Skip to main content

وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًاۗ اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَاۤءَهُمْ

وَمِنْهُم
اور ان میں سے
مَّن
کوئی ہے جو
يَسْتَمِعُ
غور سے سنتا ہے
إِلَيْكَ
آپ کو
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
خَرَجُوا۟
وہ نکلتے ہیں
مِنْ
سے
عِندِكَ
آپ کے پاس (سے )
قَالُوا۟
کہتے ہیں
لِلَّذِينَ
ان لوگوں سے
أُوتُوا۟
جو دیئے گئے
ٱلْعِلْمَ
علم
مَاذَا
کیا کچھ
قَالَ
اس نے کہا
ءَانِفًاۚ
ابھی
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی وہ
ٱلَّذِينَ
لوگ ہیں
طَبَعَ
مہر لگا دی
ٱللَّهُ
اللہ نے
عَلَىٰ
پر
قُلُوبِهِمْ
ان کے دلوں (پر)
وَٱتَّبَعُوٓا۟
اور انہوں نے پیروی کی
أَهْوَآءَهُمْ
اپنی خواہشات کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اِنہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اِنہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ان میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں علم والوں سے کہتے ہیں ابھی انہوں نے کیا فرمایا یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے

احمد علی Ahmed Ali

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کی بات سنتے ہیں یہاں تک کہ جب آپ کے ہاں سے نکل جاتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے اس نے ابھی ابھی کیا کہا یہی لوگ ہیں کہ الله نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ تیری طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب تیرے پاس سے جاتے ہیں تو اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا؟ (۱) یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔

۱ ٦ ۔۱ یہ منافقین کا ذکر ہے ان کی نیت چونکہ صحیح نہیں ہوتی تھی اسلیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ مجلس سے باہر آ کر صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے کہ آپ نے کیا فرمایا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ان میں بعض (ایسے بھی ہیں کہ) تیری طرف کان لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تیرے پاس سے جاتے ہیں تو اہل علم سے (بوجہ کند ذہنی وﻻپرواہی کے) پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وه اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو (بظاہر) تمہاری طرف کان لگا کر (بات سنتے ہیں) یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان (خاص) لوگوں سے پوچھتے ہیں جن کو علم عطا کیا گیا ہے کہ انہوں (رسول(ص)) نے ابھی کیا کہاتھا؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان میں سے کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو آپ کی باتیں بظاہر غور سے سنتے ہیں اس کے بعد جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ انہوں نے ابھی کیا کہا تھا یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگادی ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات کا اتباع کرلیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ان میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو آپ کی طرف (دل اور دھیان لگائے بغیر) صرف کان لگائے سنتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر (باہر) جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علمِ (نافع) عطا کیا گیا ہے کہ ابھی انہوں نے (یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) کیا فرمایا تھا؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اﷲ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بےوقوف، کند ذہن اور جاہل
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی ناسمجھی اور بےوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے کلام الرسول سن لینے کے پاس بیٹھے ہونے کے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا ؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑگئے ہیں فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں، پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور انکی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے۔ تو یہ معلوم کرلیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہوچکے ہیں، جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے آیت ( ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى 56؀) 53 ۔ النجم ;56) یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے قریب آنے والی قریب آچکی ہے۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے آیت ( اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۝) 54 ۔ القمر ;1) ، قیامت قریب ہوگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا آیت ( اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۝ۚ ) 21 ۔ الأنبیاء ;1) لوگوں کا حساب قریب آگیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں پس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لئے کہ رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیامت کی شرطیں اور اسکی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔ حسن بصری فرماتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے چناچہ خود آپ کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں۔ نبی التوبہ، نبی الملحمہ، حاشر جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں عاقب جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہوجانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہوگی ؟ جیسے ارشاد ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23۝ۭ ) 89 ۔ الفجر ;23) اس دن انسان نصیحت حاصل کرلے گا لیکن اس کے لئے نصیحت کہاں ؟ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے آیت ( وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52؀ښ) 34 ۔ سبأ ;52) یعنی اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہوسکتی ہے ؟ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے پھر فرماتا ہے اے نبی جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لئے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو صحیح حدیث میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں (اللھم اغفرلی خطیتی وجھلی واسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی اللھم اغفرلی وجدی وخطی وعمدی وکل ذالک عندی) یعنی اے اللہ میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہوگئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بےقصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ اپنی نماز کے آخر میں کہتے (اللھم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم بہ منی انت الھی لا الہ الا انت) یعنی اے اللہ میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن سرخس (رض) فرماتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھانے میں سے کھانا کھایا پھر میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ آپ کو بخشے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور تجھے بھی تو میں نے کہا کیا میں آپ کے لئے استغفار کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں اور اپنے لئے بھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔ پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے ابو یعلی میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم لا الہ الا للہ کا اور استغفر اللہ کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لئے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔ ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں۔ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ۚ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 60۝ۧ) 6 ۔ الانعام ;60) یعنی اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کردیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت ( وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ ۝) 11 ۔ ھود ;6) ، یعنی زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ ابن جریج کا یہی قول ہے اور امام جریر بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