Skip to main content

سَيَـقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَـتْنَاۤ اَمْوَالُـنَا وَاَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَـنَا ۚ يَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَـيْسَ فِىْ قُلُوْبِهِمْۗ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَـكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـًٔــا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۗ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا

سَيَقُولُ
عنقریب کہیں گے
لَكَ
آپ کو
ٱلْمُخَلَّفُونَ
پیچھے چھوڑے جانے والے۔ پیچھے رہ جانے والے
مِنَ
سے
ٱلْأَعْرَابِ
بدوؤں میں (سے)
شَغَلَتْنَآ
مشغول کیا تھا ہم کو
أَمْوَٰلُنَا
ہمارے مالوں نے
وَأَهْلُونَا
اور ہمارے اہل و عیال نے
فَٱسْتَغْفِرْ
پس بخشش مانگیئے
لَنَاۚ
ہمارے لیے
يَقُولُونَ
وہ کہتے ہیں
بِأَلْسِنَتِهِم
اپنی زبانوں کے ساتھ
مَّا
جو
لَيْسَ
نہیں
فِى
میں
قُلُوبِهِمْۚ
ان کے دلوں (میں)
قُلْ
کہہ دیجیے
فَمَن
پس کون
يَمْلِكُ
مالک ہوگا
لَكُم
تمہارے لیے
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
شَيْـًٔا
کسی چیز کا
إِنْ
اگر
أَرَادَ
اس نے ارادہ کیا
بِكُمْ
تمہارے ساتھ
ضَرًّا
نقصان کا
أَوْ
یا
أَرَادَ
اس نے ارادہ کیا
بِكُمْ
تمہارے ساتھ
نَفْعًۢاۚ
نفع کا
بَلْ
بلکہ
كَانَ
ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعْمَلُونَ
تم عمل کر رہے ہو
خَبِيرًۢا
پورا باخبر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے نبیؐ، بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے اب وہ آ کر ضرور تم سے کہیں گے کہ "ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں" یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں ان سے کہنا "اچھا، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے نبیؐ، بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے اب وہ آ کر ضرور تم سے کہیں گے کہ "ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں" یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں ان سے کہنا "اچھا، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اب تم سے کہیں گے جو گنوار (اعرابی) پیچھے رہ گئے تھے کہ ہمیں ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں نے مشغول رکھا اب حضور ہماری مغفرت چاہیں اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں تم فرماؤ تو اللہ کے سامنے کسے تمہارا کچھ اختیار ہے اگر وہ تمہارا برا چاہے یا تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے، بلکہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،

احمد علی Ahmed Ali

عنقریب آ پ سے وہ لوگ کہیں گے جو بدویوں میں سے پیچھے رہ گئے تھے کہ ہمیں ہمارے اور اہل و عیال نے مشغول رکھا ہے آپ ہمارے لیے مغفرت مانگیئے وہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے کہدو وہ کون ہے جو الله کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا (کچھ بھی) اختیار رکھتا ہوگا اگر الله تمہیں کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے بلکہ الله تمہارے سب اعمال پر خبردار ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

دہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے رہ گئے پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے (۱) یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے، (۲) آپ جواب دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے (۳) یا تمہیں کوئی نفع دینا (٤) چاہے ، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے (۵)۔

