الفتح آية ۱۸
لَـقَدْ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا ۙ
طاہر القادری:
بیشک اﷲ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، سو جو (جذبۂ صِدق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اﷲ نے معلوم کر لیا تو اﷲ نے ان (کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتحِ (خیبر) کا انعام عطا کیا،
English Sahih:
Certainly was Allah pleased with the believers when they pledged allegiance to you, [O Muhammad], under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquility upon them and rewarded them with an imminent conquest
1 Abul A'ala Maududi
اللہ مومنوں سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی
2 Ahmed Raza Khan
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا
3 Ahmed Ali
بے شک الله مسلمانوں سے راضی ہوا جب وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے پھر اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلو ں میں تھا پس اس نے ان پر اطمینان نازل کر دیا اور انہیں جلد ہی فتح دے دی
4 Ahsanul Bayan
یقیناً اللہ تعالٰی مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے (۱) ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کرلیا (۲) اور ان پر اطمینان نازل فرمایا (۳) اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔ (٤)
۱۸۔۱ یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لیے رضائے الہی اور ان کے پکے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے ۔
١٨۔۲ یعنی ان کے دلوں میں جو صدق و صفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ اکرام کا رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔
۱۸ ۔۳ یعنی وہ نہتے تھے جنگ کی نیت سے نہیں گئے تھے اس لیے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے اس کے باوجود جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ کا بدلہ لینے کے لیے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنی تامل سب لڑنے کے لیے تیار ہوگئے یعنی ہم نے موت کا خوف ان کے دلوں سے نکال دیا اور اس کی جگہ صبر و سکینت ان پر نازل فرما دی جس کی بنا پر انہیں لڑنے کا حوصلہ ہوا۔
۱۸۔٤ اس سے مراد وہی فتح خیبر ہے جو یہودیوں کا گڑھ تھا اور حدیبیہ سے واپسی پر مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
(اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی
6 Muhammad Junagarhi
یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی
7 Muhammad Hussain Najafi
بےشک اللہ مؤمنین سے راضی ہوا جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ(ص) سے بیعت کر رہے تھے تو اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا۔ پس اس نے ان پر سکون و اطمینان نازل کیا اور انہیں انعام میں ایک قریبی فتح عنا یت فرمائی۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
یقینا خدا صاحبانِ ایمان سے اس وقت راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کررہے تھے پھر اس نے وہ سب کچھ دیکھ لیا جو ان کے دلوں میں تھا تو ان پر سکون نازل کردیا اور انہیں اس کے عوض قریبی فتح عنایت کردی
9 Tafsir Jalalayn
(اے پیغمبر) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی
ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کو تم فتوحات کے ذریعہ حاصل کرو گے یہ یعنی خیبر کی غنیمت تو تم کو سردست عطا فرما دی اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے اہل و عیال کے بارے میں روک دیئے جب تم (حدیبیہ کے لئے) نکلے اور یہود نے تمہارے اہل و عیال کا قصد کیا کہ اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈالدیا اور تاکہ فوری طور پر عطا کی گئی یہ غنیمت (دوسرے وعدوں کے لئے) مومنین کی نصرت پر مومنین کے لئے نشانی ہو ولتکون کا عطف لتشکروہ مقدر پر ہے اور تاکہ وہ تم کو ایک سیدھے راستہ پر ڈالدے اور وہ (سیدھا راستہ) اس پر توکل کرنے اور معاملہ کو اس کے سپرد کرنے کا ہے اور تمہیں دوسری غنیمتیں بھی دے اخری مغانم مقدر مبتداء کی صفت ہے، جس پر تم نے (ابھی) قبضہ نہیں کیا ہے اور وہ فارس اور روم سے (حاصل ہونے والی غنیمتیں) ہیں اور وہ اللہ کے قابو میں ہیں یعنی اللہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ وہ عنقریب تم کو ملنے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے یعنی وہ اس صفت سے ہمیشہ متصف ہے اور حدیبیہ میں اگر کافر تم سے جنگ کرتے تو یقینا پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھر نہ وہ کار ساز پاتے کہ ان کی حفاظت کرے اور نہ مددگار اللہ کے دستور کے مطابق جو پہلے سے چلا آرہا ہے سنۃ مصدر ہے جو سابق جملہ کے مضمون کی تاکید کر رہا ہے اور وہ مضمون کافروں کی ہزیمت اور مومنین کی نصرت ہے، یعنی اللہ نے اپنا یہ دستور بنا لیا ہے اور تو کبھی اللہ کے دستور کو اس سے بدلتا ہوا نہ پائے گا اور وہ وہی ہے کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے عین مکہ حدیبیہ میں روک لیا، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غبہ دیدیا بایں طور کہ ان میں سے اسی نے تمہارے لشکر کو گھیر لیا تاکہ وہ تم پر (حملہ آور ہوں) ٹوٹ پڑیں، مگر وہ گرفتار کر لئے گئے، اور ان کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے ان کو معاف کردیا اور ان کو رہا کردیا اور یہی بات صلح کا سبب ہوئی اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے (تعملون) میں یاء اور تاء دونوں ہیں، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور تم کو شہر حرام سے یعنی وہاں پہنچنے سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی ان کی جگہ پہنچنے سے روکا حال یہ کہ وہ (قربانی کے لئے) وقف تھے یعنی اس جگہ پہنچنے سے روکا جہاں عام طور پر ہدی قربان کی جاتی ہے اور وہ حرم ہے، ان یبلغ الھدی سے بدل الاشتمال ہے اور اگر بہت سے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں کفار کے ساتھ (خلط ملط) مکہ میں موجود نہ ہوتے کہ جن کی صفت ایمان سے تمہارے بیخبر ہوین کی وجہ سے تمہارے ان کو کچل ڈالین کا احتمال نہ ہوتا یہ کہ تم ان کو کفار کے ساتھ قتل کردو گے، اگر تم کو فتح کی اجازت دیدی جاتی ان تطئوھم تعلموھم کی ضمیر ھم سے بدل ہے جس پر ان کی وجہ سیتم کو بھی بیخبر ی میں ضرر (ندامت) پہنچا، غائب کی ضمیریں دونوں صفت کے لئے ہیں (مذکر و مئونث کے لئے) مذکر کو غلبہ دیکر اور لولا کا جواب محذوف ہے اور وہ لاذن لکم فی الفتح ہے لیکن اس وقت فتح کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ اللہ مومنین مذکورین کے مانند جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے اور اگر یہ (مومنین) کفار سے الگ ہوتے تو ہم اس وقت مکہ کے کافروں کو درد ناک سزا دیتے اس طریقہ پر کہ ہم تم کو مکہ فتح کرنے کی اجازت دیدیتے جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت (تعصب) کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی اذجعل، عذبنا سے متعلق ہے الذین کفروا (جعل کا) ف اعل ہے حمیت، تکبر کی وجہ سے شدت کو کہتے ہیں، الجاھلیۃ حمیۃ سے بدل ہے اور ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو مسجد حرام پہنچنے سے روکتا ہے سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر سکنیت نازل فرمائی جس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس بات پر صلح کرلی کہ آئندہ سال آئیں گے اور جو حمیت کفار کو لاحق ہوئی وہ ان (اصحاب) کو لاحق نہیں ہوئی، حتی کہ ان سے قتال کرتے اور اللہ نے مومنین کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، اور تقویٰ کی