Skip to main content

مَثَلُ الْجَـنَّةِ الَّتِىْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَۗ فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۤءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۗ وَلَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْۗ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِى النَّارِ وَسُقُوْا مَاۤءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۤءَهُمْ

مَّثَلُ
مثال
ٱلْجَنَّةِ
اس جنت کی
ٱلَّتِى
وہ جو
وُعِدَ
وعدہ دیئے گئے
ٱلْمُتَّقُونَۖ
متقی لوگ
فِيهَآ
اس میں
أَنْهَٰرٌ
نہریں ہیں
مِّن
سے
مَّآءٍ
پانی کی
غَيْرِ
غیر
ءَاسِنٍ
متغیر۔ (نہ) بدلنے والا
وَأَنْهَٰرٌ
اور نہریں ہیں
مِّن
کی
لَّبَنٍ
دودھ کی
لَّمْ
نہیں
يَتَغَيَّرْ
تبدیل ہوا
طَعْمُهُۥ
اس کا مزا
وَأَنْهَٰرٌ
اور نہریں ہیں
مِّنْ
کی
خَمْرٍ
شراب (کی )
لَّذَّةٍ
باعث لذت ہیں
لِّلشَّٰرِبِينَ
پینے والوں کے لیے
وَأَنْهَٰرٌ
اور نہریں ہیں
مِّنْ
سے
عَسَلٍ
شہد کی
مُّصَفًّىۖ
صاف
وَلَهُمْ
اور ان کے لیے
فِيهَا
اس میں
مِن
سے
كُلِّ
ہر قسم کے
ٱلثَّمَرَٰتِ
پھلوں میں سے ہوں گے
وَمَغْفِرَةٌ
اور بخشش
مِّن
سے
رَّبِّهِمْۖ
ان کے رب کی طرف سے
كَمَنْ
مانند اس شخص کے ہوسکتا ہے
هُوَ
وہ
خَٰلِدٌ
جو ہمیشہ رہنے والا ہے
فِى
میں
ٱلنَّارِ
آگ (میں)
وَسُقُوا۟
اور وہ پائے جائیں گے
مَآءً
پانی
حَمِيمًا
کھولتا ہوا
فَقَطَّعَ
تو وہ کاٹ دے گا
أَمْعَآءَهُمْ
ان کی آنتوں کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہو گا، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رب کی طرف سے بخشش (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہو گا، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رب کی طرف سے بخشش (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،

احمد علی Ahmed Ali

اس جنت کی کیفیت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے (یہ ہے) کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہو گی جو بگڑنے والا نہیں اور کچھ دودھ کی نہریں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلے گا اور کچھ نہریں ایسے شراب کی جو پینے والوں کے لیے خوش ذائقہ ہو گا اور کچھ نہریں صاف شہد کی اور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے میوے ہوں اوراپنے رب کی بخشش (کیا وہ) ان جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا سو وہ ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بد بو کرنے والا نہیں (۱) اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلہ (۲) اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے (۳) اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں (٤) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیگا (۵)