۱۱ ۔۱ اس سے مدینے کے اطراف میں آباد قبیلے غفار مزینہ جہینہ اسلم اور وئل مراد ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھنے کے بعد جس کی تفصیل آگے آئے گی عمرے کے لیے مکہ جانے کی عام منادی کرا دی مذکورہ قبیلوں نے سوچا کہ موجودہ حالات تو مکہ جانے کے لیے ساز گار نہیں ہیں وہاں ابھی کافروں کا غلبہ ہے اور مسلمان کمزور ہیں نیز مسلمان عمرے کے لیے پورے طور پر ہتھیار بند ہو کر بھی نہیں جا سکتے اگر ایسے میں کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کر لیا تو مسلمان خالی ہاتھ ان کا مقابلہ کس طرح کریں گے اس وقت مکے جانے کا مطلب اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے چنانچہ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرے کے لیے نہیں گئے اللہ تعالٰی ان کی بابت فرما رہا ہے کہ یہ تجھ سے مشغو لیتوں کا عذر پیش کر کے طلب مغفرت کی التجائیں کریں گے ۔
۱۱۔۲ یعنی زبانوں پر تو یہ ہے کہ ہمارے پیچھے ہمارے گھروں کی اور بیوی بچوں کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں تھا اس لیے ہمیں خود ہی رکنا پڑا لیکن حقیقت میں ان کا پیچھے رہنا نفاق اور اندیشہ موت کی وجہ سے تھا
١١۔۳ یعنی اگر اللہ تمہارے مال ضائع کرنے اور تمہارے اہل کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لے تو کیا تم سے کوئی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اللہ کو ایسا نہ کرنے دے۔
۱۱۔٤ یعنی تمہیں مدد پہنچانا اور تمہیں غنیمت سے نوازنا چاہے تو کوئی روک سکتا ہے یہ دراصل مذکورہ متخلفین پیچھے رہ جانے والوں کا رد ہے جنہوں نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تو نقصان سے محفوظ اور منافع سے بہرہ ور ہوں گے حالا نکہ نفع وضرر کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔
١١۔۵ یعنی تمہیں تمہارے عملوں کی پوری جزا دے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل وعیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لئے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وه اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے ره گئے پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وه کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وه تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

صحرائی عربوں میں سے جو (سفرِ حدیبیہ میں) پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال اور اہل و عیال نے ہمیں مشغول رکھا (اس لئے آپ(ص) کے ہمراہ نہ جا سکے) تو آپ(ص) ہمارے لئے (خدا سے) بخشش کی دعا کیجئے! وہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے آپ(ص) کہیے! کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں تمہارے لئے کچھ اختیار رکھتا ہے؟ اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے یانفع پہنچانا چاہے بلکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

عنقریب یہ پیچھے رہ جانے والے گنوار آپ سے کہیں گے کہ ہمارے اموال اور اولاد نے مصروف کرلیا تھا لہٰذا آپ ہمارے حق میں استغفار کردیں. یہ اپنی زبان سے وہ کہہ رہے ہیں جو یقینا ان کے دل میں نہیں ہے تو آپ کہہ دیجئے کہ اگر خدا تمہیں نقصان پہنچانا چاہے یا فائدہ ہی پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اس کے مقابلہ میں تمہارے امور کا اختیار رکھتا ہے .حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

عنقریب دیہاتیوں میں سے وہ لوگ جو (حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے آپ سے (معذرۃً یہ) کہیں گے کہ ہمارے اموال اور اہل و عیال نے ہمیں مشغول کر رکھا تھا (اس لئے ہم آپ کی معیت سے محروم رہ گئے) سو آپ ہمارے لئے بخشش طلب کریں۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ (باتیں) کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔ آپ فرما دیں کہ کون ہے جو تمہیں اﷲ کے (فیصلے کے) خلاف بچانے کا اختیار رکھتا ہو اگر اس نے تمہارے نقصان کا ارادہ فرما لیا ہو یا تمہارے نفع کا ارادہ فرما لیا ہو، بلکہ اﷲ تمہارے کاموں سے اچھی طرح باخبر ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مجاہدین کی کامیاب واپسی
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلتے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہوجائیں گے بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آرہے ہیں تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو پہلے ہی سے خبردار کردیا کہ یہ بد باطن لوگ آکر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمان داری کے اظہار کے لئے یہ بھی کہہ دیں گے کہ حضرت آپ ہمارے لئے استغفار کیجئے۔ تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کرسکے ؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے ؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے، ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ (بورا) لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکٹھائے وہ اس کے لئے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