اضافت کلمہ کی طرف اس لئے ہے کہ یہ کلمہ ہی تقویٰ کا سبب ہے اور وہ اس کلمہ کے کفار سے زیادہ حقدار اور اہل تھے، یہ عطف تفسیری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے، یعنی ہمیشہ اس صفت کے ساتھ متصف ہے، اور اللہ تعالیٰ کی معلومات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ (مومنین) اس (کلمہ) کے زیادہ اہل ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اذیبایعونک رضی کی وجہ سے محلامنصوب ہے اس لئے کہ اذزمانہ ماضی کے لئے ظرف ہے، اس کے بعد ہمیشہ جملہ واقع ہوتا ہے، حکایت حال ماضیہ کے طور پر (صورت مبایعت کے استحضار) کے لئے مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے اور تحت یبایعونک کا ظرف ہے۔
قولہ : سمر بروزن رجل ببول کا درخت، بعض حضرات نے کہا ہے کہ جھائو کے درخت کو کہتے ہیں ان لایفروا علی الموت بعض نسخوں میں من الموت ہے، مطلب ظاہر ہے کہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے، مفسر علام نے من کے بجائے علی لا کر اشارہ کردیا کہ ایک رویت میں یہ بھی ہے کہ بیعت موت پر ہوئی تھی، اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ بیعت ثابت قدمی و عدم فرار پر ہوئی تھی۔
قولہ : فعلم، علم کا عطف اذیبایعونک پر ہے، اب رہا یہ سوال کہ معطوف ماضی ہے اور عمطوف علیہ مضارع، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اذیبایعونک بھی ماضی کے معنی میں ہے، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔
قولہ : فانزل اس کا عطف رضی پر ہے۔
قولہ : ومغانم کثیرۃ اس کا عطف فتحا قریبا پر ہے۔
قولہ : وعدکم اللہ چونکہ مقام امتنان و احسان ہے، لہٰذا شرفخطاب سے نوازنے کے لئے غیبت سے خطاب کی طرف التفات فرمایا ہے یہ اہل حدیبیہ سے خطاب ہے۔
قولہ : من الفتوحات مفسر علامہ نے من الفتوحات کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ عطف مغایرت کے لئے ہے، مطلب یہ ہے کہ اول مغانم کثیرۃ سے جو کہ معطوف علیہ ہے غنائم خیبر مراد ہیں اور ثانی مغانم کثیرۃ سے جو کہ معطوف ہے، خیبر کے علاوہ کے مغانم مراد ہیں۔
قولہ : غنیمۃ خیبر اگر اس آیت کا نزول فتح خیبر کے بعد ہو جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو پوری سورت کا نزول حدیبیہ سے واپسی پر نہ ہوگا اور نزول فتح خیبر سے پہلے ہو تو یہ اخبار غیبیہ سے ہوگا اور مضای سے تعبیر تحقیق وقوع کی وجہ سے ہوگی اور یہ بات سابق میں گذر چکی ہے کہ پوری سورت حدیبیہ سے واپسی کے وقت عسفان کے قریب کراع الغمیم میں نازل ہوئی تھی۔
قولہ : فی عیالکم ای عن عیالکم، فی عیالکم، عنکم سے بدل ہے اس میں مضاف محذوف کی طرف اشار ہے۔
قولہ : اخری صفۃ مغانم مقدرا اخری مغانم محذوف کی صفت ہے، موصوف صفت سے مل کر مبتداء اور لم تقدروا علھا اس کی صفت ہے قداحاط اللہ بھا مبتداء کی خبر (جمل) مذکورہ ترکیب کے علاوہ چارترکیبیں اور ہیں، طوالت کے خوف سے ترک کردیا (جمل کی طرف رجوع کریں)
قولہ : اظفر علیھم، اظفر کا صلہ علی مستعمل نہیں ہے مگر چونکہ اظفر، اظھر کے عنی میں ہے اس لئے اس کا صلہ علی لانا درست ہے، مفسر علام نے اپنے قول فان ثمانین الخ سے اظفر بمعنی اظھر کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ : معرۃ بمعنی مکروہ، گناہ، ندامت
قولہ : جواب لولا محذوف لولا کا جواب محذوف ہے اور وہ لاذن لکم فی الفتح ہے، جیسا کہ مفسر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا ہے۔
قولہ : فانزل اللہ سکینتہ اس کا عطف مقدر پر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے کہ ای فضاقت صدور المسلمین واشتد الکرب علیھم فانزل اللہ سکینتہ
قولہ : لانھا سببھا اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے کلمۃ التقوی ای سبب التقوی اضافت ادنیٰ مناسبت کی وجہ سے ہے اور بعض حضرات نے تقویٰ سے پہلے اھل محذوف مانا ہے ای کلمۃ اھل التقوی یعنی اللہ نے اہل بدر کے لئے متقی لوگوں کا کلمہ پسند فرمایا۔
قولہ : اھلھا، احق بھا کا عطف تفسیر ہے۔
تفسیر و تشریع
لقد (رض) عن المومنین اذیبایعونک تحت الشجرۃ اس بیعت سے مراد بیعت حدیبیہ ہی ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ خوشخبری سنائی ہے کہ وہ ان لوگوں سے راضی ہوگیا جنہوں نے اس خطرناک موقع پر جان کی بازی لگا دینے میں ذرہ برابر تامل نہ کیا اور رسول کے ہاتھ پر سرفروشی کی بیعت کر کے اپنے صادق الایمان ہونے کا صریح ثبوت پیش کیا، ان کے اپنے اخلاص کے سوا کوئی خارجی دبائو ایسا نہ تھا جس کی بناء پر وہ اس بیعت کے لئے مجبور ہوتے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ایمان میں صادق اور مخلص اور رسول کی وفاداری میں حد درجہ کمال پر فائز تھے۔
صحابہ کے لئے سند خوشنودی :
اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کو سند خوشنودی عطا فرمائی اور اللہ کی سند خوشنودی عطا ہونے کے بعد اگر کوئی شخص ان سے بدگمان یا ناراض ہو یا ان پر زبان طعن دراز کرے تو اس کا معارضہ ان سے نہیں بلکہ اللہ سے ہے، بعض حضرات (مثلاً شیعہ) کا یہ کہنا کہ جس وقت اللہ نے ان کو سند خوشنودی عطا فرمائی تھی اس وقت تو یہ مخص تھے، مگر بعد میں یہ لوگ خدا اور رسول سے بےوفا ہوگئے، وہ شاید اللہ سے یہ بدگمانی رکھتے ہیں کہ اللہ کو ان حضرات کو سند خوشنودی عطا کرتے وقت ان کے آئندہ حالات کا علم نہ تھا جو کہ امتحن الہ قلوبھم للتقویٰ کے صریح خلاف اور متضاد ہے، یہ بشارتیں اور سند رضا و خوشنودی اس پر شاہد ہیں کہ ان سب حضرات کا خاتمہ ایمان اور اعمال مرضیہ پر ہوگا۔
صحابہ کرام پر زبان طعن وتشنیع بدبختی ہے :
جن خیار امت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے غفران و مغفرت کا اعلان فرما دیا، اگر انسے کوئی لغزش یا گناہ ہوا بھی ہے تو یہ آیت اس کی معافی کا اعلان ہے، پھر ان کے ایسے معاملات کو جو مستحسن نہیں ہیں غور و فکر اور بحث و مباحثہ کا میدان بنانا بدبختی اور اس آیت کے مخالف ہے، یہ آیت روا فض کے قول و عقیدے کی واضح تردید ہے، جو ابوبکر (رض) و عمر (رض) اور دوسرے صحابہ پر کفر و نفاق کا الزام لگاتے ہیں۔ (مظہری)
شجرہ رضوان :
حضرت نافع مولیٰ ابن عمر کی یہ روایت مشہور ہے کہ لوگ اس کے پاس جا جا کر نماز پڑھنے لگے تھے، حضرت عمر (رض) کو جب اس کا علم ہوا تو اس کو کٹوا دیا۔ (بقات ابن سعد : ج ٢ ص ٠٠١) مگر صحیحین میں ہے کہ حضرت طارق بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے لئے گیا تو راستہ میں گذار ایسے لوگوں پر ہوا جو ایک مقام پر جمے تھے اور نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان سے معلوم کیا یہ کونسی مسجد ہے تو انہوں نے کہا یہ وہ درخت ہے جس کے نیچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیعت رضوان لی تھی، میں اس کے بعد سعید بن مسیب کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس واقعہ کی ان کو خبر دی، انہوں نے فرمایا میرے والد صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو اس بیعت رضوان میں شریک ہوئے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہم جب اگلے سال مکہ مکرمہ میں حاضر ہوئے تو ہم نے وہ درخت تلاش کیا مگر اس کا پتہ نہ چلا، پھر سعید بن مسیب نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ جو خود اس بیعت میں شریک تھے ان کو تو پتہ نہیں لگا تمہیں وہ معلوم ہوگیا عجیب بات ہے ؟ کیا تم اس سے زیادہ وقف ہو۔ (روح المعانی، معارف)
اس سے معلوم ہوا کہ بعد میں لوگوں نے محض اپنے تخمینہ اور اندازہ سے کسی درخت کو معین کرلیا اور اس کے نیچے نماز پڑھنا شروع کردیا، فاروق اعظم کے علم میں یہ بات تھی کہ یہ درخت وہ نہیں ہے، اس کے علاوہ ابتلائے شرک کا خطرہ بھی لاحق تھا، جس کی وجہ سی اس درخت کو کٹوا دیا۔
