Skip to main content

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ وَالْاِبْكَارِ

فَٱصْبِرْ
پس صبر کیجیے
إِنَّ
بیشک
وَعْدَ
وعدہ
ٱللَّهِ
اللہ کا
حَقٌّ
سچا ہے
وَٱسْتَغْفِرْ
اور بخشش مانگیئے
لِذَنۢبِكَ
اپنے قصور کے لیے
وَسَبِّحْ
اور تسبیح کیجیے
بِحَمْدِ
حمد کے ساتھ
رَبِّكَ
اپنے رب کی
بِٱلْعَشِىِّ
شام کو۔ پچھلے پہر
وَٱلْإِبْكَٰرِ
اور صبح کو۔ پہلے پہر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پس اے نبیؐ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ بر حق ہے، اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پس اے نبیؐ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ بر حق ہے، اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو

احمد علی Ahmed Ali

پس صبر کر بے شک الله کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور شام اور صبح اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کر

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس اے نبی! تو صبر کر اللہ کا وعدہ بلا شک (وشبہ) سچا ہی ہے تو اپنے گناہ کی (١) معافی مانگتا رہ (۱) اور صبح شام (۲) اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا رہ۔

٥٥۔١ گناہ سے مراد چھوٹی چھوٹی لغزشیں ہیں، جو بہ تقاضائے بشریت سرزد ہو جاتی ہیں، جن کی اصلاح بھی اللہ تعالٰی کی طرف سے کر دی جاتی ہے۔ یا استغفار بھی ایک عبادت ہی ہے۔ اجر و ثواب کی زیادتی کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا ہے، یا مقصد امت کی رہنمائی ہے کہ وہ استغفار سے بےنیاز نہ ہوں۔
٥٥۔۲ عشیی سے دن کا آخری اور رات کا ابتدائی حصہ اور ابکار سے رات کا آخری اور دن کا ابتدائی حصہ مراد ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو صبر کرو بےشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح وشام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس اے نبی! تو صبر کر اللہ کا وعده بلاشک (وشبہ) سچا ہی ہے تو اپنے گناه کی معافی مانگتا ره اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا ره

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

آپ صبر (و ثبات) سے کام لیجئے! اللہ کا وعدہ برحق ہے اور (تہمت) گناہ پر استغفار کرتے رہیے اور صبح و شام اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

لہٰذا آپ صبر کریں کہ اللہ کا وعدہ یقینا برحق ہے اور اپنے حق میں استغفار کرتے رہیں اور صبح و شام اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح کرتے رہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پس آپ صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے اور اپنی اُمت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے٭ اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کیجئے، ٭ لِذَنبِكَ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے، لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں: ۱۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) أی لِذَنبِ أُمتِکَ یعنی اپنی امت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، ۴: ۳۵۹)۔ ۲۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: لِذَنبِ أُمتِکَ حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۵: ۳۲۴)۔ ۳۔ وَ قیل: لِذَنبِکَ لِذَنبِ أُمتِکَ فِی حَقِّکَ ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لِذَنبِکَ یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزَد ہونے والی خطاؤں کی بخشش طلب کیجئے۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، ۷: ۴۷۱)۔ ۴۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ” کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ ( علامہ شوکانی، فتح القدیر، ۴: ۴۹۷)