Skip to main content

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ

وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لَا
نہ
تَسْمَعُوا۟
تم سنو
لِهَٰذَا
اس
ٱلْقُرْءَانِ
قرآن کو
وَٱلْغَوْا۟
اور بےہودہ گوئی کرو
فِيهِ
اس میں
لَعَلَّكُمْ
تاکہ تم
تَغْلِبُونَ
تم غالب آجاؤ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ منکرین حق کہتے ہیں "اِس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اس طرح تم غالب آ جاؤ"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ منکرین حق کہتے ہیں "اِس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اس طرح تم غالب آ جاؤ"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کافر بولے یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کرو شاید یونہی تم غالب آؤ

احمد علی Ahmed Ali

اور کافروں نے کہا کہ تم اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں غل مچاؤ تاکہ تم غالب ہو جاؤ

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور کافروں نے کہا اس قرآن کی سنو ہی مت (١) (اس کے پڑھے جانے کے وقت) اور بےہودہ گوئی کرو (٢) کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ (٣)

٢٦۔١ یہ انہوں نے باہم ایک دوسرے کو کہا۔ بعض نے لا تسمعوا کے معنی کیے ہیں اس کی اطاعت نہ کرو۔
٢٦۔٢ یعنی شور کرو، تالیاں، سیٹیاں بجاؤ، چیخ چیخ کر باتیں کرو تاکہ حاضرین کے کانوں میں قرآن کی آواز نہ جائے اور ان کے دل قرآن کی بلاغت اور خوبیوں سے متا ثر نہ ہوں۔
٢٦۔٣ یعنی ممکن ہے اس طرح شور کرنے کی وجہ سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) قرآن کی تلاوت ہی نہ کرے جسے سن کر لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور کافروں نے کہا اس قرآن کو سنو ہی مت (اس کے پڑھے جانے کے وقت) اور بیہوده گوئی کرو کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی (تلاوت کے دوران) شوروغل مچا دیا کرو شاید اس طرح تم غالب آجاؤ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور کفاّر آپس میں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو ہرگز مت سنو اور اس کی تلاوت کے وقت ہنگامہ کرو شاید اسی طرح ان پر غالب آجاؤ

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کافر لوگ کہتے ہیں: تم اِس قرآن کو مت سنا کرو اور اِس (کی قرات کے اوقات) میں شور و غل مچایا کرو تاکہ تم (اِن کے قرآن پڑھنے پر) غالب رہو،