خیبر درحقیقت ملک شام کے قریب ایک صوبہ کا نام ہے جس میں بہت سی بستیاں، قلعے اور باغات شامل ہیں، واٹا بھم فتحا قریبا اور فعجل لکھ ھذا میں فتح قریب اور نقد مال غنیمت سے فتح خیبر اور وہاں سے حاصل ہونے والا مال غنیمت مراد ہے، بعض روایات کے مطابق حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ کا قیام مدینہ منورہ میں صرف دس دن اور دوسری روایت کے مطابق بیس روز رہا اس کے بعد خیبر کے لئے روانہ ہوئے اور ابن اسحاق کی روایت کے مطابق آپ ٦ ھ ذی الحجہ کی آخری تاریخوں میں مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے اور ماہ محرم ٧ ھ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کے لئے روانہ ہوئے، حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے
10 Tafsir as-Saadi
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کردیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ” بیعت رضوان“ کہا جاتا ہے اور سے ” بیعت اہل شجرہ“ بھی کہتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لئے آئے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مشرکین مکہ نے قتل کردیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انہوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔
تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہوگیا، درآنحالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعہ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدردانی کے لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلح کے لئے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکنیت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا﴾ ” اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔“ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لئے جزا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدرومنزلت کے طور پر ان کو فتح خیبر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔
11 Mufti Taqi Usmani
yaqeenan Allah unn mominon say bara khush huwa jab woh darkht kay neechay tum say beyat ker rahey thay , aur unn kay dilon mein jo kuch tha woh bhi Allah ko maloom tha , iss liye uss ney unn per sakeenat utaar di , aur unn ko inaam mein aik qareebi fatah ata farma di ,
12 Tafsir Ibn Kathir
چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ حضرت عبدالرحمن نے واپس آکر یہ قصہ حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا پھر حضرت سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی زیادہ جاننے والے ہو۔ پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اور ماننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کرلیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔ یہ فتح وہ صلح ہے جو حدیبیہ کے میدان میں ہوئی جس سے عام بھلائی حاصل ہوئی اور جس کے قریب ہی خیبر فتح ہوا پھر تھوڑے ہی زمانے کے بعد مکہ بھی فتح ہوگیا پھر اور قلعے اور علاقے بھی فتح ہوتے چلے گئے۔ اور وہ عزت و نصرت و فتح و ظفر و اقبال اور رفعت حاصل ہوئی کہ دنیا انگشت بدنداں حیران و پریشان رہ گئی۔ اسی لئے فرمایا کہ بہت سی غنیمتیں عطا فرمائے گا۔ سچے غلبہ والا اور کامل حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے ندا کی کہ لوگو بیعت کے لئے آگے بڑھو روح القدس آچکے ہیں۔ ہم بھاگے دوڑے حاضر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوئے آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت ( لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا 18ۙ ) 48 ۔ الفتح :18) میں ہے۔ حضرت عثمان کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کرلی، تو ہم نے کہا عثمان بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کرلے گو کئی سال تک وہاں رہے۔