Skip to main content

اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِۗ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖۗ وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ اَيْنَ شُرَكَاۤءِىْۙ قَالُـوْۤا اٰذَنّٰكَۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيْدٍۚ

إِلَيْهِ
اس کی طرف
يُرَدُّ
لوٹایا جاتا ہے
عِلْمُ
علم
ٱلسَّاعَةِۚ
قیامت کا
وَمَا
اور نہیں
تَخْرُجُ
نکلتا
مِن
میں سے
ثَمَرَٰتٍ
پھلوں
مِّنْ
میں سے
أَكْمَامِهَا
اس کے غلافوں
وَمَا
اور نہیں
تَحْمِلُ
اٹھاتی
مِنْ
کوئی
أُنثَىٰ
مادہ
وَلَا
اور نہ
تَضَعُ
جنتی ہے
إِلَّا
مگر
بِعِلْمِهِۦۚ
اس کے علم کے ساتھ
وَيَوْمَ
اور جس دن
يُنَادِيهِمْ
وہ پکارے گا ان کو (پکار کر کہے گا)
أَيْنَ
کہاں ہیں
شُرَكَآءِى
میرے شریک
قَالُوٓا۟
وہ کہیں گے
ءَاذَنَّٰكَ
ہم عرض کرچکے ہیں آپ کو
مَا
نہیں
مِنَّا
ہم میں سے
مِن
کوئی
شَهِيدٍ
گواہ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، "ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، "ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

قیامت کے علم کا اسی پر حوالہ ہے اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو پیٹ رہے اور نہ جنے مگر اس کے علم سے اور جس دن انہیں ندا فرمائے گا کہاں ہیں میرے شریک کہیں گے ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں

احمد علی Ahmed Ali

قیامت کی خبرکا اسی کی طرف حوالہ دیا جاتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وضح حمل کرتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن انہیں پکارے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں کہیں گے ہم نے آپ سے عرض کر دیا کہ ہم میں سے کسی کو بھی خبر نہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے (١) اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو مادہ حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وہ جنتی ہے سب کا علم اسے ہے (٢) اور جس دن اللہ تعالٰی ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواہ نہیں (٣)۔

٤٧۔١ یعنی اللہ کے سوا اس کے وقوع کا علم کسی کو نہیں۔ اس لئے جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ' اس کی بابت مجھے بھی اتنا علم ہے، جتنا تجھے ہے، میں تجھ سے زیادہ نہیں جانتا۔ دوسرے مقامات پر اللہ تعالٰی نے فرمایا (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا) 79۔ النازعات;44)
٤٧۔٢ یہ اللہ کے علم کا محیط کا بیان ہے اور اس کی صفت علم میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے یعنی اس طرح کا علم کامل کسی کو حاصل نہیں، حتیٰ کے انبیاء علیہم السلام کو بھی نہیں انہیں بھی اتنا ہی علم ہے جتنا اللہ تعالٰی نے انہیں وحی کے ذریعے سے بتلا دیتا ہے۔
٤٧۔٣ یعنی آج ہم میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے؟

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گا بھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو ماده حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وه جنتی ہے سب کا علم اسے ہے اور جس دن اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وه جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواه نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ساعت (قیامت) کا علم اسی (اللہ) کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اسی (اللہ) کے علم کے ساتھ اور جس دن وہ (اللہ) ان (مشرکین) کو پکارے گا (اور پوچھے گا کہ)میرے شریک کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ ہم تجھے بتا چکے ہیں (عرض کر چکے ہیں) کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے(اور نہ کوئی ہے)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

قیامت کا علم اسی کی طرف پلٹا دیا جاتا ہے اور تِوروں سے جو پھل نکلتے ہیں یا عورتوں کو جو حمل ہوتا ہے یا جن بچوں کو وہ پیدا کرتی ہیں یہ سب اسی کے علم کے مطابق ہوتے ہیں اور جس دن وہ پکار کر پوچھے گا کہ میرے شرکائ کہاں ہیں تو مشرکین مجبورا عرض کریں گے کہ ہم پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان سے واقف نہیں ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اسی (اللہ) کی طرف ہی وقتِ قیامت کے علم کا حوالہ دیا جاتا ہے، اور نہ پھل اپنے غلافوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر (یہ سب کچھ) اُس کے علم میں ہوتا ہے۔ اور جس دن وہ انہیں ندا فرمائے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں، (تو) وہ (مشرک) کہیں گے: ہم آپ سے عرض کئے دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی (کسی کے آپ کے ساتھ شریک ہونے پر) گواہ نہیں ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

علم الٰہی کی وسعتیں
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں تمام انسانوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے ( اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا 44؀ۭ ) 79 ۔ النازعات ;44) یعنی قیامت کب ہوگی ؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت (لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ۭ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ\018\07 ) 7 ۔ الاعراف ;187) مطلب یہی ہے کہ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ ۝ڎڎ) 34 ۔ سبأ ;3) ایک اور آیت میں ہے (وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 59؀) 6 ۔ الانعام ;59) یعنی جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے۔ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو۔ قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہوجائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عزاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔ قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت ( وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53؀ ) 18 ۔ الكهف ;53) یعنی گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