۱۵۔۱ آسن کے معنی متغیر یعنی بدل جانے والا غیر آسن نہ بدلنے والا یعنی دنیا میں تو پانی کسی ایک جگہ کچھ دیر پڑا رہے تو اس کا رنگ متغیر ہو جاتا ہے اور اس کی بو اور ذائقے میں تبدیلی آ جاتی ہے جس سے وہ مضر صحت ہو جاتا ہے جنت کے پانی کی یہ خوبی ہوگی کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہوگا یعنی اس کی بو اور ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب پیو تازہ مفرح اور صحت افزا جب دنیا کا پانی خراب ہو سکتا ہے تو شریعت نے اسی لیے پانی کی بابت کہا ہے کہ یہ پانی اس وقت تک پاک ہے جب تک اس کا رنگ یا بو نہ بدلے کیونکہ رنگ یا بو متغیر ہونے کی صورت میں پانی ناپاک ہو جائے گا ۔
۱۵۔۲ جس طرح دنیا میں وہ دودھ بعص دفعہ خراب ہو جاتا ہے جو گایوں بھینسوں اور بکریوں وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے جنت کا دودھ چونکہ اس طرح جانوروں کے تھنوں سے نہیں نکلے گا بلکہ اس کی نہریں ہوں گی اس لیے جس طرح وہ نہایت لذیذ ہوگا خراب ہونے سے بھی محفوظ ہوگا ۔
۱۵۔۳ دنیا میں جو شراب ملتی ہے وہ عام طور پر نہایت تلخ بدمزہ اور بدبودار ہوتی ہے علاوہ ازیں اسے پی کر انسان بالعموم حواس باختہ ہو جاتا ہے اول فول بکتا ہے اور اپنے جسم تک کا ہوش اسے نہیں رہتا جنت کی شراب دیکھنے میں حسین ذائقے میں اعلی اور نہایت خوشبودار ہوگی اور اسے پی کر کوئی انسان بہکے گا نہ کوئی گرانی محسوس کرے گا بلکہ ایسی لذت وفرحت محسوس کرے گا جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ۔ (وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِيْنٌ) 37۔ الصافات;48)۔ نہ اس سے چکر آئے گا نہ عقل جائے گی۔
۱۵۔٤ یعنی شہد میں بالعموم جن چیزوں کی آمیزش کا امکان رہتا ہے جس کا مشاہدہ دنیا میں عام ہے جنت میں ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا بالکل صاف شفاف ہوگا کیونکہ یہ دنیا کی طرح مکھیوں سے حاصل کردہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی بھی نہریں ہوں گی اسی لیے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی تم سوال کرو تو جنت الفردوس کی دعا کرو اس لیے کہ وہ جنت کا درمیانہ اور اعلی درجہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے ۔ صحیح بخاری۔ کتاب الجہاد۔
١٥۔۵ یعنی جن کو جنت میں وہ اعلٰی درجے نصیب ہونگے جو مذکور ہوئے کیا وہ ایسے جہنمیوں کے برابر ہیں جن کا یہ حال ہوگا؟ ظاہر بات ہے ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ایک درجات میں ہوگا اور دوسرا درکات (جہنم) میں۔ ایک نعمتوں میں دادو طرب و عیش لے رہا ہوگا، دوسرا عذاب جہنم کی سختیاں جھیل رہا ہوگا۔ ایک اللہ کا مہمان ہوگا جہاں انواع اقسام کی چیزیں اس کی تواضع اور اکرام کے لئے ہونگی اور دوسرا اللہ کا قیدی، جہاں اس کو کھانے کے لئے زقوم جیسا تلخ و کسیلہ کھانا اور پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی ملے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعده کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے واﻻ نہیں، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزه نہیں بدﻻ اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے واﻻ ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں تغیر نہیں ہوتا اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلتا اور ایسے شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہے اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو صاف شفاف ہے اور ان کیلئے وہاں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے کیا ایسے (پرہیزگار) لوگ ان لوگوں جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان کو ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس جنّت کی صفت جس کا صاحبانِ تقویٰ سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں کسی طرح کی بو نہیں ہے اور کچھ نہریں دودھ کی بھی ہیں جن کا مزہ بدلتا ہی نہیں ہے اور کچھ نہریں شراب کی بھی ہیں جن میں پینے والوں کے لئے لذّت ہے اور کچھ نہریں صاف و شفاف شہد کی ہیں اور ان کے لئے ہر طرح کے میوے بھی ہیں اور پروردگار کی طرف سے مغفرت بھی ہے تو کیا یہ متقی افراد ان کے جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہّنم میں رہنے والے ہیں اور جنہیں گرما گرم پانی پلایا جائے گا جس سے آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جس جنّت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی (بو یا رنگت کا) تغیّر نہ آئے گا، اور (اس میں ایسے) دودھ کی نہریں ہوں گی جس کا ذائقہ اور مزہ کبھی نہ بدلے گا، اور (ایسے) شرابِ (طہور) کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہے، اور خوب صاف کئے ہوئے شہد کی نہریں ہوں گی، اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی جانب سے (ہر طرح کی) بخشائش ہوگی، (کیا یہ پرہیزگار) ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا،