح کا) کچھ حصہ مل گیا تو (کافروں سے) کہتے ہیں۔ کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے؟ اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا؟ اب اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اور اللہ کبھی کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا کوئی راستہ نہیں رکھے گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ منافقین تمہارے حالات کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ تمہیں خدا کی طرف سے فتح نصیب ہو تو کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے اور اگر کفاّر کو کوئی حصّہ مل جائے گا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تم پر غالب نہیں آگئے تھے اور تمہیں مومنین سے بچا نہیں لیا تھا تو اب خدا ہی قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور خدا کفاّر کے لئے صاحبان هایمان کے خلاف کوئی راہ نہیں دے سکتا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ (منافق) جو تمہاری (فتح و شکست کی) تاک میں رہتے ہیں، پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح نصیب ہو جائے تو کہتے ہیں: کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کو (ظاہری فتح میں سے) کچھ حصہ مل گیا تو (ان سے) کہتے ہیں: کیا ہم تم پر غالب نہیں ہو گئے تھے اور (اس کے باوجود) کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں (کے ہاتھوں نقصان) سے نہیں بچایا؟ پس اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا، اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر (غلبہ پانے کی) ہرگز کوئی راہ نہ دے گا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

عمل میں صفر دعویٰ میں اصلی مسلمان
منافقوں کی بد باطنی کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کی بربادی اس کی پستی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ٹوہ لیتے رہتے ہیں، اگر کسی جہاد میں مسلمان کامیاب و کامران ہوگئے اللہ کی مدد سے یہ غالب آگئے تو ان کے پیٹ میں گھسنے کے لئے آ آ کر کہتے ہیں کیوں جی ہم بھی تو تمہارے ساتھی ہیں اور اگر کسی وقت مسلمانوں کی آزمائش کے لئے اللہ جل شانہ نے کافروں کو غلبہ دے دیا جیسے احد میں ہوا تھا گو انجام کار حق ہی غالب رہا تو یہ ان کی طرف لپکتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو پوشیدہ طور پر تو ہم تمہاری تائید ہی کرتے رہے اور انہیں نقصان پہنچاتے رہے یہ ہماری ہی چالاکی تھی جس کی بدولت آج تم نے ان پر فتح پا لی۔ یہ ہیں ان کے کرتوت کہ دو کشتیوں میں پاؤں رکھ چھوڑتے ہیں " دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا " گو یہ اپنی اس مکاری کو اپنے لئے باعث فخر جانتے ہوں لیکن دراصل یہ سرا ان کی بےایمانی اور کم یقینی کی دلیل ہے بھلا کچا رنگ کب تک رہتا ہے ؟ گاجر کی پونگی کب تک بجے گی ؟ کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی ؟ وقت آ رہا ہے کہ اپنے کئے پر نادم ہوں گے اپنی بیوقوفی پر ہاتھ ملیں گے اپنے شرمناک کرتوت پر ٹسوے بہائیں گے اللہ کا سچا فیصلہ سن لیں گے اور تمام بھلائیوں سے ناامید ہوجائیں گے۔ بھرم کھل جائے گا ہر راز فاش ہوجائے گا اندر کا باہر آجائے گا یہ پالیسی اور حکمت عملی یہ مصلحت وقت اور مقتضائے موقعہ نہایت ڈراؤنی صورت سے سامنے آجائے گا اور عالم الغیب کے بےپناہ عذابوں کا شکار بن جائیں گے ناممکن ہے کہ کافروں کو اللہ تعالیٰ مومنوں پر غالب کر دے، حضرت علی سے ایک شخص نے اس کا مطلب پوچھا تو آپ نے اول جملے کے ساتھ ملا کر پڑھ دیا۔ مطلب یہ تھا کہ قیامت کے دن ایسا نہ ہوگا، یہ بھی مروی ہے کہ سبیل سے مراد حجت ہے، لیکن تاہم اس کے ظاہری معنی مراد لینے میں بھی کوئی مانع نہیں یعنی یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اب سے لے کر قیامت تک کوئی ایسا وقت لائے کہ کافر اس قدر غلبہ حاصل کرلیں کہ مسلمانوں کا نام مٹا دیں یہ اور بات ہے کہ کسی جگہ کسی وقت دنیاوی طور پر انہیں غلبہ مل جائے لیکن انجام کار مسلمانوں کے حق میں ہی مفید ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی فرمان الٰہی ہے ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ) 40 ۔ غافر ;51) ہم اپنے رسولوں اور ایماندار بندوں کو مدد دنیا میں بھی ضرور دیں گے اور یہ معنی لینے میں ایک لطافت یہ بھی ہے کہ منافقوں کے دلوں میں مسلمانوں کو ذلت اور بربادی کا شکار دیکھنے کا جو انتظار تھا مایوس کردیا گیا کہ کفار کو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ اس طرح غالب نہیں کرے گا کہ تم پھولے نہ سماؤ اور کچھ لوگ جس ڈر سے مسلمانوں کا ساتھ کھلے طور پر نہ دیتے تھے ان کے ڈر کو بھی زائل کردیا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ کسی وقت بھی مسلمان مٹ جائیں گے اسی مطلب کی وضاحت (فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ) 5 ۔ المائدہ ;52) میں کردی ہے۔ اس آیت کریمہ سے حضرات علماء کرام نے اس امر پر بھی استدلال کیا ہے کہ مسلمان غلام کو کافر کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں ایک کافر کو ایک مسلمان پر غالب کردینا ہے اور اس میں مسلمان کی ذلت ہے جن بعض ذی علم حضرات نے اس سودے کو جائز رکھا ہے ان کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنی ملک سے اس کو اسی وقت آزاد کر دے۔